خاطر شکن ہیں اب تو مضامینِ اختلاف

شعبہ پاکستان

تحریر:ڈاکٹرطارق احمدمرزا۔آسٹریلیا

اختلاف ایک ایسی چیزہے جس سے پوری کائنات کاحسن قائم ہے۔عالمِ انسانی کا بھی یہی معاملہ ہے۔رنگ ،ناک نقشہ،نسل،زبان،نظریات،افکار اور سوچ کا اختلاف یعنی تنوع عالمِ انسانیت کو اس کا حسن عطاکرتے ہیں۔اور یہ امرِ ربی یا حکمتِ الہٰی کے تحت ہے جیسا کہ قرآن کریم میں بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ایک ہی مرد اورعورت سے پیدا ہونے کےباوجود اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو ذاتوں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا تاکہ آپس میں پہچان اور تعارف میں آسانی ہو (الحجرات)،اور بس۔وگرنہ اس کے نزدیک زیادہ عزت والا تو وہی ہے جو تقویٰ میں آگے ہو۔اسی طرح مذہبی دنیا کے بارہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا کہ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی شریعت پر قائم کردیتا (المائدہ) لیکن محض ایک آزمائش یا جانچ کی خاطر الگ الگ نظریات وعقائدکے بارہ میں انسان کو خود اپنی عقل اور فکر سے کام لینے کا موقع دیا گیا ہے۔یہاں بھی ساتھ یہ ارشاد فرمایاکہ تم جو بھی راستہ اپنے لئے اختیارکرو،مطمع النظر اور غرض یہ ہونی چاہئے کہ نیکیوں میں سبقت اختیارکرو۔باقی جو اختلافات ہیں تو ان کے بارہ میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہیں ان کی حقیقت سے مطلع فرمادے گا۔گویا دنیا میں انسان کو ان اختلافات کے بارہ میں “ٹینشن ” لینے کی چنداں ضرورت نہیں۔لیکن افسوس کہ تہتربرسوں میں وطن عزیز پاکستان میں جس طرح کے سماجی رویوں کو پروان چڑھایا گیا اس نے ایک ایسی عدم برداشت کے ماحول کو جنم دے ڈالا ہے جہاں اختلاف رائے کو قابل مؤاخذہ جرم سمجھا جانے لگ گیا ہے۔یہ رویہ سیاسی،مذہبی،جمہوری ،تعلیمی،معاشرتی ،نظریاتی ،قانونی ،حکومتی ،غرض زندگی کے ہر شعبہ کو اپنی آگ کی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ اختلاف رائے کو کہیں اکثریت کے جبر،انتہا پسندی،ہجومی تشدد کے ذریعہ دبا نے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی بنیادی انسانی حقوق کے منافی قوانین بناکر۔اور یہ سب کچھ جمہوریت کے نام پرکیاجاتاہے۔

جبکہ پاکستانی جمہوریت بقول شخصے اس مقام پر پہنچ گئی ہے جس میں دو بھیڑیوں اور ایک بھیڑ کے درمیان ووٹنگ کروائی جاتی ہے کہ رات کا کھانا کیاہونا چاہیئے۔پاکستانی سماج کے ان منفی معاشرتی اورنفسیاتی رجحانات کے ٹڈی دل نے ہمسایہ ملک بھارت کو بھی اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیا ہے لیکن وہاں کم از کم اتنا ضرور ہے کہ عدلیہ کے چوٹی کے جج اختلاف کو جرم،ملک وآئین سے غداری یا توہین عدالت قرار نہیں دیتے۔چنانچہ باخبر ذرائع کے مطابق 16 فروری 2020 کوسپریم کورٹ کے جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اختلاف کوجمہوریت کا’سیفٹی والو‘ قراردیتے ہوئے کہا کہ ” اختلاف کو ایک سرے سے ملک مخالف اور جمہوریت مخالف بتا دینا آئینی اقدار کے تحفظ اور ڈائیلاگ پر مبنی جمہوریت کو فروغ دینے کے تئیں ملک کے بنیادی خیال پر ضرب لگاتا ہے۔ جسٹس چندرچوڑ نے دو ٹوک کہا کہ آئین سازوں نے ہندو بھارت یا مسلم بھارت کے خیال کو سرے سے ہی مسترد کر دیا تھا۔ انہوں نے صرف ہندوستانی جمہوریت کو تسلیم کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ افکار کو دبانا ملکی ضمیر کو دبانا ہے۔ ان کا یہ حقیقت پسندانہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اورقومی آبادی رجسٹر(این پی آر) اور قومی شہریت رجسٹر(این آرسی) کے خلاف ملک کے تمام حصوں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہورہے تھے۔جسٹس چندرچوڑ نے یہ بھی کہا کہ اختلاف روکنے کے لئے سرکاری مشینری کا استعمال خوف کا احساس پیدا کرتا ہے جو قانون کی بالادستی کے خلاف ہے۔

جسٹس چندرچوڑ نے یہ کہا کہ اختلاف کا تحفظ کرنا یہ یاد دلاتا ہے کہ جمہوری طور پر ایک منتخب حکومت ہمیں ترقی اور سماجی رابطوں کے لئے ایک جواز فراہم کررہی ہے، وہ ان اقدار اورشناخت پر کبھی اجارہ داری کا دعویٰ نہیں کر سکتی جو ہماری تکثیری معاشرے کو بیان کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف روکنے کے لئے سرکاری مشینری کو استعمال کرنا خوف پیدا کرتا ہے اور آزادانہ امن پر ایک ڈراؤنا ماحول پیدا کرتا ہے جو قانون کی بالادستی کیخلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ سوال کرنے کی گنجائش کو ختم کرنا اور اختلاف کو دبانا تمام طرح کی پیش رفت سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی بنیاد کو متزلزل کرتا ہے، کیوں کہ اختلاف جمہوریت کی روح ہے اور اس کے لیے ”سیفٹی والو‘ ہے۔ جسٹس چندرچوڑ نے یہ بھی کہا کہ اختلاف کو خاموش کرانا اور لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا ہونا انفرادی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔ غور طلب ہے کہ جسٹس چندرچوڑ اس بنچ کا حصہ تھے، جس بنچ نے یوپی میں سی اے اے کے خلاف مظاہروں کے دوران عوامی املاک کو نقصان پہنچانے والوں سے معاوضہ وصول کرنے کے ضلع انتظامیہ کی طرف سے مبینہ مظاہرین کو بھیجی گئی نوٹس پر جنوری میں ریاستی حکومت سے جواب مانگا تھا “۔

https://www.sahilonline.net/ur/blanket-labelling-of-dissent-as-anti-national-hurts-ethos-of-democracy-justice-chandrachud

اسی طرح سے بھارتی سپریم کورٹ کے جسٹس دیپک گپتا نے اظہار رائے اور غداری کے قانون کے موضوع پراحمد آباد میں تقریب سے خطاب ایک تقریب میں کہا تھاکہ عدلیہ پر تنقید توہین عدالت نہیں اور نہ ہی مقننہ ، عدلیہ مسلح افواج پر تنقید غداری کے زمرے میں آتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا کرنے لگ جائیں تو یہ تمام ادارے ریاست کی پولیس بن جائیں گے اور ان پر بات کرنے والا کوئی نہیں ہوگا، اگر تنقید مثبت ہو تو عدلیہ اور ریاست کے دیگر ادارے بھی اپنی خامیاں درست کرسکتے ہیں ،تاہم ان کا زور تھا کہ عدلیہ تنقید سے مبرانہیں کئی فیصلے تنقید کے بعد درست ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا اگر عدالتیں توہین عدالت پر مقدمات چلانا شروع کردیں تو پھر عدلیہ میں کوئی کام ہی نہ ہو صرف توہین عدالت کے مقدمات کی بھرمار ہو، انہوں نے بی جے پی کے لیڈر اور ایک صحافی کے مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک رپورٹ میں صحافی نے انتہائی غیر مہذب زبان استعمال کی دیگر قوانین کی تمام حدیں بھی توڑ دیں مگر یہ جرائم کا ایک مقدمہ ضرور تھا مگر غداری کا بالکل نہیں۔ جسٹس دیپک گپتا نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر تنقید تمام قوانین اخلاقیات اور دیگر چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کی جائے تو یہ صحت مند معاشرے کے لئے اشد ضروری ہے، اس کے بغیر معاشرے میں شدید گھٹن پیدا ہو جائے گی،نہ تو سوچ کے نئے افق جنم لیں گے ، نہ نئی سوچ اپنا راستہ اختیار کرے گی نہ ہی نئی راہیں اور نئے راستے کھلیں ۔تنقید سوچ کو دوسرا رخ دکھانے کے لئےانتہائی ضروری ہے۔

بحوالہ روزنامہ جنگ

https://jang.com.pk/news/678263-topstory

انصاف پسند ذہنیت اور عادلانہ سوچ کا یہ نمونہ تو لائن کے اِس پارمبینہ ” نئے پاکستان “میں نظرآنا چاہیئے تھا۔لیکن افسوس ،کہ بقولِ شاعر ؎

دلداریاں کہاں ہیں وہ ساحؔرکبھی جو تھیں

خاطر شکن ہیں اب تو مضامین ِ اختلاف

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *