خواجہ حسن نظامی دہلوی کا سفرنامہ پاکستان

شعبہ انٹرنیشنل

برصغیرکی مشہورتاریخی،علمی اورادبی شخصیت،شمس العلماء خواجہ حسن نظامی صاحب بانی انجمن مشائخ ہند نے سنہ 1950 میں پاکستان کے دودورے کیئے تھےاور اپنے سفرکے حالات کتابی شکل میں شائع فرمائے۔قارئین کی خدمت میں اس سفرنامہ کےتین دلچسپ، سبق آموز اور فکرانگیز اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں جو کسی تبصرہ کے محتاج نہیں۔

تحریر: : ڈاکٹرطارق احمدمرزا۔آسٹریلیا

مولانا سرظفراللہ خان

مولانا سرظفراللہ خان صاحب وزیرخارجہ پاکستان میرے بہت پرانے دوست ہیں اور ان کی علمیت اور اسلامی جراءت کومیرے دل پر ہمیشہ سے نقش ہے۔انہوں نے مجھ کو میرے لڑکے حسین کے ساتھ چاء کے لئے بلایا تھا۔میں نے ان سے اسلامی ملکوں کی نسبت بہت سوالات کئے اور انہوں نے ذاتی تجربوں کی بنا پر بہت اچھے جوابات دئے۔مگر نہ انہوں نے کوئی سیاسی بات کی نہ میں نے ان کی حکومت کی پالیسی کی بابت کوئی گفتگو کی۔اور میں ممنون ہوا کہ جب میں نے ان سے ذکر کیا کہ میں ہمیشہ محمد بن قاسم کی برسی منایاکرتا ہوں جو شعبان میں ہوتی ہے ، اب چونکہ وہ تاریخ کراچی میں آئی ہے تو ارادہ ہے کہ یہاں بھی وہ برسی کروں۔انہوں نے کہا کہ مجھے اس سے اختلاف ہے،اب آپ کو کوئی کام ایسا نہ کرنا چاہیئے جس سے آپ کی حکومت کو آپ سے اختلاف پیدا ہو۔دوراندیشی کا یہ مشورہ بہت زیادہ قابل قدر تھا۔اور دوسرا اثرمجھ پر یہ ہوا کہ وہ ان سیاسی خودغرضیوں سے پاک ہیں جو آج کل ساری دنیا کے سیاسی لوگوں پر چھائی ہوئی ہیں۔”( پاکستان کا سفرنامہ از خواجہ حسن نظامی۔ مطبوعہ دہلی پرنٹنگ ورکس۔ نومبر 1952۔ صفحہ 13،14 )

جماعت احمدیہ کا جلسہ سیرت النبی ﷺ

دہلی میں قادیانی جماعت کے لوگ جب سیرت نبوی ﷺ پرجلسہ کرتے تھے تو مجھے صدربناتے تھے اور اس سلسلے میں مجھ پر حملے بھی ہوتے تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ جامع مسجد دہلی کے سامنے پریڈ کے میدان میں جلسہ ہوا اور میں نے صدارت کی اور جمیعت علماء کے لوگوں نے مجھ پر حملہ کیا اور دوسری طرف عربک کالج دہلی میں جلسہ قرارپایااور میں نے صدارت کا وعدہ کرلیا۔وہاں گیا تو معلوم ہوا کہ جلسہ گاہ بدل گئی ہے مگر احراری پارٹی وہاں موجود تھی۔اس نے مجھ پرحملہ کیا۔ میراگلا گھونٹا،داڑھی کھینچی،چہرے پر تھوکا۔اس وقت میری موٹر میں بمبئی کے گجراتی اخبار”بے گھڑی سوچ” کے ایڈیٹر بھی تھے۔موٹرکے باہر مولانا اسماعیل عشقی نظامی نے ان لوگوں کو مارنا شروع کیا اور ایک آدمی نے دس بارہ کو ماربھگادیا۔تھوڑی دیرمیں پولیس آگئی اور اس نے مجھ سے پوچھاکن لوگوں نے حملہ کیاتھا۔میں نے کہاکسی نے حملہ نہیں کیا۔میں پولیس کی امداد نہیں چاہتا۔مفتی شوکت فہمی صاحب پولیس کولائے تھے،انہوں نے کہا آپ ایسی درگزرکریں گے توہمیں پبلک کام کرنا مشکل ہو جائے گا۔میں نے جواب دیا قرآن ارشاد فرماتا ہے کہ”مومن وہ ہیں جو غصے کو پی جائیں اور لوگوں کی خطاؤں کو معاف کردیں”،اس لیئے میں کسی سے انتقام لینا نہیں چاہتا۔کراچی میں بھی قادیانی جماعت نے جلسہ کرناچاہاتومجھے صدارت کے لئے بلایا۔میرے مریدوں نے کہا یہاں عوام کی فضا خراب ہے،صدارت مناسب نہیں ہے۔میں نے کہا رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وسلم) کا ذکرجو بھی کرے گا میں وہاں سننے کے لئے جاؤں گا۔ چنانچہ میں وہاں گیا اور صدارت کی۔

بہت بڑا جلسہ تھا

ہندؤں اورعیسائیوں کی تقریروں پر تبصرے بھی کئے کیونکہ اس کی ضرورت تھی۔مگر ایک قادیانی مولانا نے تقریر کی تومیں نے اس پر تبصرہ نہیں کیا،کیونکہ میرااصول یہ ہے کہ غیرمسلم مداحوں کی ہمت افزائی کرتا ہوں ۔قادیانی جماعت کے اراکین شیخ اعجاز احمد صاحب (علامہ اقبال کے بھتیجے۔ناقل)اور چوہدری بشیراحمدصاحب بھی وہاں ملے تھے”۔(ایضاً:ص 76،75)

گورنرجنرل کی ٹی پارٹی ایک کپ چاءاور دو بسکٹ

شام کو (11 دسمبر1950۔ ناقل) ٹینس میچ کے اراکین اور بیرونی مہمانوں کو اورگورنرجنرل کو لاہور کے شہریوں کی طرف سے ایک بڑی ٹی پارٹی دی گئی تھی۔ میری نشست کے قریب بیگم فدا حسین صاحب کمشنرلاہوربھی بیٹھی تھیں،خان بہادرمیاں عبدالعزیز صاحب فلک پیما وغیرہ اکابر بھی وہاں تھے۔پارٹی میں صرف چاء کی ایک پیالی اوردوبسکٹ دئے گئے۔میں خوش تھا کہ پاکستان نے خدا کے حکم پرتوجہ کی۔ کیونکہ قرآن میں خدا نے فرمایا ہے کہ” کھاؤ اور پیو مگر فضول خرچی نہ کرو کیونکہ فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہوتے ہیں۔میں یہ خیال کرہی رہا تھا کہ میرے قریب کھڑے ہوکر ایک شخص نے انگریزی میں کہا ،جس کے سامنے لاؤڈ سپیکر بھی تھا ،جس سے میں نے یہ بات سمجھی کہ کمشنر صاحب کی بیوی اب کچھ تقریر کریں گی۔ ۔ ۔ بیگم صاحبہ نے کھڑے ہوکر نہایت فصیح وبلیغ اور شستہ و شائستہ اردو زبان میں تقریر کی اور کہا کہ ہم نے اس پارٹی کے لئے پچیس ہزارروپے جمع کئے تھے اور ہم چاہتے تھے کہ اس پارٹی میں کھانے کی اتنی چیزیں جمع کریں جوپاکستان کے شایان شان ہوں۔ مگر ہم نےصرف چاء کی ایک پیالی اور دو بسکٹ دیئے اور بچاہوا روپیہ ان لوگوں کے لئے رکھ دیا جو گزشتہ سیلاب کی مصیبت کے سبب تباہ وپریشان ہو گئے ہیں”۔ (ایضاً:ص 88،89)

وے صورتیں الٰہی کِس مُلک بستیاں ہیں

اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *