کیا مستقبل میں بوسہ لینا، مصافحہ کرنا یا بغل گیر ہونا معیوب سمجھا جائے گا؟

شعبہ انٹرنیشنل

کسی بھی عام ہفتے میں ہمارے لیے یہ گننا مشکل ہوتا ہے کہ ہم کتنی بار دوسرے انسانوں سے جسمانی رابطے میں آئے۔بہت سارے افراد کے لیے جو کووڈ 19 کے دور میں علیحدہ اور تنہا رہ رہے ہیں، یہ ان کی زندگی کا طویل ترین عرصہ ہوسکتا ہے جس میں وہ اتنے دنوں تک کسی انسان سے لمسی رابطے کے بغیر رہے ہوں۔ہم ان دنوں انسانوں کے درمیان جو انتہائی فاصلے دیکھ رہے ہیں امید کہ وہ ایک غیر مستقل تبدیلی ہو۔ لیکن چونکہ اب زیادہ تر ممالک اپنے لاک ڈاؤن کو ختم کر رہے ہیں تو ہمارے سامنے یہ پریشانی ہے کہ ہم عام زندگی کی طرف کس طرح لوٹیں اور کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ ملیں جلیں کہ ہم محفوظ بھی رہیں اور کسی کے جذبات کو ٹھیس بھی نہیں پہنچائیں۔کئی مہینوں سے ہم سماجی دوری قائم رکھنے کی مشق کر رہے ہیں اور ایک دوسرے سے کم سے کم دو میٹر دور رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ ہم عوامی مقامات پر سطحوں اور چیزوں کو چھونے اور کھانسنے اور چھینکنے سے گریز کر رہے ہیں۔شائستگی اور محبت کے جذبات کے مظہر زندگی بھر کے سیکھے گئے معاشرتی اصولوں کے تجربے کو ختم کرنا مشکل رہا ہے: بہت ساری ثقافتوں میں جب ہم نئے لوگوں کا استقبال کرتے ہیں تو ان سے مصافحہ کرتے ہیں، جن سے بہت قریب ہوتے ہیں ان سے بغل گیر ہوتے ہیں اور جس کو مدد کی ضرورت ہوتی ہے اس کے لیے حقیقی معنوں میں ہاتھ بڑھاتے ہیں۔ اب ہم ایک بار پھر باہر جانے کی تیاری کر رہے ہیں جہاں ان تمام عادات کو روکنا پڑ سکتا ہے! فرانسیسیوں کا ہوائی بوسہ مرض کے پھیلنے کا سبب ہوسکتا ہے۔ اطالویوں کا پرجوش خیرمقدم ممکنہ طور پر زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ اب چھونے والے طور طریقے شاید قابل قبول نہ ہوں اور اس کے ساتھ ہم نے جو جسمانی رابطے کے طور طریقے سیکھے ہیں ان میں بھی تبدیلی رونما ہو سکتی ہے۔آکسفورڈ یونیورسٹی میں ارتقائی نفسیات کے پروفیسر رابن ڈنبار کہتے ہیں کہ یہ سب مشکل ہوگا۔ان کے مطابق ’جسمانی لمس اس طریقہ کار کا ایک حصہ ہے جسے ہم اپنے تعلقات، دوستی اور خاندانی رشتے قائم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔‘ یہ سب پرائمیٹس کی حیثیت سے ہماری قدیم تاریخ کا حصہ ہے جس میں کھال کو چھیڑنے سے ہمارے دماغ میں اینڈورفن سسٹم متحرک ہوتا ہے اور جس کی وجہ سے ہم میں گرم جوش اور مثبت احساسات پیدا ہوتے ہیں۔اور جب ہم نئے معمول کو اپنانے کی کوشش کریں گے تو ہو سکتا ہے کہ اس سے ہمارے اندر الجھن اور تشویش پیدا ہو۔مانچسٹر بزنس سکول میں آرگنائزیشنل سائیکالوجی اور صحت کے پروفیسر کیری کوپر کا کہنا ہے کہ ’لمسی طور پر چھونے یا لوگوں کے کانوں میں پھسپھسانے جیسی چیزیں تھوڑے عرصے کے لیے غائب ہو جائیں گی اور اس کے نتیجے میں کمیونیکیشن قدرے پیچیدہ ہو جائے گی۔ لوگ چیزوں کی غلط تشریح کر سکتے ہیں کیونکہ آپ کے پاس سمجھانے کے لیے اشارے نہیں ہوں گے۔‘

ہم سب سے زیادہ تبدیلی مصافحہ کرنے کے معاملے میں دیکھ سکتے ہیں کیونکہ بہت سی شہ سرخیوں میں اس کے وجود پر سوال اٹھایا جا رہا ہے

تاہم ہم پہلے ہی ایسے طریقوں پر غور کر رہے ہیں جس میں ہم اس نئی دنیا میں کام کر سکتے ہیں اور لاک ڈاؤن کے دوران ہم ٹیلی ویژن کے پروگراموں سے بہت کچھ سیکھ رہے ہیں۔ دنیا بھر کے شوز میں یہ نظر آ رہا ہے کہ شو کے میزبان ایک دوسرے سے فاصلہ رکھ کر بیٹھے ہوئے اور دور رہنے کی اہمیت کو اجاگر کر رہے ہیں۔پورٹس متھ یونیورسٹی کی ایریکا ہیوز کا کہنا ہے کہ ’ہر کوئی حقیقت میں ایک دوسرے سے الگ ہونے کے باوجود ایک ساتھ ہونے کا تصور پیش کر رہا ہے۔‘ اس کے برعکس جب ہم سماجی دوری سے پہلے کے تیار کردہ پروگرامز دیکھتے ہیں تو ہمیں اس تبدیلی کا احساس ہوتا ہے۔شراب خانے، نائٹ کلبوں اور شاپنگ سنٹرز میں نظر آنے والے ہجوم کے مناظر دیکھتے ہی ہمیں ایک جھٹکا لگتا ہے اور عجیب و غریب ردعمل سامنے آتا ہے جو اس بات کا غماز ہے کہ ہمارا دماغ سماجی دوری کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو رہا ہے اور اس کی نئی وائرنگ ہو رہی ہے۔یہ ایک ایسی وسیع تر پریشانی کی عکاسی کرتا ہے جو معاشرتی رابطے میں واپسی کے خطرات کے بارے میں پوری دنیا میں پائی جاتی ہے۔ رائے عامہ کی ایک تحقیق کے مطابق صرف سات فیصد برطانوی وائرس مکمل طور پر نہ ختم ہونے کی صورت میں بھی بند کاروبار کو دوبارہ کھولنا چاہتے ہیں جبکہ 70 فیصد نے سختی سے معمول پر واپس جانے کی مخالفت کی ہے۔ 60 فیصد آسٹریلوی اور امریکی، کینیڈا کے 70 فیصد لو‏گ، فرانس اور برازیل کے 50 فیصد لوگ اور 40 فیصد چینی اس وائرس سے نمٹنے تک معاشرے کو دوبارہ کھولنا نہیں چاہتے ہیں۔ماہرِ نفسیات بھاونا جانی نیگاندھی کا کہنا ہے ’حالیہ وبا نے ہماری ہر چیز کو بدل دیا ہے، خاص طور پر اس بارے میں کہ ہم معاشرتی طور پر کیسے جڑے رہ سکتے ہیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’لوگوں نے اس چیلنج کو قبول کیا ہے اور تخلیقی طریقوں سے معاشرتی روابط کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے لیکن یہ مختلف رہا اور نئے سماجی طور طریقوں کو اپنانا مشکل ہو سکتا ہے۔‘ اب زندگی میں آنے والی بہت ساری تبدیلیوں کو ’بے مثال‘ کہا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر فرانس کے وزیر صحت نے کووڈ 19 کی وجہ سے شہریوں کو بوسہ لینے سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ لیکن ہم پہلے بھی ایسی چیزیں دیکھ چکے ہیں۔ اس سے قبل 15 ویں صدی میں انگلینڈ میں بادشاہ ہنرین ششم نے بوبونک طاعون کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بوسہ لینے پر پابندی عائد کردی تھی۔انفیکشن کا شکار کسی قریبی شخص سے بے رخی کا تاریک پہلو بھی ہو سکتا ہے۔ جب ایچ آئی وی یا ایڈز پہلی بار سامنے آیا اور جس میں اس کے مثبت نتائج سامنے آئے ان کو بدنامی کے داغ کے طور پر دیکھا گیا۔ بہت سے لوگوں کو خدشہ تھا کہ اگر وہ ایچ آئی وی یا ایڈز کے مریض سے ہاتھ ملائیں گے تو انھیں بھی یہ بیماری لگ سکتی ہے حالانکہ اس بات کے مکمل شواہد تھے کہ یہ انفیکشن جنسی طور پر منتقل ہوتا ہے۔اسی تناظر میں شہزادی ڈیانا نے سنہ 1987 میں لندن کے مڈل سیکس ہسپتال میں ایچ آئی وی یا ایڈز کے لیے زیر علاج ایک مریض سے مصافحہ کیا تھا تاکہ اس بدنامی کے داغ سے نمٹا جا سکے۔اسی طرح ٹی بی یا تپ دق کے مریضوں کے ساتھ دنیا بھر میں مختلف سلوک روا رہے ہیں جس میں ان سے زیادہ سے زیادہ دوری بنانا بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ جذام کے مرض والوں کو سماج سے باہر کیے جانے کی لمبی تاریخ رہی ہے لیکن وقت گزرنے ساتھ اور غلط باتیں پھیلانے والوں کے کے خلاف مہم کے نتیجے میں رویوں میں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جیسے اب بہت سے لوگ کسی ایچ آئی وی پازیٹو کو گلے لگانے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرتے۔اگر کورونا وائرس کی متوقع ویکسین سامنے آتی ہے اور ہمارے فوری گھریلو ’ماحول‘ سے باہر کے لوگوں کے ساتھ جسمانی رابطے محفوظ ہو جاتے ہیں تو ہمارے نئے رویے کتنے دیرپا رہیں گے؟

شہزادی ڈیانا نے 1987 میں لندن کے مڈل سیکس ہسپتال میں ایچ آئی وی یا ایڈز کے لیے زیر علاج ایک مریض سے مصافحہ کیا تھا

ڈنبار کہتے ہیں ’مجھے شبہ ہے کہ مستقبل قریب میں کوئی تبدیلی آئے گی لیکن وقت کے ساتھ اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔‘ ابتدائی خوف اور قریبی ذاتی رابطے سے تنفر ممکنہ طور پر ان طریقوں کی جگہ لے گا جو ہم نے پیدائش کے بعد سے ہی اپنایا ہے۔ہم سب سے زیادہ تبدیلی مصافحہ کرنے کے معاملے میں دیکھ سکتے ہیں کیونکہ بہت سی شہ سرخیوں میں اس کے وجود پر سوال اٹھایا جا رہا ہے۔ لیکن ڈبر کا کہنا ہے کہ ابھی یہ قبل از وقت ہوسکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ہم میں اس طرح سرایت کر چکے ہیں، لوگوں کا مصافحے کے لیے ہاتھ نہ بڑھانا مشکل ہوگا۔اس سے کوپر بھی متفق ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’مجھے مستقبل قریب میں مصافحہ کا متبادل نظر نہیں آتا ہے۔ بہت سے مختلف طریقے اپنائے گئے ہیں جن میں پاؤں کا چھونا اور کہنی ٹکرانا، لیکن چونکہ یہ کرنا خلاف فطرت ہے اس لیے یہ زیادہ دنوں تک نہیں چل سکتا ہے۔اگر خوش آمدید کہنے کے کم رابطے والے طریقے اپنائے جاتے ہیں تو بھی جو ہم کھو رہے ہیں اس کا غم کم نہیں ہو سکے گا۔ ہیوز کے لیے یہ مشکل رہا ہے کہ جب وہ گروسری کی خریداری کر رہی ہوتی ہیں اور کوئی شناسا ان کو نظر آ جائے تو وہ اس کے پاس جا کر اس سے نہ ملنے کی اپنی خواہش کو نہیں دبا پاتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’اس حد کو عبور نہ کر پانا ہیمشہ تکلیف دہ ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ ہمیں ایسا نہیں کرنا ہے۔‘ اگرچہ وہ اسے کسی دوست کو کھونے کے غم کے مترادف تو نہیں مانتیں لیکن اسے تعلق کے درمیان کسی اہم چیز کے کھونے جیسا کہتی ہیں۔وہ کہتی ہیں ’میرے خیال سے ہم اس احساس کو کھو رہے کہ جب آپ قدرتی طور پر کسی کو گلے لگنا چاہتے تو اس وقت کیا کریں۔‘ اور نامعلوم کا خوف یعنی پوشیدہ خطرہ ہمیں ان پریشان کن جذبات کا احساس دلاتا رہے گا۔جانی نیگاندھی کا کہنا ہے کہ ’ہم اس وبائی مرض کے اپنے تجربے اور انفرادی طور پر اس کے اثرات کے زیر اثر دوسروں کے ساتھ اپنے میل جول کے طریقے میں تبدیلی لا سکتے ہیں اور محتاط انداز اختیار کرسکتے ہیں۔لیکن اس سے پہلے کہ ہم احساس زیاں کا ماتم کریں یہ سوچنا اہمیت کا حامل ہے کہ ہم اس سے کیا حاصل کرسکتے ہیں۔ شاید پہلا بوسہ زیادہ پر اثر احساس ہوگا کیونکہ اس کی اپنی نئی اہمیت ہوگی۔ ہوائی جہاز جو منافع کمانے کے لیے کھچاکھچ بھرے ہوتے ہیں وہ زیادہ قابل برداشت ہوں جب جگہ کے متعلق نئے قواعد رقم کیے جائیں۔ کس کو کندھے دینے کے لیے بغل گیر ہونا زیادہ اہمیت کا حامل ہوگا جب آپ یہ سوچیں گے کہ آپ کس سے بغل گیر ہو رہے ہیں اور اس طرح کسی کے کندھے پر شفقت سے ہاتھ رکھنے کی اہمیت زیادہ ہوگی۔ہیوز ایک ایسے مستقبل کی پیش گوئی کرتی ہیں جس میں ہم اپنے سماجی گروہوں کو کئی دائروں میں منقسم کریں گے۔ اس میں ایک اندرونی دائرہ ہوگا جس میں وہ لوگ ہوں گے جنھیں ہم چھونے کو تیار ہیں اور ایک بیرونی حلقہ ہے جس کے متعلق ہم محتاط ہوں گے۔ وہ کہتی ہیں ’جب آپ کو کسی کو چھونا پڑے تو آپ کو اس کی قدر ہوگی۔ مغربی معاشرے میں جو کچھ ہے وہ اس سے بڑھ جائے گا اور واضح طور پر یہاں جو علیک سلیک ہے اس کی مزید تصدیق ہو جائے گی۔‘

لمسی طور پر چھونے یا لوگوں کے کانوں میں پھسپھسانے جیسی چیزیں تھوڑے عرصے کے لیے غائب ہو جائیں گی

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ تبدیلی بہت آسان ہوں گی۔ ہیوجز کا کہنا ہے کہ ’یہ دل دوز ہوگا۔ بہت ساری ثقافتوں کے پاس رابطے کے واقعی خوبصورت طریقے ہیں جن میں چھونے جیسی چیز شامل نہیں ہے۔ لیکن گلے لگانے یا گالوں کے بوسے جیسی بڑی چیز کو بدلنے کے لیے میرے خیال میں ایک نئی کوریوگرافی کی ضرورت ہوگی۔‘ ہیوز جو جنوبی امریکہ سے تعلق رکھتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ ملنے کے متبادل طریقے ہمارے یہاں موجود ہیں۔ وہ جب اپنے والدین سے ملنے کے لیے اپنے گاؤں گاڑی چلا کر کے جاتی ہیں تو لوگ راستے میں ہاتھ اور سر ہلاتے نظر آتے ہیں اور انھیں ایسا لگتا ہے ان کا گھر خوش آمدید کہہ رہا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ شاید آپ کو کار سے باہر نکالنا پڑے۔‘ جسمانی رابطے کی کمی کے بارے میں پریشان ہونے والوں کے لیے ڈنبر کے پاس چند امید افزا الفاظ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’چھونا جسمانی تعلق کے اظہار کا واحد طریقہ نہیں ہے۔ ہمارے پرائمیٹ آبا کے ارتقانے ہمیں دوسروں کے ساتھ تعلق محسوس کرنے کے اور بھی نئے طریقے بتائے ہیں جو اینڈورفنس کو متحرک کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ چیزیں ہنسی، گانا، ناچنا، کہانیاں سنانا، مذہبی رسومات وغیرہ جیسی چیزیں ہیں۔ اور یہ وہ چیزیں ہیں جو ہم اپنی روزمرہ معاشرتی زندگی میں استعمال کرتے ہیں۔‘ لہذا اگر ہم ابھی کچھ وقت تک جسمانی رابطے کے متعلق محتاط رہیں لیکن جسمانی طور پر دور رہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم قریب محسوس نہیں کرسکتے ہیں۔

(بشکریہ بی بی سی اُردو)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *