شہنشاہ جارج پنجم کی تعریف میں علامہ اقبال کا قصیدہ

شعبہ انٹرنیشنل

تحریر:ابو نائل

مشہور فلاسفر اور ریاضی دان برٹرنڈ رسل سے ایک انٹرویو کے آخر پر انٹرویو لینے والے نے سوال کیا کہ فرض کریں کہ آج سے ایک ہزار سال کے بعد لوگ اس انٹرویو کو سنیں تو مستقبل کے لوگوں کے لئے آپ کا کیا پیغام ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں مستقبل کی انسانیت کو دو پیغام دینا چاہوں گا۔ ایک تو عقل و دانش کا پیغام یہ دینا چاہوں گا کہ جب آپ کسی چیز یا فلسفے کا مطالعہ کر رہے ہوں تو اپنے آپ سے یہ سوال کریں کہ حقائق کیا ہیں اور حقائق سے کیا سچائی ظاہر ہوتی ہے؟

 کبھی اپنی سوچ کا رخ اس طرف نہ مڑنے دیں کہ آپ کس چیز پر یقین کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ صرف یہ دیکھیں کہ حقائق کیا ہیں؟ اور اخلاقی پیغام یہ دیناچاہوں گا کہ محبت کرنا دانشمندی ہے اور نفرت کرنا بیوقوفی ہے۔ یہ دنیا اب ایک دوسرے سے قریب سے قریب تر ہوتی جا رہی ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کو برداشت کرنا سیکھنا ہو گا۔ ہمیں اس حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا کہ کچھ لوگ ایسی باتیں کہیں گے جنہیں ہم پسند نہیں کرتے۔ یہ چیز اس سیارے پر انسانی زندگی کو جاری رکھنے کے لئے نہایت ضروری ہے۔

اس کالم کو پڑھنے کے لئے ان دونوں مشوروں پر عمل کرنا ہو گا۔ بلاشبہ تاریخ میں علامہ اقبال کی شخصیت ایک قد آور شخصیت ہے۔ لیکن یہ تاریخ کا المیہ ہے کہ جب ہم ایک شخصیت سے متاثر ہوتے ہیں یا اس کے خلاف جذبات رکھتے ہیں تو اصل شخصیت کو بھول کر ایک فرضی شخصیت بنا کر اس پر اپنی محبت نچھاور کرنا شروع کر دیتے ہیں یا اسے اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ علامہ اقبال کے منسوخ شدہ کلام میں ایک طویل نظم بھی شامل ہے جو ملکہ وکٹوریہ کے انتقال پر ان کی تعریف میں لکھی گئی تھی۔ ایک اور قصیدہ کا ذکر مختلف کتابوں میں ملتا تھا جو کہ شہنشاہ جارج پنجم کی شان میں لکھا گیا تھا۔ اور ان کتب میں یہ قصیدہ نا مکمل صورت میں درج ہے۔

اس کے بارے میں ”پاکستان کی سیاسی تاریخ جلد 5 مصنفہ زاہد چوہدری صاحب کے صفحہ 242 پر لکھا ہے کہ جب 1918 میں پورے پنجاب میں تحریک خلافت کی وجہ سے انگریزوں کے خلاف تحریک چل رہی تھی اور حکومت فوجیوں کے لئے جبری بھرتی کر رہی تھی تو نواب ذوالفقار علی خان صاحب کے کہنے پر علامہ اقبال نے شہنشاہ جارج پنجم کو مخاطب کر کے ایک قصیدہ لکھا تھا۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ جب یہ قصیدہ لکھا گیا تو اس وقت پنجاب پر مائیکل او ڈائر گورنر مقرر تھا۔

♦ مائیکل اور ڈائر کے عہد میں ہی جلیانوالہ باغ کا واقعہ ہوا تھا۔ اس قصیدہ کا عنوان ”پنجاب کا جواب“ تھا۔ اور علامہ اقبال نے یہ قصیدہ یونیورسٹی ہال میں ایک مشاعرے میں پڑھا تھا۔ یہاں ایک بات کی درستی ضروری ہے اور وہ یہ کہ تاریخی طور پر پہلی جنگ عظم کے دوران پنجاب یا ہندوستان سے جبری فوجی بھرتی نہیں ہوئی تھی بلکہ یہ سب فوجی اپنی مرضی سے اچھی تنخواہ اور مراعات کے لئے فوج میں شامل ہوئے تھے۔ ان فوجیوں میں بڑی تعداد میں مسلمان بھی شامل تھے حالانکہ ترکی کی سلطنت عثمانیہ اس وقت برطانیہ کے خلاف جرمنی کے اتحادی کے طور پر شامل تھی۔

پھر زاہد چوہدری صاحب بغیر حوالے کے غلام رسول مہر صاحب کی کسی تحریر کا حوالہ دیتے ہیں کہ انہوں نے لکھا ہے کہ گورنر پنجاب مائیکل او ڈائر نے جنگی تنظیمات کے سلسلے میں دیگر تقریبات کے علاوہ مشاعرے بھی منعقد کرائے تھے۔ اور 1918 میں گورنر نے خاص طور پر علامہ اقبال سے نظم لکھنے اور مشاعرے میں آنے کی فرمائش کی تھی۔ زمانہ ایسا نازک تھا کہ اس فرمائش کو ٹالنے کی کوئی صورت نہیں تھی۔ چنانچہ علامہ اقبال نے یہ نظم لکھی اور مشاعرے میں خود جا کر پڑھی۔ اور یہ نظم اخبار وکیل میں بھی شائع ہوئی۔ اسی کتاب میں عبد المجید سالک صاحب کی یہ روایت بھی درج ہے کہ اگر علامہ اقبال یہ نظم نہ لکھتے تو حکومت کی گرفت میں آجاتے اور نتیجہ بھی کچھ نہ نکلتا۔

اس کتاب میں یہ نظم نا مکمل صورت میں تو درج ہے۔ لیکن کوشش تھی کہ علامہ اقبال کا لکھا ہوا یہ قصیدہ مکمل صورت میں دستیاب ہو جائے اور تصدیق بھی ہو جائے کہ علامہ اقبال نے اسے لکھا تھا کہ نہیں۔ چنانچہ برٹش لائبریری میں جائزہ لیا گیا۔ وہاں Sir Muhammad Iqbal Papersکے نام سے جو فائل موجود ہے، اس میں یہ قصیدہ مکمل اور شائع شدہ حالت میں موجود تھا۔ لیکن معین سال کا علم نہیں ہو سکتا۔ نیچے یہ الفاظ درج ہیں:

A poem in praise of King George V، by Sir Muhammad Iqbal۔ Lahore (1911)

ضروری نہیں کہ اسے پڑھ کر کوئی منفی رائے ہی قائم کی جائے۔ ایک تاریخی حقیقت کے طور پر اس کا مطالعہ کرنا کافی ہو گا۔

اعلیٰ حضرت ملک معظم کے پیغام کا جواب پنجاب کی طرف سے

از نتائج افکار جناب ڈاکٹر شیخ محمد اقبال

اے تاجدار خطہ جنت نشان ہند

روشن تجلیوں سے تیری خاوران ہند

محکم تیرے قلم سے نظام جہان ہند

تیغ جگر شگاف تیری پاسبان ہند

ہنگامہ وغا میں سر میرا قبول ہو

اہل وفا کی نذر محقر قبول ہو

تلوار تیری دہر میں نقاد خیر و شر

بہروز جنگ توز جگر سوز سینہ در

رایت تیری سپر کا سرمایہ ظفر

آزادہ پرکشادہ پری زادہ یم سپر

سطوت سے تیری پختہ جہاں کا نظام ہے

ذرے کا آفتاب سے اونچا مقام ہے

آزادی زبان و قلم ہے اگر یہاں

سامان صلح دیر و حرم ہے اگر یہاں

تہذیب کاروبار امم ہے اگر یہاں

خنجر میں تاب تیغ میں دم ہے اگر یہاں

جوکچھ بھی ہے عطائے شہ محترم سے ہے

آباد یہ دیار تیرے دم قدم سے ہے

وقت آگیا ہے کہ گرم ہو میدان کارزار

پنجاب ہے مخاطب پیغام شہر یار

اہل وفا کے جوہر پنہاں ہوں آشکار

معمور ہو سپاہ سے پنہاے روزگار

تاجر کا زر ہو اور سپاہی کا زور ہو

غالب جہاں میں سطوت شاہی کا زور ہو

دیکھے ہیں میں نے سینکڑوں ہنگامہ نبرد

صدیوں رہا ہوں میں اسی وادی کا لورد

طفل صغیر میں ہی میرے جنگاہ میں مرد

ہوتے ہیں ان کے سامنے شیروں کے رنگ زرد

میں نخل ہوں وفا کا محبت ہے پھل میرا

اس قول سے ہے شاہد عادل عمل میرا

ہندوستان کی تیغ ہے فتاح ہشت باب

خونخوار لالہ باب جگر دار برق تاب

بے باک تابناک گہرپاک بے حجاب

دلبند۔ ارجمند۔ سحرخند۔ سیم ناب

یہ تیغ دلنواز اگر بے نیام ہو

دشمن کا سر ہو اور نہ سودائے خام ہو

اہل وفا کا کام ہے دنیا میں سوز و ساز

بے نور ہے وہ شمع جو ہوتی نہیں گداز

پردے میں موت کے ہے نہاں زندگی کا راز

سرمایہ حقیقت کبریٰ ہے یہ مجاز

سمجھو تو موت ایک مقام حیات ہے

قوموں کے واسطے یہ پیام حیات ہے

اخلاص بے غرض ہے صداقت بھی بے غرض

خدمت بھی بے غرض ہے اطاعت بھی بے غرض

عہد وفا مہر و محبت بھی بے غرض

تخت شہنشہی سے عقیدت بھی بے غرض

لیکن خیال فطرت انسان ضرور ہے

ہندوستان پہ لطف نمایاں ضرور ہے

جب تک چمن کی جلوہ گل پر اساس ہے

جب تک فروغ لالہ احمر لباس ہے

جب تک نسیم صبح عنادل کو راس ہے

جب تک کلی کو قطرہ شبنم کی پیاس ہے

قائم رہے حکومت آئین اسی طرح

دبتا رہے چکور سے شاہیں اسی طرح

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *