برطانوی جاسوسوں کو خطرات سے نمٹنے کیلئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی ضرورت ہوگی

لندن (پی اے) ایک انٹیلی جنس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جی سی ایچ کیو کے احکامات پر تیار کی گئی رپورٹ، جس تک بیشتر انٹیلی جنس کمیونٹی کی رسائی تھی، برطانوی جاسوسوں کو مختلف خطرات سے نمٹنے کیلئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے استعمال کی ضرورت ہوگی۔ مخالفین ممکنہ طور پر اس ٹیکنالوجی کو سائبر سپیس اور سیاسی نظام پر حملوں کیلئے استعمال کرسکتے ہیں، ایسے حملوں کا سراغ لگانے اور انہیں روکنے کیلئے اے آئی کی ضرورت پیش آئے گی۔ تاہم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اے آئی کے ذریعے اس بات کی پیشگوئی کرنا مشکل ہوگا کہ ان حملوں مثلاً دہشتگردی میں کون ملوث ہے اور انسانی فیصلوں کو تبدیل نہیں کیا جا سکے گا۔ رپورٹ برٹش انٹیلی جنس تک بے مثال رسائی کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈسروسز انسٹی ٹیوٹ (آر یو ایس آئی) نے یہ دلیل بھی دی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے نئی پرائیویسی اور انسانی حقوق پر غور کا موقع حاصل ہو سکے گا، جس کیلئے نئی گائیڈ لائن کی ضرورت ہوگی۔ RUSI نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بلا شبہ برطانوی مخالفین اے آئی استعمال کرتے ہوئے برطانیہ پر حملے کرنا چاہیں گے جس میں صرف ریاستیں ہی نہیں بلکہ کرمنلز بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ میں دلیل دی گئی ہے کہ اے آئی کا مقابلہ اے آئی کے ذریعے ہی ہو سکے گا۔ اے آئی کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو صرف گنجائش سے زیادہ انفارمیشن سے نمٹنے کیلئے ہی ضرورت نہیں پیش آئے گی بلکہ مصنوعی ذہانت استعمال کرتے ہوئے برطانیہ پر ہونے والے حملوں سے نمٹنے کیلئے بھی مصنوعی ذہانت کی ضرورت ہوگی۔ تھنک ٹینک کے ایک مصنف الیگزینڈر بابوٹا نے کہا ہے کہ اس امر کے امکانات بہت زیادہ ہیں کہ بد نیتی پر مبنی اداکار برطانیہ پر مختلف طریقوں سے حملے کریں، ایسی صورت میں انٹیلی جنس کمیونٹی کو مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر دفاعی اقدامات کی ضرورت ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *