دبئی کے شیخ محمد نے بیٹیوں کو اغوا کیا، بیوی کو دھمکایا، برطانوی ہائی کورٹ

تحریر: فرینک گارڈنر بی بی سی کے سکیورٹی امور کے نامہ نگار

اغوا، مرضی کے خلاف واپس لے جانا، تشدد اور دھمکانے کی مہم۔ یہ دبئی کے ارب پتی حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم پر ان کی سابقہ اہلیہ شہزادی حیال بنت الحسین کی طرف سے لگائے جانے والے وہ الزامات ہیں جو جمعرات کو برطانیہ کی ایک ہائی کورٹ میں درست قرار پائے اور سلسلہ وار شائع کیے گئے۔

عدالت نے آٹھ ماہ پہلے شروع ہونے والے اس مقدمے کا فیصلہ شہزادی حیا کے حق میں سنایا جو گزشتہ برس اپنے دو بچوں کے ساتھ دبئی سے فرار ہو کر لندن پہنچی تھیں۔ انہوں نے اپنے دوستوں سے کہا تھا کہ ان کی زندگی خطرے میں ہے۔

شیخ محمد نے اس مقدمے کے فیصلے کی اشاعت پر پابندی لگوانے کی کوشش کی تھی لیکن عدالت نے اسے عوامی مفاد میں قرار دیتے ہوئے ان کی درخواست مسترد کر دی۔ دبئی کے حکمران کے بارے میں کہا گیا کہ ’انہوں نے عدالت کے سامنے پورا سچ نہیں بولا۔‘

عدالت نے گواہوں کے بیانات سننے کے بعد قرار دیا کہ شیخ محمد اپنی ایک اور شادی سے دو بیٹیوں کے اغوا اور جبری دبئی واپسی کے ذمہ دار ہیں۔

شیخہ شمسہ برطانیہ کے علاقے سرے میں اپنی خاندانی رہائشگاہ سے سن 2000 میں فرار ہوئی تھیں لیکن انھیں شیخ کے ایجنٹوں نے کیمبرج شائر میں پکڑ لیا اور بیہوش کر کے دبئی لے گئے جہاں وہ اب بھی اپنی مرضی کے خلاف رہ رہی ہیں۔ کیمبرج شائر پولیس کی طرف سے ان سے ملاقات کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔

شیخہ لطیفہ نے سن 2002 اور 2018 اپنے والد کے خاندان سے فرار ہونے کی ناکام کوششیں کیں۔ پہلی کوشش کے بعد ان کے والد نے انہیں تین سال تک دبئی میں قید رکھا۔ دوسری کوشش کے دوران انہیں انڈیا کی ساحلی حدود کے قریب سے پکڑا گیا تھا اور وہ اس کے بعد سے دبئی میں اپنے گھرمیں نظر بند ہیں۔ جج نے شیخ لطیفہ کی طرف سے ایک وڈیو میں لگائے گئے الزامات کو درست قرار دیا۔ جج نے کہا کہ شیخ محمد کی حکومت میں ان دونوں خواتین کی آزادی چھین لی گئی ہے۔

شہزادی حیا اور شیخ محمد

اردن کی45 سالہ شہزادی حیا ملک کے سابق حکمران شاہ حسین کی بیٹی ہیں۔ ان کی سن 2004 میں 70 سالہ شیخ محمد سے شادی ہوئی تھی اور وہ ان کی چھٹی اور سب سے کم عمر بیوی تھیں۔ ان کے 7 اور 11 سال کے دو بچے ہیں۔

شروع شروع میں تو ان کا خیال تھا کہ دونوں شہزادیاں جیسا کہ انہیں بتایا جا رہا تھا محفوظ ہیں۔ لیکن 2019 کے شروع میں شہزادی حیا کو شک ہونے لگا۔ اس دوران ان کے اپنے برطانوی باڈی گارڈ سے بھی تعلقات قائم ہو گئے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ اس دوران شیخ محمد کی طرف سے ان کو دھمکانے کی ایک مہم شروع ہو گئی اور دو بار ان کے سرہانے پستول ملا جس کا سیفٹی کیچ کھلا ہوا تھا۔ ایک بار ان کے گھر کے باہر ہیلی کاپٹر بھی اترا اور ان کو کہا گیا کہ انہیں صحرا میں ایک جیل میں لے جایا جائے گا۔

جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ’سن 2018 کے بعد سے باپ نے ماں کے ساتھ دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا ہے اور دوسروں کو بھی ان کی طرف سے ایسا ہی رویہ اختیار کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔

شہزادی حیا کا فرار

شہزادی حیا اپریل 2019 میں اپنے دونوں بچوں کے ساتھ برطانیہ آ گئی تھیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ انہیں شیخ محمد کی طرف سے دھمکیاں مل رہی تھیں جن سے وہ خوفزدہ ہو گئی تھیں اور انہیں یہ بھی خطرہ تھا کہ ان کے بچوں کو زبردستی دبئی لے جایا جائے گا۔

شہزادی نے عدالت کو بتایا کہ مئی 2019 میں انہیں کہا گیا تھا کہ ’تم اور تمہارے بچے کبھی بھی انگلینڈ میں محفوظ نہیں رہیں گے‘ اور انہوں نے نظم بھی شائع کی جس کا عنوان تھا ’تم جی، تم مر گئی۔‘

یہ فیصلہ اور ان میں قبول ہونے والے الزامات شیخ محمد کے لیے بہت شرمندگی کا باعث ہیں۔ شہزادی حیا کو تو دنیا میں زیادہ لوگ نہیں جانتے لیکن شیخ محمد عالمی سطح پر مشہور شخصیت ہیں خاص طور پر گھڑ سواری کی دنیا میں۔ وہ ’گوڈولفن‘ نامی اصطبل کے بانی اور مالک ہیں۔

ان کی برطانیہ کی ملکہ کے ساتھ تصاویر موجود ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں ان کا بڑا نام ہے۔ انھوں نے دبئی کو عالمی سیاحت اور تجارت کا مرکز بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

برطانوی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے تعریف کی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *