بلوچ تاریخ کے آئینے میں

(میر ظہیر حسین بلیدی از تاریخ بلوچستان، بلوچ قبائل)

بلوچ نسلاً عربی ہیں۔ لفظ بلوچ کو مختلف ادوار میں مختلف اقوام نے “بعل”، “بلوچ، بلوص، بلوس، بلوش، بعوث، بیلوث، بیلوس اور بعلوس لکھا اور استعمال کیا ہے اہل بابل اپنے قومی دیوتا کو بال(بعل) عظیم کہا کرتے تھے یونانیوں نے اسے بیلوس کہا، عہد قدیم میں لفظ بلوچ کو بعلوث اور بیلوث لکھا جاتا تھا، اس کے بعد یہ لفظ بیلوس اور بعلوس کے طور پر تحریر و بیان میں آتا رہا، عرب اسے بروج، بلوص اور بلوش ادا کرتے ہیں اور ایرانی اسے بلوچ لکھتے اور بولتے ہیں۔ ہمارے یہاں ایرانی لفظ بلوچ رائج ہے۔

اصل میں لفظ بلوص ہے جسے عربوں نے بلوش اور ایرانیوں نے بلوچ لکھا اہل ایران” ص” ادا نہیں کرسکتے اس لیے انھوں نے “ص” کو “چ” سے بدل کر اسے بلوچ کی صورت عطا کی اور عربوں نے “ص” کو “ش” سے بدلا بلیدی قبیلا بیلوص کی شاہی اولاد ہے۔

ملک خطی خان سنجرانی بلوچ

سردار ملک خطی خان 1480 ء کو چاغی کے علاقے میں سردار شاہ پسند خان کے ہاں پیدا ہوئے، وہ ابھی چھوٹے تھے کہ ان کا والدایرانی حملہ آوروں کے ساتھ معرکہ میں شہید ہوئے، ایران کے طرف سے بزرگ زادہ بہمن کے سربراہی میں ایرانی لشکر نے محمد حسنی بلوچوں پر حملہ کر دیا، بلوچ ہونے کے ناطے سردار شاہ پسند خان نے بھی اپنے لوگوں کے ہمراہ ایرانیوں کے خلاف جنگ کرتے ہوئے شہادت کا مقام اپنایا.

ملک خطی خان نے اپنے چچا جہاں خان کے ہاں جو اس وقت سیاہ دک میں مقیم تھا آغا نور محمد خاروئی سے تعلیم حاصل کی اور تقریبًا 14 سال بعد واپس اپنے علاقے آکر سرداری سنبھال لی اپنے منتشر قبیلہ کو متحد ومنظم کیا .

ملک خطی خان (اصل نام لطیف خان) کو سرداری  سنبھالے ابھی زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ انہی دنوں بادشاہ ہند ہمایوں سے تخت چھن گیا اور وہ کمک اور پناہ کی خاطر سندھ و بلوچستان کے راستے چھپتے چھپاتے ایران کی طرف عازم سفر ہوا، اسی اثناء مرزا کامران جو اس وقت ہند کا بادشاہ تھا کی طرف سے ملک خطی خان حاکم چاغی کو خلعت و تحائف کے ساتھ ایک فرمان ملا، جس میں لکھا تھا کہ اگر ہمایوں ادھر سے گزرے تو اسے گرفتار کرکے ہمارے حضور پیش کیا جائے اور ساتھ ہی بے حد انعامات اور نوازشوں کا وعدہ کیا گیا تھا۔

اتفاق دیکھیے … کہ ہمایوں… کسمپرسی اور در بدری کی حالت میں ایران سے امداد و تعاون کے حصول کی خاطر نوشکی (ڈاک) کے رستے علاقہ چاغی میں داخل ہوا اور سردار خطی خان کے دادا جہاں بیگ خان کے قلعہ کے سامنے خیمہ زن ہوا اس کے ساتھ کچھ خدام بھی تھے۔

ہمایوں کے ایک منصبدار کی بیوی جو بلوچی زبان جانتی تھی قلعہ کے اندر داخل ہوئی اور ملک خطی خان کی بیگم ماہ ناز کی خدمت میں حاضر ہوکر اسے پورہ حال سنایا اور امداد و حفاظت کی درخواست کی.

ملک خطی خان کو جب یہ معلوم ہوا کہ ہمایوں میرے قبضے میں ہے تو اپنے لوگوں سے مشورہ کیا کہ اگر ہمایوں کو کامران کے حوالہ کیا جائے تو انعام و اکرام بھی ملے گا اور اس کی خوشنودی بھی حاصل ہوگی اور اگر ہمایوں کو جانے دیاجائے تو کامران کے ساتھ دشمنی اور غیظ و غضب سے واسطہ پڑے گا.

مشاورت کے بعد ملک خطی خان اور اس کے ذی وقار ساتھیوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ ایک مظلوم، بے خانماں اور تخت سے محروم بادشاہ ہمایوں کو ہر گز گرفتار نہیں کریں گےاور کامران کا جہاں تک معاملہ ہے(ہرچہ بات بادا) جوکچھ ہوا بعد میں دیکھا جائیگا…

ملک خطی خان ایک عظیم بلوچ کی حیثیت سے ہمایوں کے خیمہ میں ہمایوں سے ملاقاتی ہوا اور اسے تسلی دی کہ جمع خاطر رکھیں آپ نے ہمارے ہاں پناہ لی ہے آپ ہمارے معزز مہمان ہے…. ہم بلوچ لوگ ہیں اور ہمیں اپنی روایات بے حد عزیز ہیں، اگرچہ ہمیں کامران کی طرف سے آپ کی گرفتاری کے احکامات مل چکے ہیں، مگر ہم سیم و زر کی لالچ میں آپ کے ساتھ بد اخلاقی کرکے اپنی شاندار روایات کو داغدار نہیں کریں گے… ہم کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھائیں گے کہ ہماری آنے والی نسلیں ہماری وجہ سے شرمندہ ہوں… اور تاریخ میں ہم ہمیشہ کے لیے رسوا ہوجائیں…. آپ بتادیں ہم آپ کی کیا مدد کرسکتے ہیں؟

روایت ہے کہ ملک خطی خان نے پچیس دن تک ہمایوں کو مہماں رکھا، اس کی تمام ضروریات پوری کیں اور اس کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کے لیے محافظ مامور کیے اور رخت سفر کے علاوہ بے شمار گھوڑے اور اونٹ بھی اس کے ساتھ کیے اور اپنی ذاتی حفاظت اور نگرانی میں ہمایوں کو ملک سیاہ یا سیاہ کوہ کے قریب سیستان میں دیوان چاہ کے مقام پر ناروئی، ریکی اور اسماعیل زئی بلوچوں کے جملہ سرداروں کو بلاکر مجلس کی.. احوال کیا اور ان سے امداد و حفاظت کا بلوچی قول لے کر ہمایوں کو ان کے سپرد کیا جنہوں نے کرمان کے راستے طہران تک اسے عزت و تکریم کے ساتھ پہنچایا .

ایران سے واپسی پر ہمایوں نوکنڈی اور دالبندین کے راستے سے چاغی میں ملک خطی خان سے ملاقات کی اور ملک خطی خان نے درہ بولان کے راستے سبی میں ہمایوں کو سردار چاکر خان رند (جو اس وقت بلوچستان کا بادشاہ تھا) کے حوالہ کیا،….

بالآخر میر چاکر خان رند کے بلوچ فوج کی امداد و معاونت سے ہمایوں دوبارہ دہلی کا تخت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا… ہمایوں نے بلوچوں کے اس عظیم کمک بہادری اور مہربانی کے صلے میں بلوچوں کو دہلی کے نواح اور پنجاب کے مختلف مقامات پر بڑی بڑی جاگیریں عطا کیں اور اس طرح بلوچوں کی بڑی تعداد بلوچستان سے نکل کر ہندوستان اور بالخصوص پنجاب میں بھی آباد ہو گئے…

گویا ملک خطی خان نے ہمایوں کو پناہ اور اس کی امداد رہنمائی کرکے تاریخ میں نہ صرف اپنا نام روشن کیا بلکہ پوری بلوچ قوم کو بھی سرخرو و سرفراز کر دیا۔

ملک خطی خان کا اصل نام لطیف خان تھا چونکہ وہ ایک عالم شخص تھا اور بقول سردار ہاشم خان کے وہ نہایت خوشخط بھی تھا تو اس نسبت سے اس کا نام خطی خان مشہور ہوا.

سردار خطی خان جب ضعیف ہو گئے اور اپنی زندگی میں اپنے بیٹے سرفراز خان کی دستار بندی کرکے قوم کا سردار بنایا.

قریب نوے سال کے عمر میں سردار خطی خان اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *