آسٹریلیاکےسکولوں میں 200 سال سے جاری مذہبی تقرریوں کا خاتمہ

منظروپس منظر

تحریر: ڈاکٹرطارق احمدمرزا۔آسٹریلیا

گزشتہ برس یعنی 2019 ء کے اختتام سے پہلے پہلے آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا کے تمام سرکاری سکولوں میں مذہبی مددگاروں کی روایتی تعیناتی کانظام ختم کردیا گیا۔

اس سے چند سال پیشتر آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ میں بھی اسی قسم کے اقدامات کا نفاذکردیاگیاتھا۔دیگر ریاستیں بھی اس ضمن میں قانون سازی کا سوچ رہی ہیں۔

ان مددگاروں کو سکول چیپلَین (Chaplain) کہا جاتا ہے۔ان کا کام رسمی درس و تدریس نہیں ہوتا،یہ محض طلباء وطالبات کی اخلاقی،نفسیاتی اورمعاشرتی نگہداشت، فلاح وبہبوداور انہیں لاحق کسی بھی قسم کے غیرنصابی مسائل میں چارہ گری،رہنمائی اوررہبری یعنی کونسلنگ سروس فراہم کرتے ہیں۔

سکول چیپلین پر یہ پابندی عائد کی جاتی ہے کہ وہ طلباء کو کسی مخصوص مسلک یا مذہب کی تبلیغ یا ترغیب نہیں دیں گے تاہم ان کےلئے لازمی ہے کہ وہ کسی چرچ سےسندیافتہ اور منسلک ہوں۔اصولی اور قانونی طورپرچیپلین مسیحی، مسلمان، یہودی،بدھ ،یاہندووغیرہ بھی ہوسکتے ہیں لیکن تاریخی طورپر عموماً یہ مسیحی ہی ہوتے ہیں۔

سکولوں کے علاوہ ہسپتالوں اور عسکری اداروں میں بھی چیپلین تعینات کئے جاتے ہیں۔

آسٹریلیا جب نیا نیا برطانوی نوآبادی بنا تو حکومت کے پاس اتنے وسائل نہ تھے کہ وہ یہاںتعلیمی ادارے قائم کرسکے۔ اس بات کا سہرا ابتدائی عیسائی مشنریوں کے سر ہی جاتا ہے جنہوں نے آسٹریلیا میں بچوں کے لئے سکول کالج اور ہوسٹل وغیرہ قائم کئے ۔کہاجاتا ہے کہ سب سے پہلا کرسچیئن مشن سکول 1797 ء میں ایک پادری ریورنڈ رچرڈ جانسن نے قائم کیا جو نیو ساؤتھ ویلز حکومت کے لئے بطور چیپلین کام کرتا تھا۔ اس سے قبل وہ سڈنی میں قائم کردہ ایک ایسے سکول کی نگرانی پر مامور تھا جس کی عمارت محض ایک جھونپڑی پر مشتمل تھی اوروہ ” جھگی سکول” (Hut School) کہلاتا تھا۔

1880 ء میں جب ہر ایک لئے رسمی تعلیم قانوناً لازمی قرار دے دی گئی تو پبلک یعنی سرکاری سکولوں کے قیام کی بھی ابتداکر دی گئی۔تاہم ان سکولوں میں چرچ سے منسلک کم از کم ایک چیپلین کی تقرری لازمی قراردی گئی جسے حکومت کی طرف سے اب تک تنخواہ ملا کرتی تھی۔

نئے قانون کے تحت گو کہ نصابِ تعلیم کو سیکولررکھا گیا تھا لیکن سکولوں میں مذہبی تعلیمات کی روزانہ کلاس ٹائم ٹیبل میں شامل رکھی گئی تھی۔اس کا مقصد طالب علموں کی اخلاقی، ذہنی اور روحانی نشو نما تھی تاکہ وہ ایک اچھا شہری بن سکیں ۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا کے اولین سفید فام آباد کاروں کی اکثریت ان سزایافتہ مجرموں پر مشتمل تھی جنہیں برطانیہ کی جیلوں میں جگہ کم پڑجانے کی وجہ سے یہاں لایا گیا تھا۔ان کی اصلاح اورتعلیم وتربیت کے لئے دینی تعلیمات کا سہارالیا گیا۔ان افراد کی ایک خاصی تعداد کومحض افلاس کی وجہ سےمجبور ہوکر چھوٹے موٹے جرائم کے ارتکاب ، مثلاً ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا ،دودھ کی بوتل،مکئی کا بُھٹا ، رومال یا جوتی وغیرہ چوری کرنے پربھی جیل کی سزائیں سنادی گئی تھیں ۔

سینکڑوں کی تعدادمیں ایسے ننھے منے برطانوی بچے بھی بحری جہازوں میں بھر بھرکریہاں لائے گئے جن کی کفالت ان کے والدین یا حکومت نہیں کرسکتی تھی۔یہ بچے زندگی بھر برطانیہ واپس نہیں جاسکے۔اکثر کو ان کے آبائی شہروں حتیٰ کہ والدین تک کانام بھی یاد نہ رہا ، اورنہ ہی انہیں بتایا گیا۔نوآبادیاتی آسٹریلیا کے ابتدائی دوڈھائی سو سال کی سفید فام آبادی انہی اسیرجلاوطنوں اور ان کی اولادوں اور یاپھر عمائدینِ حکومت اور ملازمین پر مشتمل رہی۔

اس ماحول میں عیسائی مشنری اور سکول چیپلین ان افراد کو دلاسہ دیتے،ان کی اشک ثوئی کرتے اورہمت بڑھاتے۔ نتیجتاً ہرسکول میں ،خواہ وہ پرائیویٹ تھا یا پبلک ، ایک عدد چیپلین کی تقرری ناگزیر ہو گئی اور یہ عمل روایتی طورپرآج تک اسی طرح سے چلا آرہا تھا۔

ضمنی طورپر یہ بیان کرنا نامناسب نہ ہوگاکہ مذکورہ بالابچوں نے بڑے ہوکر اور ان کے بعدان کی اولادوں نے دولت مشترکہ (کامن ویلتھ) کے خلاف ” اغوا بالجبر ” کا مقدمہ دائرکررکھا ہے ،جس میں انہیں کامیاب ہونے کی کوئی امید نہیں۔ حکومت کے خلاف اغوا بالجبر کے ایک اور مقدمے میں وہ مدعیان بھی شامل ہیں جو سفید فام مردوں اور مقامی سیاہ فام ایبوریجنل عورتوں کے اختلاط سے پیدا ہوئے تھے، اور جنہیں محض اس وجہ سے ان کی مقامی ماؤں سے زبردستی جدا کرکے حکومتی تحویل میں لے لیا گیاتھا کہ ان کی رگوں میں سفید فام باپ کا خون گردش کر رہا تھا،چاہے ان کی جلد کا رنگ کیسا بھی ہو اور بعض کیسز میں توباوجودیکہ انہیں اپنے سفید فام باپ کی سرپرستی اورکفالت بھی حاصل تھی،حکومتی تحویل میں لے لیا گیا ۔

مذکورہ بالا ہر دو قسم کے مدعیان کواصطلاحاً مسروقہ نسلیں یعنی سٹولِن جنریشن The stolen Generations کہا جاتا ہے۔ راقم کو ہردو نسلوں سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد سے ان کی کہانیاں سننے کا موقع ملاہے۔ اس قسم کے رنج وغم ،احساس ِشکستگی وپامالی ،غیض وغضب ،یاس و حسرت ،بے چینی واضطراب کے ملے جلے جذبات کو موروثی اور شعوری طورپر نسل درنسل منتقل ہوتے اس سے قبل کبھی نہیں دیکھاتھا۔

آمدم بر سر ِمطلب، یہ اچانک ایسا کیا ہوا کہ آسٹریلیا کے پبلک سکولوں میں کم وبیش دوسوبرس سے چلتے آرہے چیپلین کی تقرریوں کوختم کرنے کافیصلہ کرلیا گیا؟۔ اس کی متعدد وجوہات بتائی جاتی ہیں۔

ایک وجہ تو یہ ہے کہ جدید آسٹریلیا میں اب پیشہ ور اور تربیت یافتہ سوشل ورکر اور ماہرین نفسیات تیار ہونے لگ گئے ہیں جو جدید ترین خطوط پر بالخصوص بچوں اورنوعمرجوانوں کو کونسلنگ سروس بہم پہنچا سکتے ہیں۔اس مقصد کے لئے کسی مذہبی ادارے سے سندیافتہ ہونا یا مذہبی تعلیمات کا حوالہ دینا ضروری نہیں رہا۔بہت سے سکولوں میں سکول سائیکالوجسٹ کی آسامیاں پیدا کرکے وہاں چائلڈ سائیکالوجسٹ یعنی بچوں کے ماہرین نفسیات کی کل وقتی خدمات بھی دستیاب کردی گئی ہیں۔

دوسرے یہ کہ حکومت کا کہنا ہے کہ چونکہ آئینی اور قانونی طورپر آسٹریلیا ایک سیکولرملک ہے اوراس کا درسی نصاب بھی روزاول سے سیکولرقراردیا گیا تھا تو چیپلین کا تقرر یا دینی تعلیم کا پیریڈ سکولوں کے ٹائم ٹیبل میں شامل کرنا گویا آئین اور قانون کی خلاف ورزی کرناہے۔جو چیپلین اس وقت خدمات بجالا رہے ہیں،انہیں اس صورت میں دوبارہ ملازمت ملے گی اگر وہ چائلڈ سائیکالوجی یا سوشل ورک کا ڈپلومہ وغیرہ حاصل کرلیں۔چرچ کی جاری کردہ سند اب قابل قبول نہ ہوگی۔

ریاست وکٹوریہ (دارالحکومت میلبورن)کی حکومت نے یہ توجیہہ بھی بیان کی کہ طلباء کودینیات کا درس دینے کی بجائے یہ تعلیم دی جانے کی ضرورت ہے کہ وہ آج کے معاشرہ میں روزافزوں ڈومیسٹک وائلنس یعنی خانگی تشدد کے واقعات کی کیسے روک تھام کر سکتے ہیں۔انہیں کسی مخصوص مذہب کی تعلیم دینے کی بجائے دنیا میں موجود مذاہب عالم کے بارہ میں آگاہی پہنچائی جائے اور معاشرہ میں موجودمختلف مذہبی یا فکری نظریات کے حامل افرادکے ساتھ باہمی عزت کے برتاؤ کرنا سکھایا جائے۔اسی طرح انہیں معاشرتی علوم اور شہریت پڑھائی جائے گی تاکہ وہ اچھے شہری بن سکیں۔

کرسچئین ،جیوش اور اسلامک ایجوکیشن سکولوں کے لئے پہلے سے یہ پابندی عائد ہے کہ وہ طلباء کوروزانہ تیس منٹ سے زائد دینی علوم نہیں پڑحا سکتے۔ان کا بقیہ سارا ٹائم ٹیبل اور نصاب وہی ہوگا جو سرکاری یا پرائیویٹ سکولوں کا ہوتا ہے۔ تاہم انہیں اپنے خرچ پرسکول میں چیپلین ،ربی یا امام کی تقرری کی اجازت ہوگی۔مزید دینی تعلیم کے لئے چرچ یا مسجد میں اتوارکلاس منعقد کی جاسکتی ہے۔

تیسرے یہ کہ حکومتی بجٹ چیپلین نظام کاباراٹھانے کی متحمل نہیں رہا۔

چوتھے یہ کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے سیکولر جماعتیں اورسول سوسائیٹی کے متعدد گروپ مسلسل حکومتوں سے یہ مطالبہ کرتے چلے آرہے تھےکہ آسٹریلیا کاسیکولرتشخص قائم کرنے اوراسے برقراررکھنے کے لئے چیپلین نظام کو ختم کرنا ضروری ہے جس میں مذہبی اداروں سے وابستہ افراد کی تقرری کی جاتی ہے۔ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتیں ہر الیکشن میں ملک کے سیکولر طبقہ کے ووٹ حاصل کرنے کی خاطر اس اقدام کا وعدہ کرتی چلی آرہی تھیں لیکن اس پر آج تک عمل نہ ہوسکا تھا۔موجودہ حکومت نے اس کا م کی ابتدا دارالحکومت کینبراسے کردی ہے۔

لیکن پانچویں وجہ جو راقم کے نزدیک سب سے زیادہ اہم اور معنی خیزہے وہ ایک اینگلیکن مشنری ٹیچر اور مصنف ڈاکٹرمائیکل برڈ کی بیان کردہ ہے۔آپ ماضی میں آسٹریلین آرمی کے چیپلین رہ چکے ہیں۔ آسٹریلین نشریاتی ادارہ اے بی سی کو بھیجے گئے اپنے مکتوب میں ،جو 23 ستمبر 2015 کو شائع ہوا،ریاست وکٹوریہ کے مذکورہ بالا حکومتی اقدامات پر تبصرہ کرتے ہوئےانہوں نے ان قدامات کوآسٹریلیا کے سیکولرطبقات میں بڑھتے ہوئے ” عدم برداشت کا رجحان ” قرار دیا ہے۔

آسٹریلیا میں سیکولرازم کی تاریخ کے مختلف ادوار اور اس کے ارتقا کا تجزیہ کرتے ہوئے آپ کا کہنا ہے کہ لگ بھگ ڈیڑھ دوسوسال میں آسٹریلین سیکولرازم جو پہلے خاصا لبرل اور ہلکا پھلکا ہوتا تھا،مذہبی اداروں اور ان سے تعلق رکھنے والے افراد کے کردار اور افعال کی وجہ سے آہستہ آہستہ غیرلچکدار بلکہ جارحانہ ہوچکا ہے۔گزشتہ چند دہائیوںمیں ایک طرف پادریوں کے گھناؤنے جنسی جرائم (جو سو سال سے بھی زائد عرصہ سےجاری تھے) کے بے نقاب ہونے اور پھر اسلام سے وابستہ کچھ افراد اور تنظیموں کی طرف سے دہشت گردی کی وارداتوں نے سیکولر طبقہ کواس حد تک بھنّا دیا کہ اب مذہب کا نام سنتے ہی ان کے ذہن میں یاتوبدفعل( پِیڈوفائل) پادری آجاتے ہیں اور یا دہشت گرد جہادی ۔

یہی وہ بڑی وجہ ہے جس کی بناپرسکولوں میں تعینات مذہبی نمائندوں یعنی چیپلین کی موجودگی نہ صرف سیکولر طبقات بلکہ بچوں اور ان کے والدین اور پھر حکومت کے لئے بھی اضطراب کا باعث بننا شروع ہو گئی تھی۔آسٹریلیا کے مذہبی ادارے اور ان کی پیشوائیت خود کومشکوک بنا چکی ہے جس کا نتیجہ مذکورہ بالا حکومتی اقدامات کی شکل میں ظاہر ہوا ہے۔

قارئین کرام مؤخرالذکر وجہ واقعی سب سے اہم اورفکرانگیزہے۔آسٹریلین سوسائیٹی بالعموم مذہب سے نہیں بلکہ مذہب والوں کی منافقت اور دوغلے پن کی وجہ سے مذہب سے متنفر ہوچکی ہے۔ایسے میں سیکولرازم کی اہمیت اور ضرورت کا احساس پہلے سے کہیں بڑھ کرذہنوں میں اجاگر ہوا ہے۔

جہاں تک آسٹریلیا میں نابالغوں کے ریپ کا تعلق ہے تو یہ محض پادری یا مُلا تک محدود نہیں۔حال ہی میں ایک یہودی پرنسپل ملکہ لیفر کا سکینڈل منظرعام پر آیا ہے ۔جومبینہ طورپر گزشتہ ایک دہائی سے میلبورن میں واقع ایک یہودی درس گاہ اور ہوسٹل میں یہودی بچوں اور بچیوں کا جنسی استحصال کرتی رہی۔پولیس نے تفیش شروع کی تو وہ فرار ہوکراسرائیل جا پہنچی لیکن وہاں گرفتار کرلی گئی۔

اسی طرح حال ہی میں پادریوں کی جنسی زیادتیوں کی تفتیش کرنے والے رائل کمشن کے سامنے یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ آسٹریلیا کے سب سے قدیم آشرم (ستیا آنند یوگا آشرم) میں ایک گرو جی سوامی سراواتی بھی مبینہ طور پر سالہاسال نابالغوں کو ریپ کرتا رہا۔وہ جان سے ماردینے کی دھمکیاں دے کر اپنے شکار کو چپ رہنے پر مجبور کردیتاتھا۔اسے اس قسم کے ایک مقدمے میں جیل کی سزا بھی ہو چکی ہے۔یہ سوامی جی جب ملک میں موجود دیگر آشرموں کا دورہ کیا کرتا تو وہاں بھی نابالغوں کو بہلا پھسلاکرجنسی بربریت کا نشانہ بناتاتھا۔

ان حالات اور واقعات کو دیکھ کر شاعربجاطورپر کہہ اٹھتا ہے کہ : مسجد ڈھا دے،مندر ڈھا دے،ڈھا دے جو کچھ ڈحیندا”۔ اوریہاں تو اگلے مصرعہ کا اطلاق کرنے کوبھی مطلق جی نہیں چاہ رہا۔

کہ ہم تو دلوں کے حال نہیں جانتے !۔

قرآن کریم مذہبی پیشوائیت سمیت جملہ ایمان والوں کو پہلے سے متنبہ کردیتا ہے کہ لِمَاتقُولُونَ ما لا تَفعَلُون یعنی تم وہ بات کیوں کہتے ہو جس پر خود عمل نہیں کرتے ؟۔

بے شک انسان کمزور اور خطا کا پتلا واقع ہواہے اور یہ کہ انبیاء کے علاوہ کوئی بھی معصوم عن الخطاء نہیں ہوتا لیکن اگر خود کو بظاہر بڑا مذہبی اور مخلص ظاہرکرنے والاکوئی فردباقاعدہ منصوبہ بندی کرکے ایسے گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کرتا ہے اور پھرکرتا ہی چلا جاتا ہے ،جس کی زد میں دوسرے افراد آتے ہوں تو یاد رکھیئے کہ دنیا وآخرت میں تو خیر سزاملے گی ہی لیکن ایسا فرد دسیوں،بیسیوں،سینکڑوں بلکہ لکھوکہاافراد کو دین ومذہب سے متنفرکرنے ،مذہب کا دشمن بنانے یا ہزاروں لاکھوں کمزور ایمان والوں کے لئے ٹھوکرکا موجب بننے کاگناہ بھی مول لے سکتاہے۔

روایت مشہورہے کہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے ایک بچے کو بارش اور کیچڑمیں دوڑتے بھاگتے دیکھ کر تنبیہہ کی کہ دیکھو بچے کہیں پھسل کرگرنہ جاؤ،تو اس نے بے ساختہ کہاکہ امام صاحب میری فکرنہ کیجئے،اگر میں پھسلا تومیرا ہی نقصان ہوگا،لیکن اگر آپ پھسل گئے تویہ ساری امت کانقصان ہو گا۔ کیسی پیاری ذومعنی اور گہری بات ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ثبات قدم عطافرمائے اور پھسلنے سے بچائے ،آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *