سیاست، ایک غلیظ کھیل کیوں بن گیا ؟

تحریر آئی اے رحمان

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پیش آنے والے بدنما واقعات نے ایک بار پھر اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ جمہوری مزاج کوفروغ دیتے ہوئے جلد از جلد نمائندہ حکمرانی کو مضبوط بنایا جائے۔شروع کرتے ہیں اس واقعے سے جس میں ایک وفاقی وزیر ٹی وی شو کے دوران میز پر فوجی بوٹ رکھتے ہوئے حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں سے محاذ آرا ہوئے۔ اس واقعے کو ایک بیہودہ حرکت قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی گئی اور تہذیب کے فقدان کے سبب وزیر پر پابندی عائد کردی گئی۔یہ غیر سنجیدہ حرکت دراصل اس سرکاری بیانیے کی ایک کڑی تھی جس کا آغاز و انجام اپوزیشن کو بُرا دکھانے پر ہوتا ہے۔ چند مخصوص گھٹیا الفاظ اپوزیشن میں ’دیگر‘ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ناپختہ سوچ کے حامل تنظیمی گروہ میدان میں ہوں تو پھر سیاستدانوں کی آپسی زبانی لڑائی بیہودہ زبان تک جا پہنچتی ہے۔اس واقعے کا اہم ترین پہلو یہ رہا کہ اس نے سیاسی طور پر نابالغ رویے کو آشکار کیا، اور ساتھ ساتھ دنیا بھر میں چلنے والی اکثریت پسند ریاستی ماڈل کے خاتمے کی تحریک سے منہ موڑتے ہوئے شراکتی جمہوریت اپنانے کی مہم سے لاعلمی ظاہر کی۔شراکتی جمہوریت کے اندر پارلیمنٹ میں اکثریت رکھنے والی جماعت چھوٹی جماعتوں کو ملکی امور سنبھالنے میں اپنا حصہ ڈالنے کے حق کو تسلیم کرتی ہے، چاہے وہ جماعتیں حزبِ اختلاف کا ہی حصہ کیوں نہ ہوں۔اپوزیشن کو قائمہ کمیٹیوں میں حصہ دے کر اور خاص طور پر پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کی چیئرمین شپ اپوزیشن رہنما کے لیے مختص اور اہم تعیناتیوں میں ان کی مشاورت کو شامل کرکے پاکستان اس سمت کی قدم بڑھا چکا ہے۔ چنانچہ اقتدار کے اکھاڑے میں ایک دوسرے کے مدِمقابل ہونے کے باوجود حکمراں اور حزبِ اختلاف جماعتیں عوامی بھلائی کے فروغ میں شراکت دار قرار پاتے ہیں۔

ان دونوں میں سے کسی کو بھی ایک دوسرے کی تحقیر کے ذریعے مباحثے کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔حکومت نے ایک طویل عرصے تک مخمصے کا شکار رہنے کے بعد اس سبق کو سیکھا۔ ابتدائی طور پر انہوں نے حزبِ اختلاف کو یکسر نظر انداز کیا اور آرڈینینس کے ذریعے حکمرانی کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن جب حزبِ اختلاف آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع سے متعلق معاملے پر مدد کے لیے آگے آئی تو حکمران اتحاد نے دو طرفہ اتفاق رائے کے امکانات کو تسلیم کیا اور پھر کئی مشکل مسائل کا حل ممکن ہوا۔ اسے جمہوری ثقافت کے حق میں بڑھائے گئے ایک چھوٹے قدم کے طور پر بیان کیا جاسکتا ہے۔پھر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ نے خیبرپختونخوا کی کابینہ کے 3 ارکان کو فارغ کردیا۔ ان پر پارٹی نظم وضبط کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ بعدازاں ان کو ہٹانے کی وجہ خراب کارکردگی بتائی گئی۔ تاہم جو بات لوگ پہلے سے ہی جانتے تھے وہ یہ تھی کہ ان وزرا میں شامل ایک وزیر نے ٹی وی پر آکر یہ کہا تھا کہ موجودہ وزارت سابقہ پی ٹی آئی حکومت کی ہی ماتحت رہنے والی وزارت کے مقابلے میں بدتر کارکردگی پیش کر رہی ہے۔خیر معاملے کو نہ تو پارٹی کی ضابطہ اخلاق کمیٹی کے پاس بھیجا گیا نہ ہی متعلقہ وزرا کو اپنے دفاع کا کوئی موقع فراہم کیا گیا۔

کچھ وقت بعد فارغ کیے گئے وزرا میں سے 2 وزرا پارٹی سربراہ سے ملے جنہوں نے وزرا کی دوبارہ تعیناتی کا اشارہ دے دیا۔اس پورے معاملے سے حکومت کی ساکھ میں کسی بھی طور پر اضافہ نہیں ہوا بلکہ جمہوری اصولوں کے بجائے آمر حکمرانوں کے طریقوں کو ترجیح دے کر اپنے ہاتھوں سے ہی اپنا تماشا بنانے کا موقع فراہم کیا۔ (ایک وزیر نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہوکر سرِعام پھانسی کا مطالبہ کیا، تاہم پارٹی کے ضابطہ اخلاق کی وجہ سے 3 وزرا اس کی حمایت نہیں کرسکے۔)اب صورتحال یہ ہے کہ حکومت کے اتحادی اور ان کی جانب سے حکومت کے خلاف وعدوں کی تکمیل میں عدم دلچسپی کی شکایتوں کے بعد اب حکومتی نمائندے بوکھلاہٹ کا شکار نظر آتے ہیں۔ ایک طرف ایم کیو ایم اپنی خفیہ شکایتوں کے ساتھ منہ پھلائے بیٹھی ہے تو دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما جارحانہ انداز میں پی ٹی آئی پر اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا الزم عائد کر رہے ہیں۔گجرات کے چھوٹے چوہدری نے تو پیپلزپارٹی کی تعریف کرتے ہوئے اسے مثالی اتحادی پکار کر پی ٹی آئی کے زخموں پر نمک چھڑک دیا ہے۔

 تازہ ترین خبر یہ ہے کہ حکومت نے مسلم لیگ (ق) کے مطالبات کو تسلیم کرلیا ہے اور نئے مطالبات سامنے رکھنے تک دونوں کے درمیان امن رہے گا۔سب سے بڑی اتحادی جماعت یہ سمجھنے سے قاصر نظر آتی ہے کہ حکومت میں شامل اس کے شراکت داروں کی دلچسپی کا محور صرف اور صرف اقتدار میں ساجھے داری ہے، البتہ بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل (بی این پی – م) کو شاید اس فہرست میں شمار نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ اس جماعت نے حکومت کی حمایت کو عوامی مسئلے (گمشدگیوں) کے حل سے مشروط کیا ہے۔کسی بھی طرز کی نظریاتی لفاظی پی ٹی آئی کے اتحادیوں کو اقتداری مفادات قربان کرنے پر مائل نہیں کرسکتی اور نہ ہی مفاد عامہ کا کوئی حوالہ کام آسکتا ہے۔ پی ٹی آئی کو یہ بات نظرانداز نہیں کرنی چاہیے کہ بعض اوقات اتحادی حکومت میں چھوٹی جماعتوں کو پارلیمنٹ میں قلیل نمائندگی سے بڑھ کر اقتدار کا حصہ دار بنانا پڑجاتا ہے۔حکومت کا اپنے اتحادیوں سے مسائل کا بنیادی تعلق جماعتوں کی سیاسی ساختوں سے ہے۔ حکامِ بالا چند جماعتوں کو حقیقی سیاسی جماعتیں تسلیم ہی نہیں کرتے۔ ان جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اگرچہ تمام قانون ساز نہیں مگر کچھ ایسے ہیں جو سفری پرندیں ہیں، جو ہر کچھ عرصے بعد دوسری جماعتوں کی صفوں میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

2018ء میں دیگر جماعتوں سے نکل کر جو افراد پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ہیں انہوں نے بھی شاید آخری بار پارٹی لیبل نہیں بدلا ہے۔ قانون سازوں کی وفاداری برقرار رکھنے کے لیے ترقیاتی فنڈز کے استعمال کا رجحان اب اس قدر پختہ جڑیں پکڑ چکا ہے کہ اس کھلے عام کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے والا کوئی ایک شخص نہیں ملتا۔تمام سیاسی کارکنان کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان ہو یا پھر دنیا کا کوئی دوسرا ملک، جمہوری ثقافت کے بغیر وہاں ایک حقیقی نمائندہ حکومت قائم نہیں ہوسکتی۔ جمہوری ثقافت یہ بھی تقاضا کرتی ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں میں شمولیت کے خواہاں تمام افراد کسی بھی جماعت کا حصہ بننے سے پہلے یہ جائزہ لیں کہ وہ عوامی مقاصد کے فروغ کے اپنے پروگرام پر کتنے سنجیدہ ہیں جبکہ وہ افراد جنہیں قانون ساز اداروں میں عوام کی نمائندگی یا پھر وزارتوں میں شامل کرنے کے لیے منختب کیا گیا ہے وہ اپنے عہدوں کو ہی اپنا کُل اور واحد انعام تصور کریں۔اس وقت صورتحال کچھ ایسی ہوچکی ہے کہ بااصول سیاست کی باتیں اس قدر آئیڈیل محسوس ہوں گی کہ جن کو حقیقت کا روپ دینا مستقبل قریب میں تو ناممکن ہے۔ تاہم جمہوری رویے کی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے اگر ہم چھوٹے چھوٹے اقدامات بھی اٹھاتے ہیں تو اس سے سیاست کی وہ حرمت بحال ہوسکتی ہے جس کے بغیر سیاست خود غرض افراد اور گروہوں کے لیے ایک غلیظ کھیل ہی رہے گی۔

(روزنامہ مشرق کوئٹہ16فروری2020ء)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *