بھارت کے غیر انسانی ڈیتھ کیمپ

سید عاصم محمود


بائیس سالہ رحمان الیکٹریشن ہے اور بھارتی ریاست آسام کے قصبے متیا کا باسی۔ پچھلے سال اُسے کسی نے بتایا کہ چند میل دور حکومت ایک فیکٹری تعمیر کررہی ہے۔ وہاں الیکٹریشنوں کی ضرورت ہے۔

رحمان اچھی ملازمت کی کھوج میں تھا لہٰذا وہ اس زیر تعمیر فیکٹری میں پہنچ گیا۔ اسے ملازمت مل گئی۔ مگر دو ماہ قبل اسے یہ جان کر دھچکا لگا کہ زیر تعمیر عمارت کوئی فیکٹری نہیں ایک ’’حراستی مرکز‘‘ (detention centre) ہے۔

مودی حکومت یہ حراستی مرکز تعمیر کروارہی تھی تاکہ وہاں غیر قانونی قرار دیے جانے والے آسامی مسلمان نظر بند کیے جاسکیں۔مودی حکومت نے 2014ء برسراقتدار آتے ہی آسام میں ’’این آر سی‘‘ (نیشنل رجسٹر آف سٹیزن) کی مہم کا آغاز کیا تھا۔ اس مہم کے ذریعے بظاہر آسامی شہریوں کے شناختی کاغذات کی پڑتال کرنا مقصود تھی۔ حقیقت میں مودی حکومت آسام کو مسلم اکثریتی ریاست بننے سے روکنا چاہتی تھی۔ اسی لیے این آر سی مہم شروع کی گئی تاکہ لاکھوں آسامی مسلمانوں کو ’’غیر قانونی‘‘ قرار دے کر انہیں ملک بدر کیا جاسکے۔

متیا کے نزدیک زیر تعمیر حراستی مرکز بھارت میں سب سے بڑا ہے۔نو ایکڑ رقبے پر پھیلا ہے۔ وہاں ایک وقت میں تین ہزار انسان زیر حراست رکھے جاسکتے ہیں۔ مرکز میں خواتین اور مرد الگ الگ رہیں گے۔دونوں حصوں کے درمیان خار دار تاریں حائل ہوں گی۔گویا بچوں کو اپنے والدین سے جدا کردیا جائے گا۔ بچوں سے بچپن کی سہانی خوشیاں چھین لینے کا عمل صرف ظالم و سفاک حکومتیں ہی انجام دے سکتی ہیں۔ دور جدید میں مودی حکومت ہی سفاکیت اور ظلم کا نیا روپ بن چکی جو مسلمانان بھارت کو نت نئے طریقوں سے دق کررہی ہے۔ اس نے بھارتی مسلمانوں کا جینا حرام کرکے ان کا مستقبل تشویشناک بلکہ خوفناک بنادیا۔دور جدید میں شاید ہی بھارت جیسا کوئی اور ملک ہو جہاں اکثریت طاقت کے بل پر اقلیت پہ ظلم وستم توڑ رہی ہے۔

آسام میں اسلام تیرہویں صدی میں پہنچا۔ تب یہاں مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے بت پرست آباد تھے۔ صوفیائے کرام کی تبلیغ سے خطے میں ہزارہا آسامی مسلمان ہوگئے۔ یوں آسام میں دین حق پھیلنے لگا۔ اسلام کی حقانیت سے متاثر ہوکر ہر سال ہزارہا مسلمان ہوجاتے۔ یہی وجہ ہے، علاقے میں مسلمانوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔1901ء میں وہاں پانچ لاکھ مسلمان آباد تھے۔

ایک صدی بعد 2000ء میں ان کی آبادی بیاسی لاکھ تک پہنچ گئی۔2011ء کی مردم شماری سے عیاں ہوا کہ آسام میں تین کروڑ گیارہ لاکھ نفوس بستے ہیں۔ ان میں ایک کروڑ سڑسٹھ لاکھ ترانوے ہزار مسلمان تھے۔ گویا وہ ریاست میں سب سے بڑا مذہبی گروہ بن چکے تھے۔ اسی بات نے قوم پرست ہندو لیڈروں کو پریشان کردیا۔ انہیں محسوس ہوا کہ آسام میں اسلام کی اشاعت جاری رہی، تو بھارت میں جموں و کشمیر کے بعد دوسری مسلم اکثریتی ریاست وجود میں آسکتی ہے۔ یوں بھارت کو ہندو راشٹریہ بنانے کے منصوبے کو دھچکا لگ جاتا۔

اکسارنا دھرم

یہ واضح رہے کہ آسام میں ایک کروڑ سے زائد بت پرست روایتی ہندو نہیں بلکہ وہ ایک مختلف فرقے، اکسارنا دھرم (Ekasarana Dharma) سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس فرقے کی بنیاد تیرہویں صدی میں ایک سماجی رہنما، سنکردیو نے رکھی تھی۔ سنکر دیو برہمن فرقے اور ان کی مذہبی کتب (ویدوں) کا سخت مخالف تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ برہمنوں نے ہندوستانی معاشرے میں آمریت قائم کررکھی ہے۔ وہ خود تو آسائش بھری زندگی گزارتے تھے جبکہ ہندوستانی عوام محنت مشقت کے بعد بمشکل پیٹ بھرپاتے۔یہی وجہ ہے، سنکردیو نے برہمن مت سے ہٹ کر نئے فرقے کی بنیاد رکھی۔ اس نئے فرقے میں کرشن سب سے بڑا دیوتا قرار پایا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سنکر دیو کرشن کو سبھی انسانوں سے محبت کرنے والا امن دوست دیوتا سمجھتا تھا۔

NRC

اس نے ایک مذہبی کتاب، بھاگوت تحریر کی۔ اس کتاب میں شودر اور اچھوت ہندوستانیوں پر تنقید نہیں ملتی جو روایتی ہندومت کی کتب کا طرہ امتیاز ہے۔ یہ برہمنوں کی مذہبی کتاب، بھاگوت پران سے بالکل مختلف ہے۔اکسارنا دھرم میں عبادت گاہ مندر نہیں ’’نام گھر‘‘ کہلاتی ہے۔ اس فرقے کے پیروکاروں کی ہر چھوٹی بڑی بستی میں نام گھر ملتے ہیں۔ نام گھروں میں اکسارنا دھرمی کیرتن گائے اور اپنے بھگوان کی حکایات سنتے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر ہندومت سے کہیں زیادہ سادہ اور آسان مذہب ہے۔

بھارت میں اکسارنا دھرم کے مانند بت پرستوںکے دیگر فرقے بھی پائے جاتے ہیں۔مثلاً لنگایت دھرم جو برہمنی مت کے خلاف کرناٹک اور دیگر ہندوستانی ریاستوں میں ظہور پذیر ہوا۔اس دھرم کے عقائد ہندوؤں کے مروجہ عقیدوں سے مختلف ہیں۔ اکسارنا دھرم اور لنگایت دھرم کے مانند بھارت میں کئی بت پرست فرقے مخصوص عقائد رکھتے ہیں۔ انہیں ہندومت میں شامل قرار نہیں دیا جا سکتا۔بس ان میں بت پرستی کے عناصر ملتے ہیں۔

نریندر مودی اور ان کی جماعت آر ایس ایس درج بالا سچائی پوشیدہ رکھنے کی بھرپور کوشش کرتی ہے۔ ان کا پورا زور اسی بات پر ہے کہ تمام بت پرست ہندو ہیں۔ مدعا یہی کہ تمام بت پرستوں کو ہندو ثابت کر دیا جائے، بھارت میں ہندوؤں کی اکثریت ہے۔ یوں بھارت کو ہندو ریاست میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار ہو جائے۔ یہ نفرت و دشمنی پر مبنی مذہبی ایجنڈا ہے جس پر نریندر مودی اینڈ کو عمل پیرا ہے۔

نفرت کی مہم

درج بالا مذہبی ایجنڈے کو کامیاب بنانے کی خاطر ہی مودی حکومت نے آسام میں ’’این آر سی‘‘ مہم شروع کی تاکہ ریاست میں اسلام کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔ بہانہ یہ بنایا گیا کہ بنگلہ دیش سے غیر قانونی مہاجرین آسام پہنچ کر وہاں بس رہے ہیں۔ یہ غیر قانونی شہری پھر آسامی شہریوںکی ملازمتوں اور دیگر وسائل پر قابض ہو جاتے ہیں۔یہ محض الزام ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پچھلی صدی میں مشرقی پاکستان اور پھر بنگلہ دیش سے چند لاکھ افراد ہی آسام آئے۔ حقیقت میں بنگالیوں کی اکثریت 1971ء سے بہت پہلے روزگار کی تلاش میں آسام آئی تھی۔ پھر یہ بنگالی اور ان کی ا ولادیں آسامی معاشرے میں رچ بس گئیں۔

ہندو انتہا پسند تنظیمیں یہ استدلال ماننے کو تیار نہیں۔1971ء کے بعد آسام میں ہندو انتہا پسند لیڈروں نے ہی سب سے پہلے یہ تنازع کھڑا کیا کہ بنگلہ دیش سے ہزاروں مسلمان آسام آ رہے ہیں۔ ان کے پروپیگنڈے کی وجہ سے آسامی بت پرستوں نے اس جھوٹ کو سچ سمجھ لیا۔ یہی وجہ ہے‘ آسام میں خصوصاً بنگالی نژاد مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلنے لگی۔ انہیں اپنی بیروزگاری اور غربت کا ذمے دار قرار دیا گیا۔ اس طرح آر ایس ایس اور دیگر انتہا پسند ہندو تنظیموں نے آسام میں بت پرستوں کو مسلمانوں کے خلاف ابھار دیا۔ مذہب اور معیشت ان کے لیے نفرت و دشمنی پھیلانے کے ہتھیار بن گئے۔

آسام میں نفرت کی جو آگ بھڑکائی گئی، اس نے جلد ہی ہزارہا مسلمانوں کی جانیں لے لیں۔ 18 فروری 1983ء کو ضلع ناگاؤں میں اسلحے سے مسلح ہندوؤں نے مسلمانوں کے دیہات پر حملہ کردیا۔ اس حملہ کے ذریعے مسلمانوں کا نسلی صفایا کرنا مقصود تھا۔ چناں چہ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق دس ہزار مسلمان شہید کردیئے گئے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ تاریخ انسانی کے خوفناک ترین قتل میں سے ایک ہے۔آسام میں مسلم اقلیت کے خلاف شدت پسند ہندو تنظیموں کی مہم جاری رہی۔ 2014ء تک بھارتی عدلیہ میں بھی ان انتہا پسند تنظیموں کے حامی جج پہنچ چکے تھے۔ چنانچہ بھارتی سپریم کورٹ نے شدت پسند رہنماؤں کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے آسام میں این آر سی مہم شروع کرنے کا حکم دے دیا۔ 2016ء میں بی جے پی ریاست میں برسراقتدار آگئی۔ حکومت سنبھالتے ہی اس نے این آر سی مہم کا آغاز کردیا۔

انتہا پسند ریاستی حکومت نے پھر زیادہ سے زیادہ آسامی مسلمانوں کو ’’غیر قانونی‘‘ قرار دنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے اختیار کیے۔ مثال کے طور پر کسی سربراہ خاندان کے پاس شناختی دستاویزات میں سے ایک معمولی کاغذ بھی نہ ہوتا تو پورا گھرانا غیر قانونی بن جاتا۔ کئی بار تو اصلی کاغذات جعلی قرار دیئے گئے۔ ہر مسلمان کو نئے کاغذات بنانے میں بے پناہ مشکلات برداشت کرنا پڑیں۔ دوسری طرف جن غیر مسلم باشندوں کے پاس اہم شناختی کاغذات بھی نہیں تھی، انہیں نئے کاغذات بنوانے کی خاطر ہر ممکن سہولت فراہم کی گئی۔ یوں آسامی حکومت نے اپنے مفادات پورے کرنے کی خاطر اصول و قوانین کی دھجیاں اڑا دیں۔

ظلم و زیادتی کے باوجود ہندو انتہا پسند اپنے ایجنڈے پر کامیاب نہیں ہوسکے۔ وجہ یہ ہے کہ جب اگست 2019ء میں این آر سی مہم کا نتیجہ سامنے آیا تو انیس لاکھ آسامی غیر قانونی قرار پائے۔ ان میں دس لاکھ مسلمان تھے اور بقیہ غیر مسلم۔ غیر مسلموں کو فہرست میں شامل کرنے پر شدت پسند ہندو حکمران بی جے پی سے ناراض ہوگئے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں کوئی ہندو غیر قانونی نہیں ہوسکتا۔ انہی ہندوؤں کو قانونی بنانے کے لیے مودی حکومت کو نئے قانون شہریت میں ترمیم کرنا پڑی۔شدت پسندوں کے تخلیق کردہ نئے قانون شہریت کی رو سے مسلمانوں کو چھوڑ کر کوئی بھی غیر مسلم باآسانی بھارت کی شہریت حاصل کرسکتا ہے۔ یہ واضح طور پر مسلم دشمن قانون ہے، اسی لیے دنیا بھر میں اسے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ لاکھوں آسامی بھی اس ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرے کرنے لگے۔ وہ مذہب و نسل سے قطع نظر تمام غیر قانونی مہاجرین کو آسام سے نکالنا چاہتے ہیں۔

مودی حکومت کا منصوبہ ہے کہ این آر سی یا نیشنل رجسٹر آف سٹیزن کی مہم پورے بھارت میں چلائی جائے۔ اس طریقے سے بظاہر وہ غیر قانونی شہریوں کو پکڑنا چاہتی ہے۔ لیکن آسام کی مثال سے عیاں ہے کہ یہ مہم بنیادی طور پر مسلم دشمن ہے۔ اس کے ذریعے لاکھوں بلکہ کروڑوں مسلمانوں کو غیر قانونی قرار دے کر انہیں نت نئی تکالیف و مصائب میں مبتلا کرنا مقصود ہے۔ آر ایس ایس‘ وشوا ہندو پریشد ‘ بجرنگ دل وغیرہ شدت پسند ہندو انتہا پسند تنظیموں کے متعصب و تنگ دل لیڈر کسی بھی صورت مسلمانوں کو خوشحال و ترقی یافتہ نہیں دیکھنا چاہتے۔ یہ دیکھ کر ان کے سینوں پر سانپ لوٹنے لگے ہیں کہ مسلمان کئی شعبوں مثلاً صنعت و تجارت‘ فلم انڈسٹری وغیرہ میں چھائے ہوئے ہیں۔

وہ بھارت میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے مسلمانوں کا اثر و رسوخ ختم نہیں تو کم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سبھی شدت پسند ہندو تنظیموں کا بنیادی ایجنڈا ہے۔یہ درست ہے کہ مودی حکومت کو خلاف توقع ا ین آر سی مہم پر زبردست عوامی احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی مسلمانوں اور طلبہ نے اس مہم کے خلاف زور دار احتجاجی مظاہرے کیے۔ امن و محبت کے پرستار ہندوؤں نے بھی متعصب مودی حکومت کو تنقید کانشانہ بنایا۔ مگر نریندر مودی کی تاریخ سے عیاں ہے کہ وہ اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنا کر رہتے ہیں۔ لہٰذا جب عوامی مظاہروں کی شدت کم ہو گئی تو وہ کم از کم ان ریاستوں میں ایس آر سی مہم شروع کرا سکتے ہیں جہاں بی جے پی کی حکومت ہے۔ مثلاً ریاست اتر پردیش جہاں بھارت میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تعداد بستی ہے۔

حراستی مراکز

مستقبل میں این آر سی مہم شروع ہونے کی ایک اہم وجہ یہ ہےکہ مودی حکومت بھارت کے مختلف علاقوں میں حراستی مراکز تعمیر کر رہی ہے۔ آسام میں سات مراکز کام کر رہے ہیں۔ دہلی‘ پنجاب‘ راجستھان اور گوا میں ایک ایک آپریشنل ہے۔ جبکہ پنجاب‘ کرناٹک مہاراشٹر‘ اور مغربی بنگال میں نئے حراستی مراکز کی تعمیر جاری ہے۔ مغربی بنگال میں دو مراکز بنانے کا منصوبہ ہے۔ گویا مودی حکومت بھارت بھر میں خصوصاً بھارتی مسلمانوں کو بڑی تعداد میں غیر قانونی قرار دے کر انہیں گرفتار کرنے کا گھناؤنا منصوبہ بنا چکی۔ اسی لیے بی جے پی کے رہنما آئے دن دہمکیاں دیتے رہتے ہیں کہ وہ بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھجوا دیں گے۔ ویسے بھی ظالم حکومت کے ہوتے ہوئے کون بھارتی مسلمان بھارت میں رہنا چاہے گا؟

آسام کے حراستی مراکز میں ایک ہزار سے زائد ’’غیر قانونی‘‘ باشندے زیر حراست ہیں۔ ان میں سے 98فیصد بنگالی نژاد مسلمان ہیں۔ یہ مقام حیرت ہے کہ ایک طرف بھارتی حکومت بنگالی مسلمانوں سے جانوروں جیسا گھٹیا سلوک کر رہے اور دوسری طرف وزیراعظم بنگلہ دیش حسینہ واجد نریندر مودی کے ساتھ دوستی کی پینگیں جھولتی نظر آتی ہیں۔

گویا انہوں نے ذاتی مفاد اور تمناؤں کی قربان گاہ پر اپنی قومی غیرت اور آن کو بھینٹ چڑھا دیا۔ حسینہ واجد نے بس بھارتی حکومت کے خلاف یہ زبانی بیان داغ دیا کہ وہ مناسب قوانین نہیں بنا رہی۔ یوں انہوں نے احتجاج کا اپنا حق ادا کیا اور مودی حکومت کو کھلی چھٹی دے دی کہ وہ مسلمانان بھارت پر ظلم و ستم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کے حراستی مراکز ’’ڈیتھ کیمپ‘‘ بن چکے۔ وہاں مقید مرد‘ عورتوں اور بچوں کوکئی قسم کی جسمانی و ذہنی تکالیف کا سامنا ہے۔ مقید مسلمان دھیرے دھیرے موت کے منہ میں جا رہے ہیں…ایسی اذیت ناک موت کا عذاب جو صرف خونخوار درندے ہی نازل کرتے ہیں۔ اور بھارتی حکمران طبقہ انہی درندوں کا انسانی روپ بن چکا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *