الزام تراشی

عبد الباسط شاہد


ABDUL BASIT SHAHIDاشرف المخلوقات انسان طبعی طور پر مل جل کر رہنا پسند کرتا ہے۔ افراد کے باہم ملنے سے ہی معاشرہ وجود میں آتاہے۔ معاشرہ کے لئے آداب و اصول وضع کئے جاتے ہیں۔ تاہم چونکہ معاشرہ افراد کے باہم ملنے سے ترتیب پاتا ہے اس لئے اسلام نے انفرادی اصلاح کے لئے یہ بنیادی اصول بیان فرمایا ہے۔

عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لَایَضُرُّکُمْ مِنْ قَبْلِ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ

تمہارے لئے لازمی اور ضروری ہے کہ اپنے نفس کا خیال رکھو گویا ہماری پہلی اور بنیادی ڈیوٹی یہ ہے کہ ہم اپنے نقائص کا خیال کریں۔ اپنے نقائص اور عیوب کو دور کرنے کی کوشش کریں یا یوں کہہ لیجئے کہ اپنے تزکیہ نفس کو ترجیح دیں اور کبھی غفلت یا سستی سے کام نہ لیں۔

ظاہر ہے کہ یہ اتنا وسیع اور پھیلا ہوا کام ہے کہ اس کی طرف ہمیشہ ہی توجہ اور کوشش کی ضرورت رہتی ہے۔ صوفیاء کا یہ قول اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ

جو دم غافل سو دم کافر

کسی معاشرے کی خرابی اور فساد کا سب سے بڑا ذریعہ الزام تراشی ہے جو فرد اور معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ کھاتا ہے اور بعض اوقات انسان کو اس کا پوری طرح علم بھی نہیں ہوتا۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ یہ الزام لگانے والا بات کو اس انداز سے پیش کرتا ہے کہ جیسے وہ معاشرے کے متعلق خوب جانتا ہے اور اس کی معلومات بہت زیادہ ہیں بلکہ وہ دوسرے لوگوں کو متاثر کرنے کے لئے اور اپنے بیان کو زیادہ دلچسپ بنانے کے لئے اسی طرف مائل ہوکر اسے ایک طرح سے اپنا پیشہ بنا لیتا ہے حالانکہ وہ شخص جو قرآنی ہدایت کے مطابق زندگی بسر کرتا ہو اسے تو اصلاح نفس کی طرف ہی توجہ ہوگی اور اس صورت میں وہ کسی کی عیب جوئی اور چغل خوری کس طرح کرے گا۔ حضرت مسیح پاک علیہ السلام فرماتے ہیں۔

عجب مغرور و گمراہ ہے وہ ناداں

کہ اپنے نفس کو چھوڑ ہے بے راہ

بدی پر غیر کی ہردم نظر ہے

مگر اپنی بدی سے بے خبر ہے

اس کی مثال اس طرح بھی بیان کی جاسکتی ہے کہ جس طرح مکھی گندگی پر بیٹھتی اور پھر گندگی کو پھیلاتی چلی جاتی ہے اسی طرح بد شخص بدی کی اشاعت و تشہیر میں مصروف رہتا ہے جبکہ اس کے مقابل میں شہد کی مکھی پھول پر بیٹھتی اور شہد جمع کرکے اس کو محفوظ کرتی ہے۔ ایسی مکھی کو تو گندگی سے طبعاً نفرت ہوگی اور وہ نہ گندگی پر بیٹھے گی اور نہ ہی گندگی کو پھیلانے کی نہایت قبیح اور بے جا حرکت کرے گی۔

قرآن مجید نے برائی کو پھیلانے اور اشاعت فحش کو گناہ قرار دیتے ہوئے اسے دردناک عذاب کا باعث و سبب قرار دیا ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ   (النور : 20)

یعنی برائیوں اور بے حیائی کی باتوں کو عام کرنے والوں کے لئے دردناک عذاب ہے ۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:

مَنْ قَالَ ھَلَکَ الْقَوْمُ فَھُوَ اَھْلَکَھُمْ

جس نے کہا کہ قوم ہلاک ہوگئی ہے گویا اس نے ہی ان کو ہلاک کیا۔

مذکورہ بالا ارشادات سے پتہ چلتا ہے کہ گناہ اور بدی سے ہی نہیں بلکہ مومن کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس کی عام اشاعت سے بھی اجتناب کرے۔ چغل خوری اور غیبت بھی اس لئے نہایت مکروہ فعل ہے کہ اس میں اور خرابیوں کے علاوہ اشاعت فحش بھی شامل ہوجاتی ہے جو معاشرے کے فساد اور خرابی کا باعث بنتی ہے۔

کسی الزام کے متعلق مومنوں کا رد عمل بھی قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے ۔ فرمایا:

سُبْحٰنَکَ ھٰذَا بُھْتَانٌ عَظِیْمٌ (النور : 17)

یعنی الزام اور بہتان کوسن کر اس میں دلچسپی لینے یا پھر اس کو آگے پھیلانے کی بجائے مومنوں کا تو یہ کام ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہوئے الزام اور چغلی کو بہتان عظیم کہہ کر چغلی اور چغلی کرنے والے سے اپنی بیزاری کا اظہار کریں۔ گویا کسی برائی کے ذکر پر ایسا رد عمل ہو کہ وہ برائی آگے پھیلنے کی بجائے وہیں دفن ہوجائے ا ور معاشرہ اس کے بد اثرات سے محفوظ رہے۔

اشاعت فحش کے مجرم اپنی بریت کے لئے یہ بھی کہتے ہوئے سنے جاتے ہیں کہ میں جو بات کہہ رہا ہوں وہ سچ ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب یہ بات آئی تو آپ نے بڑی وضاحت سے فرمایا کہ یہی تو چغلی ہے۔ گویا اپنے خیال میں ایک سچی بات جو اگر وہ سن لے تو اسے اچھی نہ لگے اسے بیان کرنے کی بھی ممانعت ہے۔ مومنوں کا گروہ اور معاشرہ اتنا صاف ستھرا اور پاکیزہ ہوتا ہے کہ اس میں کسی گناہ اور بدی کا ارتکاب ہی نہیں بلکہ اس کا ذکر بھی غیر پسندیدہ ہوتا ہے۔ مومن ہر وقت مثبت انداز فکر سے کام لیتے ہوئے ہر ایک کی سلامتی اور بھلائی چاہتا ہے۔ ایسے انداز فکر اور اس کے نتیجہ میں جو معاشرہ پھیلے گا وہی دنیا کے امن ، سلامتی اور بہتری کا ضامن ہوگا اور اسی صورت میں امت مسلمہ خیر امت کہلانے کی مستحق ہوگی۔ اللہ ہمیں ان پاکیزہ ارشادات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *