ہڑپہ -قدیم ترین تہذیب

عمران یعقوب

 کیا آپ جانتے ہیں دنیا میں دریافت شدہ، دوسری قدیم ترین تہذیب ہڑپہ پاکستان میں ہے ؟

 انسانی تہذیب (سولائزیشن کا مطلب ہے جب انسان نے شہر بنانے کا آغاز کیا اور ایک سسٹم کو متعارف کروایا، اپنا بادشاہ چنا اور زندگی گزارنے کے قاعدے قانون بنائے)

 دنیا کی پہلی قدیم ترین تہذیب دریائے دجلہ اور دریائے فرات کے کنارے عراق میں میسوپوٹامیہ کے نام سے آباد تھی، جس کے ابھی بھی آثار باقی ہیں، پاکستان میں ساہیوال شہر سے 30 سے 40 کلومیٹر دور یہ دنیا کہ دوسری قدیم ترین انسانی تہذیب و تمدن کا مسکن تھا، جو کہ ایک اندازے کے مطابق 3300 قبل مسیح میں ظہور پزیر تھی، دنیا کی تیسری قدیم ترین تہذیب اہرام مصر اور فراعین کا دور تھا، جو کہ 3100 سال قبل مسیح میں وجود میں تھی، ہڑپہ شہر 1922 میں دریافت ہوا لیکن اس کی بہت ساری اینٹیں، لاہور ملتان ریلوے بنانے میں صرف ہو چکی تھیں، اس جگہ کو بچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں‌

 نیشنل جیوگرافک سوسائیٹی بھی اس کام میں شامل ہے، برصغیر ہند میں 200 سے زائد تہذیبیں دریافت ہو چکی ہیں، لیکن ہڑپہ سب سے قدیم اور سب سے زیادہ پڑھے لکھے لوگوں پر مشتمل تہذیب ہے، یہاں کے باشندے تاجر اور زراعت پیشہ تھے، جبکہ ہنر مند افراد کی بھی کوئی کمی نہیں تھی، قدیم ہڑپہ کے آثار تقریبا ایک سو پینسٹھ ایکڑ رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں، جن کی دریافت حادثاتی طور پر 1890 میں اس وقت ہوئی جب لاہور سے ملتان ریلوے لائن بچھائی جا رہی تھی تو ریلوے ٹریک کیلئے اینٹوں کی سپلائی دینے والے ٹھیکیدار نے ہڑپہ میں اینٹوں کی کان دریافت کی ہوئی تھی اور یہاں سے اینٹیں لا کر ریلوے لائن کی تعمیر میں لگائی جاتی رہیں، اور جب بعض افسروں نے اینٹوں کی مخصوص ساخت کو دیکھا اور تحقیق کی تو 1920 میں جا کر پتہ چلا کہ یہ اینٹیں ہڑپہ کے قدیم شہر کی تھیں، چنانچہ 1920 میں ہی اس علاقے کو حکومتی تحویل میں لے لیا گیا،

مگر تب تک قدیم تاریخ کا یہ جدید شہر اجڑ چکا تھا، اور جب اس وقت کی حکومت نے یہاں پر کھدائی کا کام شروع کیا تو نامناسب حالات کی وجہ سے یہاں سے ملنے والے نوادرات کی حفاظت نہ ہو سکی، ہڑپہ کا رقبہ ایک سو پچاس ایکڑ ہے، جس میں کھنڈرات تقریبا 76 ایکڑ رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں، پرانی تہذیب کا یہ خوبصورت شہر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تعمیر کیا گیا تھا، انمول چوڑی اینٹ کے بنے کشادہ مکانات و گلیاں اور بڑی چنائی والے کنوئیں، ڈھکی ہوئی نالیاں، نکاسی آب کا مربوط نظام، حفظانِ صحت کے اصولوں مد نظر رکھتے ہوئے اناج گھر، مزدوروں کے مکانات، دھات پگھلانے اور ان سے برتن بنانے کی بھٹیاں، اوزان پیمائش کیلئے معیاری ترازو و باٹ مختلف بوٹیوں، مرجان، یاقوت سے بنے ہوئے ہار، تانبے اور پتھر کی مہریں، فن سنگ تراشی سے مختلف جانوروں کی تصویریں اور انجانے حروف سے کندہ شدہ مہریں مل چکی ہیں، مگر دلچسپ اور حیران کن بات یہ ہے کہ آج کا انسان چاند پر کمند ڈالنے کا دعویٰ تو کر چکا اور دنیا کی تباہی کیلئے سٹار وار سسٹم تو تیار کر چکا ہے، دنیا بھر سے مختلف ممالک کی یونیورسٹیوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ماہرین آئے مگر ان انجانے حروف کو سمجھ نہ سکے اور پڑھنے سے قاصر رہے ان حروف کو سمجھ لینا اب ان ماہرین کیلئے چیلنج بنا ہوا ہے، بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی ماہرین آثار قدیمہ ڈاکٹر احمد حسن، ڈاکٹر افضل احمد خان ‌، ڈاکٹر محمد شریف، ڈاکٹر فرزند علی درانی، ڈاکٹر محمد رفیق مغل اور آئی ایچ ندیم پاکستان میں ہڑپہ تہذیب کی تقریبا 400 بستیاں دریافت کر چکے ہیں، جس سے ہڑپہ تہذیب کے مختلف ادوار میں ترقی کے مراحل کا پتہ چلتا ہے

 گزشتہ سال پانچ ہزار سال پرانا مگر جدید طرز کا ڈرین سسٹم دریافت ہوا، تحقیق کے مطابق یہ قدیم دور کے نکاسی آب کے جامع نظام کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ موجودہ دور کا سیوریج سسٹم بھی ہڑپہ تہذیب کی نقل معلوم ہوتا ہے اس طرح ٹیلہ ای میں کھدائی کے دوران دوہری دیوار سے تعمیر شدہ بھٹیاں ملی ہیں، یہ بھٹیاں سیاہ رنگ کی چوڑیاں اور مٹی کے چھوٹے ظروف پکانے کیلئے استعمال کی جاتی تھیں، انہی بھٹیوں کے قریب رہائشی مکانات، غلہ جمع کرنے کے لئے قد آور مٹی کے بنے ہوئے مٹکے، موتی بنانے کے کارخانے، تانبہ کانسی اور سیپی کی چوڑیاں، زرد عقیق، سنگ سلیمانی سے بنے بارک ٹوکے، خوشنما مہریں، کچی اینٹوں سے بنی فصیل نما دیوار جو 27 فٹ اور بعض جگہ 39 فٹ چوڑی ہے اور پختہ اینٹوں سے بنا ہوا دروازہ بھی دریافت ہوا، اس قلعہ نما دیوار کے اندر گشت کرنے کیلئے سڑک، نکاسی آب کیلئے پل، سکیورٹی چیک پوسٹ اور پہرے داروں کیلئے واچ ٹاور بھی ملے ہیں، ماہرین کا خیال ہے کہ یہ دیوار ہڑپہ شہر کو دشمن فوجوں کے حملے اور سیلاب سے محفوظ رکھنے کیلئے بنائی گئی تھی، یوں اس دیوار کو دیوار چین کی طرح قدیم ترین فصیلوں میں شمار کیا جاتا ہے، چیچہ وطنی روڈ پر ان ویران ٹیلوں اور خوبصورت قدرتی جنگل کے دامن میں ایک پرکشش جاذب نظر اور خوبصورت عمارت میں ہڑپہ کا عجائب گھر ہے، جس کے اندر دیواروں کے ساتھ بیس عدد شیشوں کی الماریوں میں کھدائی شدہ مقامات یعنی وادی سون، کوٹ ڈیجی، آمری، موہنجو داڑو اور ٹیکسلا سے ملنے والے نوادارت رکھے ہیں،

عجائب گھر کے مغرب میں تقریبا ایک ہزار سال پرانا برگد کا خوبصورت درخت لگا ہوا ہے، اس کے تنے اور اس کے پھیلاؤ کو دیکھ کر سیاح اس کے سحر سے اتنا مرعوب ہوتے ہیں کہ وہ اس کی تصویر لئے بغیر نہیں رہ سکتے، یہاں پر اکثر درختوں کی ٹہنیوں پر اہل نظر کے نام کندہ ہیں، ہڑپہ شہر کے آثار کے درمیان ایک ٹیلے پر حضرت بابا نور شاہ ولی کا مزار مرجع خلائق ہے، قبر کی لمبائی نو گز ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس مناسبت سے یہ بابا نوگزہ کے نام سے معروف ہیں، ایک روایت کے مطابق قدیم زمانے کے لوگوں کا قد طویل ہوتا تھا، مگر یہاں سے دوران کھدائی برآمد ہونے والے انسانی ڈھانچوں کے قدوقامت سے اندازہ ہوتا ہے کہ قدیم ہڑپہ کے لوگوں کا قد بھی آج کے انسانوں کے قد کے برابر ہوتا تھا، ہڑپہ کے آثار کو اتنا نقصان انسانوں نے نہیں پہنچایا جتنا اس کو نقصان اس زمین میں پائے جانے والے تھور اور نمک سے پہنچا ہے، جس کی وجہ سے یہاں کی مٹی اتنی بھربھری اور کھوکھلی ہو چکی ہے کہ جس کسی مٹی کے ٹیلے پر پاؤں رکھا جائے تو وہ اندر زمیں میں دھنس جاتا ہے، ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق زمین میں پانچ سو مائیکروم نمک کی مقدار کسی چیز کو نقصان نہیں دیتی مگر ہڑپہ کی زمین میں تین ہزار مائیکروم سے بھی زیادہ نمک کی مقدار شامل ہے، چنانچہ آثار کی باقیات کو محفوظ رکھنے کیلئے ان پر مٹی کا پلستر کیا جاتا ہے، جو وہاں پائے جانے والے نمک کو اپنے اندر جذب کر لیتی ہے اور وقت کے ساتھ یہ مٹی کا پلستر جھڑ جاتا ہے، اور پھر اس کی جگہ نیا پلستر کر دیا جاتا ہے، بارش کی وجہ سے بعض جگہ مٹی میں غار نما اتنے گہرے کھڈے ہیں کہ ایک طرف داخل ہو کر دوسری طرف با آسانی نکلا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *