اداریہ ماہ مارچ 2020

قراردادِ پاکستان کے اصل حقائق


مدیر اعلیٰ محی الدین عباسی

چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان قوم کے وہ خوش بخت سپوت تھے جن کو دیانت، محنت اور اعلیٰ قابلیت کی وجہ سے غیر منقسم ہندوستان میں بھی اعلیٰ ذمہ داریاں سونپی گئیں جن کی انجام authorدہی میں وہ ہر لحاظ سے نہایت کامیاب و مامگار ثابت ہوئے۔ تحریک آزادی پاکستان اور قرار داد پاکستان کے حوالے سے بھی چوہدری ظفر اللہ خان کو بفضل اللہ تعالیٰ نہایت ہی مؤثر اور دور رس نتائج کی حامل خدمات انجام دینے کی توفیق ملی۔ یاد رہے متحدہ ہندوستان میں چوہدری صاحب موصوف نے مختلف اوقات میں ایک کامیاب وکیل ، وائسرائے کونسل کے ممبر ، آج کے دور میں مرکزی وزیر، فیڈرل کورٹ (یعنی سپریم کورٹ) کے معزز جج ۔ ان سب سے بڑھ کر مسلم لیگ کے ایک فعال اور کامگار لیڈر کے طور پر مسلمانان ہند کی نمایاں خدمات انجام دیں جن کی وجہ سے انہیں خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ ان کی متحدہ ہندوستان اور قیام پاکستان کے بعد کی اہم اور نمایاں خدمات اور کامیابیوں کا تذکرہ تاریخ ماضی بعید کا حصہ بن چکا ہے۔ یہاں ان کی 23؍ مارچ 1940 ء کی قرار داد پاکستان کے اصل حقائق کی حیثیت کے حوالے سے ذکر کر رہا ہوں۔

قائد اعظم نے 1929ء دہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں نہرو رپورٹ کے جواب میں 14 نکات پیش کئے جو کہ تحریک پاکستان میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس میں ایک علیحدہ مملکت ریاست کا ذکر قابل ستائش ہے۔ 23 مارچ 1940ء میں قرار داد پاکستان لاہور پیش کی گئی جو کہ مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ ریاست بنام پاکستان کی بنیاد ڈالی اور اس کے کے لئے مصروف عمل ہوگئے۔ قرار داد پاکستان کس نے لکھی تھی ؟ پاکستانیوں کو علم ہی نہیں کہ حصول آزادی میں ’’ قرار داد پاکستان ‘‘ کا کیا کردار تھا۔ اہل علم اور قائد کے ساتھیوں کو اس کا بخوبی علم ہے۔ البتہ ہماری نئی نسل کے لئے یہ ضروری ہے ۔ اس ضمن میں سر محمد ظفر اللہ خان صاحب فرماتے ہیں۔

’’میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ لارڈ لینتھ گو کے 12 مارچ کے خط میں میرے اس کا حوالہ دیا گیا ہے وہ اس حقیقت پر مبنی تھا کہ ہندوستان میں مسلمان ایک واضح طور پر علیحدہ قوم ہیں اور یہ کہ آئینی مسئلے کا واحد تسلی بخش اور قابل قبول حل یہ ہے کہ شمال مشرقی اور شمال مغربی علاقوں پر مشتمل فیڈریشن قائم کی جائے اور یہ بالکل وہی مطالبہ تھا جو کچھ دنوں بعد 23؍ مارچ 1940ء کی مسلم لیگ کی قرار داد میں پیش کیا گیا۔ دو قومی نظریہ شمال مشرقی اور شمال مغربی فیڈریشن کے قیام کی سکیم میرے نوٹ میں تفصیل اور وضاحت سے پیش کی گئی ہے جو میرے ہم عصروں یا مجھ سے پہلے لوگوں میں سے کسی دستاویز یا بیان میں قطعاً نہیں ۔ ‘‘(بحوالہ پاکستان ٹائمز 13؍ فروری 1982ء )

سر محمد ظفر اللہ خان کا وہ نوٹ جو انہوں نے لارڈ لینتھ کو بھجوایا تھا اس کے بارے میں فرماتے ہیں :

’’میرا یہ نوٹ ماہ فروی 1940ء کے آخری نصف میں تیار کیا گیا تھا تا کہ اسے سرکاری ڈاک والے تھیلے میں شامل کردیا جائے جو لارڈ لینتھ گو کے 12؍ مارچ والے خط سے پہلے جانا تھا اس خط اور میرے نوٹ کے بغور مطالعہ سے یہ بات کسی شک و شبہ کے بغیر واضح ہوجاتی ہے کہ یہ نوٹ میں نے ذاتی طور پر پہل کرکے خود تیار کیا تھا اور میں اس کے مندرجات کے ہر حصے کا اکیلا ذمہ دار تھا۔ ‘‘ (بحوالہ پاکستان ٹائمز 13؍ فروری 1982ء )

چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب نے یہ بات بھی واضح کی کہ لارڈ لینتھ گو نے 12؍ مارچ کو اپنے مضمون میں 1940ء کے مکتوب بنام سیکرٹری آف سٹیٹ برائے انڈیا میں خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے ۔ میرے نوٹ کی ایک کاپی پہلے ہی قائد اعظم کو بھیج دی گئیی تھی۔ جس نوٹ کی کاپی لارڈ لینتھ گو نے قائد اعظم کی خدمت میں بھجوائی تھی چند دن بعد وہی سکیم ’’ قرار داد پاکستان ‘‘ کی شکل میں مسلم لیگ کے اجلاس میں 2؍ مارچ 1940ء میں پاس کی گئی ہے۔

 ’’ قرار داد پاکستان‘‘ کے مسودے کی وضاحت بیان کرنے کے  بعد سر ظفر اللہ خان صاحب اپنے عجز کا ان الفاظ میں اظہار کرتے ہیں ۔

’’ میں نے ہمیشہ بار بار زبانی اور تحریری طور پر اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ جہاں تک انسانی رشتوں کا تعلق ہے پاکستان صرف ایک شخص کی مخلصانہ اور بھرپور کوششوں سے معرض وجود میں آیا اور وہ قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔ انہوں نے اکیلے ہی دم توڑتی ہوئی آل انڈیا مسلم لیگ کو پھر سے زندہ کیا اور اسے ایک فعال اور مؤثر سیاسی تنظیم میں مربوط کردیا اور وہ اس کے مسلّم اور متحرک قائد تھے۔ ناقابل قبول نظر آنے والی مشکلات کے باوجود انہوں نے مقصد کو پالیا جو انہوں نے اپنے سامنے رکھا تھا اور اگر چہ متعدد لوگوں نے وفاداری اور صدق کے ساتھ ان کا ساتھ دیا تھا لیکن حصول پاکستان میں کامیابی کا کریڈٹ اکیلے محمد علی جناح کو جاتا ہے ۔ اس بارے میں کسی جہت سے شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ ‘‘

(پاکستان ٹائمز 13؍ فروری 1982ء )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *