درس القرآن ماہ مارچ 2020

یَوْمَ نَدْعُوْا کُلَّ اُنَاسٍ م بِاِمَامِھِمْ ج فَمَنْ اُوْتِیَ کِتٰبَہٗ بِیَمِیْنِہٖ فَاُولٰٓئِکَ یَقْرَئُوْنَ کِتٰبَھُمْ وَلَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا وَمَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٖ اَعْمٰی فَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا (بنی اسرائیل : 71، 72)

ترجمہ :  وہ دن (یاد کرو) جب ہم ہر قوم کو اس کے امام کے حوالے سے بلائیں گے۔ پس جس کو اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو یہی وہ لوگ ہوں گے جو اپنا اعمال نامہ پڑھیں گے اور وہ ایک تاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کئے جائیں گے۔ اور جو اسی دنیا میں اندھا ہو وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا اور راہ کے اعتبار سے سب سے زیادہ بھٹکا ہوا ۔

(اردو ترجمہ فرمودہ حضرت مرزا طاہر احمد خلیفة المسیح الرابع ؒ)

تشریح :    یہاں اَعْمٰی سے مرد یہ نہیں کہ ظاہری آنکھ سے جو اندھا ہو وہ قیامت کے دن بھی اندھا ہی ہوگا بلکہ ظاہری آنکھیں رکھنے والے جو بصیرت سے محروم ہیں وہ قیامت کے دن بھی بصیرت سے محروم ہوں گے۔

امام اس کو کہتے ہیں جس کی اتباع کی جاوے۔ بدکار بدکاروں کی اقتداء کرتے ہیں اس لئے ان کا نام امام بد ہے۔ نیک نیکوں کی اقتداء کرتے ہیں اس لئے ان کا نام امام نیک ہے۔

دانشمند انسان غور کرے کہ وہ جہاں اوّلین و آخرین جمع ہوں گے کس جماعت میں پیش ہونا چاہتا ہے۔ دنیا میں بھی کوئی بدمعاشوں، شہدوں کے ساتھ ہو کر بادشاہ کے حضور پیش ہونا پسند نہیں کرتا تو   اَحْکُمُ الْحَاکِمِیْن کے حضور اوّلین و آخرین کے سامنے کب گوارا کر سکتا ہے کہ بری جماعت میں ہوکر پیش ہو۔

یہ بات بڑی غور طلب ہے کہ ایک شخص بظاہر اچھے لباس میں لوگوں کے سامنے آتا ہے ۔ نمازی بھی نظر آتا ہے لیکن کیا اسے اتنی ہی بات پر مطمئن ہوجانا چاہیے ؟ ہرگز نہیں اگر اسی پر انسان کفایت کرتا ہے اور اپنی ساری ترقی کا مدار اسی پر ٹھہراتا ہے تو وہ غلطی کرتا ہے ۔ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے یہ سرٹیفکیٹ نہ مل جاوے کہ وہ مومن ہے وہ مطمئن نہ ہو۔ سعی کرتا رہے اور نمازوں اور دعائوں میں لگا رہے تا کہ کوئی ایسی ٹھوکر نہ لگ جاوے جو ہلاک کردے۔ عام طور پر تو یہ فتویٰ اسی وقت ملے گا جبکہ سعادت مند جنت میں داخل ہوں گے اور شقی دوزخ میں ۔ لیکن خدا تعالیٰ یہاں بھی التباس نہیں رکھتا۔ اسی دنیا میں بھی یہ امر فیصل ہوجاتا ہے اور مومن اور کافر میں ایک بین امتیاز رکھ دیتا ہے جس سے صاف صاف شناخت ہوسکتی ہے۔ ہر ایک شخص ان آثار اور ثمرات کو جو ایمان اور اعمال صالحہ کے ہیں اسی دنیا میں بھی پاسکتا ہے اگر سچا مومن ہو بلکہ اگر کوئی شخص اس دنیا میں کوئی نتیجہ اور اثر نہیں پاتا تو اسے استغفار کرنی چاہیے۔ اندیشہ ہے کہ وہ آخرت میں اندھا نہ اٹھایا جاوے۔

وَمَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٖ اَعْمٰی فَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی

حضرت امام علیہ الصلوٰة والسلام نے بارہا اس سوال کو چھیڑا ہے اور اپنی تقریروں میں بیان کیا ہے کہ بہشتی زندگی اور اس کے آثار اور ثمرات اسی عالم سے شروع ہوجاتے ہیں جو شخص اس جگہ سے وہ قویٰ نہیں لے جاتا وہ آخرت میں کیا پائے گا۔

{حقائق الفرقان جلد 2صفحہ 553-554}

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *