بریگزٹ ہوچکا، اب…!

ناصر ذوالفقار

بالآخر بریگزٹ بل پر ملکہ برطانیہ نے دستخط ثبت کردیے اور اب یہ قانون کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ ساڑھے تین برسوں کے بعد برطانوی شہریوں نے قدرے سُکھ کا سانس لیا جب بریگزٹ پر عمل درآمد شروع ہوا ہے۔

اس سارے عرصے میں ملک میں ایک ہیجان اور بے یقینی کی فضاء قائم رہی اور سیاسی لحاظ سے بھی ہلچل رہی جس نے قومی راہ نماؤں کو تقسیم کرکے رکھ دیا تھا۔ اس دوران اظہاررائے کے حوالے سے برطانیہ دو حصّوں میں منقسم رہا، کچھ کا خیال تھا کہ یہ عمل جلدازجلد مکمل ہو جب کہ کچھ سمجھتے تھے کہ یورپ سے انخلاء کے معاملے پر نیا ریفرنڈم کروایا جائے اور کچھ کا اصرار تھا کہ اسے منسوخ کردیا جائے۔ ابھی بریگزٹ کی رسمی کارروائی شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ برطانوی شاہی خاندان میں دراڑیں پڑچکی ہیں جسے اچھا شگون نہیں سمجھا جارہا۔ شہزادہ ہیری اور ان کی امریکی شریک حیات دونوں نے شاہی محل چھوڑدیا ہے۔

برمنگھم پیلس کے اعلامیے کے مطابق وہ شاہی خدمت سے دست بردار ہوگئے ہیں اور ان سے HRH کے القابات بھی واپس لے لیے گئے ہیں۔ برطانیہ میں بریگزٹ کے معاملے پر نئے وزیراعظم بورس جانسن بضد تھے کہ پچھلے سال اکتوبر کے اختتام تک یورپ سے کنارہ کشی اختیار کرلیں اور پھر بات قبل از الیکشن کی طرف چلی گئی۔ اس طرح پہلے لگ رہا تھا کہ تیسرے وزیراعظم بھی بریگزٹ کی وجہ سے گھر چلے جائیں گے اور بریگزٹ شاید جلد ممکن نہ ہو، لیکن حالیہ انتخابات نے پانسہ یکسر پلٹ دیا ۔ حکم راں جماعت کو توقع کے برخلاف تاریخی فتح ملی اور جانسن سرخ رو ہوگئے کہ انہیں بریگزٹ پر زبردست حمایت مل چکی ہے۔

آنے والے وقتوں میں بریگزٹ یعنی برطانیہ کے یورپی اتحاد سے کنارہ کشی کے بعد برطانیہ کے بارے میں تشویش لاحق ہے کہ اسے کئی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں جن میں شمالی آئرلینڈ کی سرحدوں کے تعین کا معاملہ، اسکاٹ لینڈ کے برطانیہ سے جڑے رہنے، جزیرہ جبرالٹر پر حق ملکیت کا فتنہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ برطانیہ کی درس گاہوں میں پڑھنے والے غیرملکی طالب علموں اور کام کرنے والے یورپی ورکروں کے لیے بھی پیچیدہ مسائل کھڑے ہوسکتے ہیں۔ بریگزٹ کی ابتدائی تاریخ 29 مارچ رکھی گئی تھی جسے 31 اکتوبر 2019 تک توسیع دی گئی اور آخر کار نئے سال جنوری 2020 کا آخری دن بریگزٹ پورا ہونے کا دن قرار پایا۔

یورپ سے طلاق یعنی ’’بریگزٹ‘‘ حاصل کرنے کی کہانی شروع ہوتی ہے 2016 ء سے جب کہ مقابلتاً اکثریتی رائے عامہ یورپ سے نکلنے کی حامی تھی۔ اس وقت کے وزیر اعظم ڈیوڈکیمرون نہایت پُرجوش اور مطمئن دکھائی دے رہے تھے لیکن ریفرنڈم کے نتائج نے انہیں مایوس کردیا اور ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ چناںچہ وہ اسے اپنی اخلاقی شکست سمجھتے ہوئے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔ یاد رہے کہ ریفرنڈم کے نتائج کی حمایت میں 53 فی صد اور اس کی مخالفت میں 47 فی صد ووٹ ڈالے گئے جو یورپ میں رہنے کے حامی تھے۔ مئی 2016 ء میں نئی وزیراعظم کے آنے کے بعد ان کے اقتدار کا سارے کا سارا وقت بریگزٹ کے دفاع میں گزرا اور صورت حال نے انہیں پریشان کیے رکھا، جن کی پارٹی کے 21 ارکان اپوزیشن سے جاملے تھے۔ وزیراعظم تھریسا مے کو پارلیمان میں متواتر تین بار زبردست شکست وہزیمت کا سامنا کرنا پڑاتب وہ بریگزٹ کا دفاع نہ کرسکیں اور عہدے سے استعفیٰ دے گئی تھیں۔

اگلے وزیراعظم بورس جانسن نے آتے ہی بریگزٹ پر جارحانہ انداز اپنایا اور انہوں نے بریگزٹ کی ڈیڈ لائن (31 اکتوبر) کے لیے دوٹوک الفاظ میں اعلان کردیا کہ وہ یورپی یونین سے کوئی معاہد ہ یا ڈیل ہوئے بنا اس مقررہ تاریخ کو یورپ سے نکل جائیں گے۔ اپنے پلان کو کام یاب بنانے کے لیے یک طرفہ طور پر ملکہ کے حکم سے پارلیمنٹ کو پانچ ہفتوں کے لیے تالا لگوادیا تھا جو کہ سراسر غیرآئینی اقدام تھا جسکا مقصد محض یہ تھا کہ بریگزٹ پر کسی قسم کی مخالفت کا سامنا نہ کرنا پڑے اور نہ کوئی بحث و مباحثہ ممکن ہوسکے لیکن سپریم کورٹ نے مداخلت کرکے اس اقدام کو کالعدم قرار دے دیا اور پارلیمنٹ تین روز بند رہنے کے بعد دوبارہ کھول دی گئی۔ اپوزیشن کی سخت مزاحمت کو دیکھتے ہوئے آخرکار معاملہ نئے انتخابات پر ختم ہوا۔

بظاہر یہی لگ رہا تھا کہ وزیراعظم بورس جانسن بھی اقتدار چھوڑ دیں گے لیکن اس کے برخلاف موجود حکم راں پارٹی کنزرویٹو نے بھاری اکثریت سے میدان مار لیا اور بریگزٹ کے لیے راستہ ہم وار ہوگیا۔ دوتہائی اکثریت کے بعد اب بریگزٹ پر عمل درآمد شروع ہوچکا ہے۔ اگرچہ برطانیہ میں عام انتخابات کا سال 2022 ء تھا لیکن ’’بریگزٹ‘‘ کے معاملہ سے نمٹنے کے لیے پارلیمنٹ میں اتفاق رائے احسن طریقے سے انجام پاگیا۔

اپنی کام یابی کے فوری بعد بورس جانسن نے کہہ دیا تھا کہ انہیں ’’بریگزٹ‘‘ کے لے بڑا مینڈیٹ مل چکا ہے۔ لیبر پارٹی کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے جس کے باعث پارٹی کے سربراہ جیرمی کوربن صدارت چھوڑچکے ہیں۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد لیبر پارٹی کی یہ بدترین شکست تھی۔

اسے وہاں سے شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے جہاں 2016 ء کے بریگزٹ منصوبے پر ہونے والے ریفرنڈم میں زیادہ حمایت سامنے آئی تھی جن میں شمالی انگلینڈ، مڈلینڈر اور ویلز کے علاقے شامل ہیں۔ لیبر پارٹی کے ووٹوں میں 8 فی صد کمی آئی ہے۔ اس کے برخلاف اسکاٹ لینڈ کی قومی جماعت SNP کی زبردست جیت ہوئی ہے جس نے اسکاٹ لینڈ کی 59 سیٹوں میں سے 48 پر سبقت حاصل کی۔ یہ پچھلے الیکشن کے مقابلے میں 35 کے مقابلہ پر 13 سیٹیں زیادہ ہیں۔ ان نتائج کے فوراً بعد ہی اسکاٹش قومی پارٹی کی سربراہ نکولا اسٹرجن نے کہہ دیا ہے کہ ’’ہماری جیت دوسرے ریفرنڈم کا واضح پیغام ہے!‘‘ انہوں نے کنزرویٹو سے یہ گلہ بھی کردیا ہے کہ ہم نے 2016 ء میں بریگزٹ پر ریفرنڈم میں یورپی اتحاد سے جُڑے رہنے کے لیے ووٹ دیے تھے! خیال رہے کہ اسکاٹ لینڈ بھی یورپی یونین کا ایک اہم رکن ہے اور برطانیہ کے یونین چھوڑنے کے نتیجے میں اسے بھی یورپی اتحاد سے الگ ہونا پڑے گا اور دوبارہ سے یورپی اتحاد کا حصہ بننے کے لیے آزادانہ حیثیت تسلیم کروانی ہوگی۔

لہٰذا اب صورت حال اسکاٹ لینڈ والوں کے لیے نئے ریفرنڈم کی طرف جارہی ہے اور جب ہی فیصلہ ہوپائے گا کہ وہ سلطنت برطانیہ کا جز رہنا چاہے گا یا پھر یورپی یونین کی گود میں پناہ لے گا۔ اسکاٹ لینڈ کی قومی جماعت نے موجودہ الیکشن میں ڈالے گئے اسکاٹش ووٹوں کا 45 فی صد حاصل کیا ہے جو کہ خوش آئند ہے اور یہ پچھلے انتخابی نتائج سے8 فی صد بڑھ چکا ہے۔ برطانیہ میں اس الیکشن نے اچھے اثرات مرتب کیے ہیں۔ پاؤنڈ کی حد ڈالر کے مقابلے میں 1.35 بڑھی ہے لیکن یورو کے مقابلے میں قدر تین سالوں میں بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے بورس کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ بریگزٹ کے بعد اب برطانیہ اور امریکا نئے تجارتی معاہدوں کے لیے آزاد ہوں گے۔

فروری کے مہینے میں یورپ سے ایک سفیر لندن بھیجا جارہا ہے۔31 جنوری کی نصف شب کے بعد سے برطانیہ اب یورپ کے لے اجنبی ملک ہوچکا ہے۔ اگرچہ پڑوسی کے طور پر اس کی اہمیت رہے گی۔ یورپی پارلیمنٹ میں برطانیہ کے 29 نمائندے اپنا سامان باندھ چکے ہیں اور اب ملک کے وزیراعظم جانسن بھی یورپی سربراہان ممالک کی کونسل میں نہیں جاسکیں گے جب کہ ان سے بریگزٹ معاملات پر بات چیت جاری رہے گی۔ یورپی یونین کے مذاکراتی ٹیم کے سربراہ مشیل بارنیئر نے کہا ہے کہ ’’ہم متاثر نہیں ہوںگے!‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ سب کچھ بدل جائے گا۔ ابھی انتظار کرنا ہوگا! یکم فروری سے ہی منتقلی کی میعاد شروع ہوچکی ہے اور یہ وقت ہی بتاسکے گا کہ برطانیہ و یورپ کے مابین نیا تعلق کیسا ہوگا؟

لندن اور برسلز کے مابین یورپ سے دست برداری کا معاہد ہ 550طویل صفحات پر مشتمل دستاویز ہے جو کہ علیحدگی کے انتظامات کرنے والا واحد آفیشل ڈاکومنٹ ہے، اس کی بنا تھریسامے اور بورس جانسن سے بات چیت نہایت مشکل عمل تھا۔ اس کے متن میں یورپی یونین میں برطانوی شہریوں کے حقوق جن میں معاشرتی تحفظات اور ریٹائرمنٹ وغیرہ کے بارے میں طے کیا گیا ہے جس میں ان کی ساری زندگی کی ضمانت دی گئی۔ اس پر پیچھے ہٹنے والا کوئی قانون لاگو نہیں ہوگا۔ دوسری طرف ان کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے خود کو رجسٹرڈ کروانے کے لیے کاروائی مکمل کریں۔

اس طرح کا جو بھی تنازعہ پیدا ہوسکتا ہے اس کے لیے ایک آزاد اتھارٹی تشکیل دی جارہی ہے۔ سیاحتی لحاظ سے 2021 ء تک یورپ یا برطانیہ سے دوطرفہ ٹریفک کی صورت حال جوں کی توں رہے گی جب کہ ملک میں داخلے کے وقت اصلی شناخت درکار ہوگی۔ یورپی یونین اور یورپی کمیشن کے سربراہان نے بھی انخلاء کے اس معاہدے ’بریگزٹ‘ پر دستخط کردیے ہیں۔ اگلی باری یورپی پارلیمنٹرین کی ہے۔ اس وقت یورپی قائدین کے لیے مذاکراتی مینڈیٹ کا فیصلہ کرنا ہوگا جس کا اختیار مشیل بارنئیر کو دیا گیا ہے۔ مذاکرات جاری ہیں اور خیال ہے کہ یہ 25 فروری تک جاری رہیںگے۔

امیگریشن اور تجارتی ڈیل: بریگزٹ کے فوری صدمے کے اثرات سے نمٹنے کے لیے گیارہ ماہ کا وقفہ دیا جارہا ہے۔ اسے عبوری دور(Transition Period)کہتے ہیں۔ اس عبوری وقت میں برطانیہ کے ساتھ یورپی تعلقات کے حوالے سے برطانیہ سے سختی سے بات چیت کی جائے گی جو علیحدگی کے ابتدائی اثرات میں سے ایک ہے۔ تجارتی ڈیل جسے ’’سیاسی اعلامیہ‘‘ کہا جارہا ہے، یہ ایک خاکہ ہے جسے یورپ سے نکلنے کے ساتھ ہی شائع کیا جائے گا۔ اگر سب ہی کچھ منصوبہ بندی کے تحت ہوتا ہے جیسے کہ بریگزٹ کے بعد تجارت کیسے ہوگی؟ تو ان تفصیلات کو اس عبوری مدت کے دوران جاری کیا جائے گا۔ اس ڈیل کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ باقاعدہ یورپ سے برطانوی انخلاء سے پیدا ہونے والا خلاء کو کسی حد تک پرُ کیا جاسکے اور ایک نئے تعلق کی شروعات ہوسکے۔

یورپی یونین سے علیحدگی کا ایگزٹ بل جسے Withrawal Agreemnetکہا جاتا ہے، پارلیمنٹ میں 358 کے مقابلے میں 234 ووٹوں سے پاس ہوا تھا۔ ایگزٹ ڈیل 27 صفحات پر مشتمل ہے جس کا ٹائٹل ہے،’’Political Declaration Setting out of The Framework for the Future Relation between Europian۔ Union and The United Kingdom‘‘ ۔ برطانوی عوام جاننا چاہتے ہیں کہ یونین سے تجارت جاری رہے گی جس میں مال کے محصولات کے لیے درآمدی اشیاء کی ادائیگی یا مخصوص برقرار رہے گا؟ کوٹاپچھلے سال برطانیہ کی کل تجارت (اشیاء و خدمات) 1.3 ٹریلین پاؤنڈ تھی۔ بی بی سی نے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ برطانوی کابینہ نے متفقہ طور پر قومیت کے بجائے مہارتوں کی بنیاد پر ایک نظام کی حمایت کی ہے جب کہ پچھلی وزیراعظم تھریسامے متعدد بار دہرا چکی ہیں کہ ’’بریگزٹ کے بعد یورپ سے لامحدود امیگریشن ختم ہوجائے گی!‘‘ ایک اصولی اتفاق بھی زیرغور ہے کہ کام کی رسائی کے لیے تعصب کو ہوا نہ دی جائے جب کہ ایک ممکنہ عمل یہ ہے کہ یورپی یونین کے شہریوں کے لیے ’’ہلکا ٹچ مائیگریشن‘‘ کا قانون بریگزٹ ڈیل کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔

جزیرہ جبرالٹر کا جھگڑا: جب سے بریگزٹ شروع ہوا ہے اس جزیرے جبرالٹر کا تنازعہ بھی سر اٹھانے لگا ہے۔ یہاں 711 ء سے 1462 ء تک مسلمانوں کی حکومت قائم رہی تھی۔ اسپین کی جنوبی حدود میں یہ پہاڑی علاقہ جو چونے کے پتھر ’’راک آف جزائر‘‘ کی وجہ سے شہر ت رکھتا ہے مسلمانوں کے بعد اسپین کے پاس چلا گیا جس کے بعد اینگلو ولندیزی فوج نے اسے اسپین سے چھین لیا تھا۔ لیکن 1713ء سے یہ برطانوی علاقہ ہے۔ یہ نہایت اہم محل وقوع کا حامل فوجی دفاعی علاقہ ہے جہاں فوجی اڈا، بندرگاہ اور جہازوں کے اُڑنے اور اترنے کے لیے فضائی پٹی بھی ہے۔ یہ تجارتی جہازرانی، تیل کی ترسیل اور فوج سے متعلق سازوسامان کی منتقلی کے لیے اہم جگہ ہے۔ اگرچہ یورپی یونین کا حصّہ ہونے کے باوجود جبرالٹر باہر سے درآمدات پر اپنے ٹیرف خود مقرر کرتا ہے، تاہم اسپین اور برطانیہ دونوں اس پر اپنا حق ملکیت جتاتے ہیں اور اپنے دعوے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کا حوالہ دیتے ہیں۔

32000 ہزار افراد پر مشتمل آبادی کے اس جزیرے کو حق خودارادیت حاصل ہے لیکن اسپین اسے نہیں مانتا۔ 2002 ء میں جبرالٹر کے رہنے والے 99 فی صد رہائشیوں نے اسے مسترد کردیا تھا کہ جبرالٹر کی خودمختاری مشترکہ طور پر برطانیہ اور اسپین کے پاس رہے۔ اسپین کو تشویش ہے کہ جزیرے کی سرحد کا ناجائز استعمال ہورہا ہے اور اس کے وسائل کو نقصان ہورہا ہے۔ بریگزٹ معاملے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑنے سے مستقبل میں برطانیہ کے ساتھ جو معاہدہ طے ہوگا وہ اسپین کی مرضی کے بغیر جبرالٹر پر لاگو نہیں ہوگا۔ یہاں کے انگریز باشندوں نے بریگزٹ کے خلاف ووٹ دیے تھے۔ اس وقت کے برطانیہ کے وزیرخارجہ اور موجودہ وزیراعظم جانسن نے کہا تھا کہ جبرالٹر کی خودمختاری میں کوئی تبدیلی نہ آئی ہے اور نہ آئے گی۔ لیکن اسپین والے اس صورت حال سے نالاں ہیں۔

اب یورپ سے کیا انگریزی بھی رخصت ہوجائے گی؟ بریگزٹ کی کہانی کے ساتھ ہی یورپین یونین کی اپنی زبانوں سے وابستگی اور قومیت پرستی بھی کھل کر سامنے آچکی ہے۔ یونین کے 28 ممالک کی 24 سرکاری زبانیں ہیں۔ یہاں زبان کی مساوات کو اولیت حاصل ہے۔ 2016 ء میں ممبر یورپی پارلیمنٹ اور چیئر آف دی پارلیمنٹ برائے آئینی معاملات محترمہ ڈینوتا ہنبر (Danuta Hunber) نے کہہ دیا تھا کہ “if we don’t have the UK, we don’t have English! “۔ یعنی اگر ہم برطانیہ کو نہیں رکھیں گے تو ہم انگریزی کو بھی نہیں رکھیں گے۔ یہ محترمہ اس معاملے پر بہت سرگرم ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ یونین کی سرکاری زبانوں کو خطرات لاحق ہیں۔ جرمن چانسلر انجیلا مرکل بھی دو ٹوک الفاظ میں کہہ چکی ہیں کہ ’’بریگزٹ کے بعد برطانیہ کی مرضی چلنے والی نہیں ہے!‘‘ جب کہ یورپی پارلیمنٹ کے سنیئر ارکان کا مطالبہ ہے کہ یونین سے اخراج کے بعد انگلش زبان بھی زیادہ دیر تک یونین کی سرکاری زبان کے طور پر نہیں رہ سکے گی۔

اسے بھی یونین سے فارغ کردیا جائے گا۔ یورپی ماہرینِ لسانیات کہتے ہیں کہ انگریزی ایک حکم رانی کرنے والی (dominate) زبان ہے۔ یورپ میں انگریزی نہ بولنے والے دوسروں کے مقابلے میں پس ماندہ رہ جاتے ہیں۔ لسّانی طور پر یہاں یونین کی ہر ریاست کو مساوی حقوق حاصل ہیں کہ وہ اپنی زبان کو سرکاری طور پر استعمال کرے۔ فرانسیسی سیاسی راہ نما جین لوس میلنجان نے بھی بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ ’’انگریزی یورپی پارلیمنٹ کی ورکنگ زبان کی حیثیت سے زیادہ دیر اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتی!‘‘

اٹلی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ممبر یورپی پارلیمنٹ نے انگریزی پر اپنا غصہ اتارتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم آخر اب تک کیوں اس لغو زبان کو برداشت کیے ہوئے تھے !‘‘ یورپ میں ایک مشترکہ زبان کے طور پر ’’اسپرانتو یورپی یونین‘‘ کئی سالوں سے سرگرِم عمل ہے۔ اسپرانتو کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یورپ کی تمام سرکاری زبانوں کے ساتھ بنیادی اصول اور ثقاوتوں کے ساتھ مساوات کا احترام مشکل ہے۔ انگریزی مرکزی یونین بینک کی واحد ورکنگ زبان ہے جو کہ تعصب کا شکار ہوچکی ہے اس لیے سیکھنے میں آسان اور منصفانہ زبان اسپرانتو کا انتخاب کیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *