دیوارِ برلن وہ جو لوگوں کو تقسیم کرے

ديوارِ برلن کے انہدام کے 30 برس مکمل ہونے پر منعقدہ ايک تقريب سے خطاب کرتے ہوئے جرمن چانسلر اينگلا مرکل نے کہا ہے کہ ’ہر وہ ديوار جو لوگوں کو تقسيم کرے اور ان کي آزاديوں پر پابندي لگائے وہ اتني بلند نہيں ہو سکتي کہ اسے توڑا نہ جا سکے۔‘

سرد جنگ کے دور ميں ديوارِ برلن سوويت يونين کے زير انتظام مشرقي برلن کو مغربي برلن سے جدا کرنے کے ليے بنائي گئي تھي۔ اس کي تعمير 1961 ميں شروع ہوئي۔

1989 ميں اس کے انہدام کو لبرل جمہوريت کي فتح کے طور پر ديکھا گيا۔ اس کے انہدام کے ايک برس بعد منقسم جرمني کا اتحاد بحال ہوا تھا۔

سنيچر کے روز اينگلا مرکل نے متبنہ کيا کہ آزادي، جمہوريت، مساوات، قانون کي حکمراني اور انساني حقوق جيسي قدريں جن پر يورپ کي بنياد رکھي گئي وہ روز روشن کي طرح عياں ہيں تاہم ان قدروں کا تواتر کے ساتھ دفاع اور انھيں تقويت پہنچانا بہت ضروري ہے۔

ديوارِ برلن کے ميموريل پر منعقدہ تقريب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا مزيد کہنا تھا کہ ’ہميں آزادي اور جمہوريت کے ليے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے کسي بھي طرح کے حيلے بہانوں سے دور رہنا چاہيے۔‘

بہت سے يورپي ممالک ميں حال ہي ميں دائيں بازو کي سياست ميں اضافہ ديکھا گيا ہے جبکہ چند يورپي ممالک جيسا کہ پولينڈ اور ہنگري پر قانون کي بالادستي کو کمزور کرنے کے الزامات بھي لگے ہيں۔

1989 ميں وسطي اور مشرقي يورپ ميں برپا ہونے والے انقلاب کے دوران ديوار برلن کو گرا ديا گيا تھا۔ اس انقلاب کے دوران عوامي احتجاج اور سياسي تحريکوں کے باعث بہت سي سوويت نواز کميونسٹ حکومتوں کا تختہ پلٹا گيا۔

جرمني کے صدر فرينک والٹر نے جرمني کے ہمسايہ ممالک کو خراجِ تحسين پيش کرتے ہوئے کہا کہ ’پولينڈ، ہنگري، چيک ريپبلک اور سلواکيہ کي آزادي کي خواہش کے بغير مشرقي يورپ ميں انقلاب اور جرمني کا اتحاد ناممکن تھا۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’لبرل جمہوريت کو چيلنجز درپيش ہيں۔‘

جرمني کے وزير خارجہ کا کہنا تھا کہ يورپ ميں طاقت کا محور بدل رہا ہے اور آمرانہ طرز حکومت ميں اضافہ ہو رہا ہے۔

اگرچہ امريکي وزير خارجہ اس تقريب ميں موجود نہيں تھے تاہم رواں ہفتے کہ آغاز پر انھوں نے برلن کا دورہ کيا تھا۔

جمعہ کو اپني ايک تقرير ميں انھوں نے بھي متنبہ کيا کہ ‘آزادي کي ضمانت ہميشہ کے ليے نہيں ہوتي۔’ چين اور روس کو ہدف تنقيد بناتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘آج آمرانہ طرز حکومت ايک مرتبہ پھر اپنا سر اٹھا رہي ہے۔’

ديوارِ برلن کا انہدام کيسے ممکن ہوا؟

دوسري جنگ عظيم کے بعد يورپ اس وقت کے سوويت يونين اور اس کے مغربي اتحاديوں کے مابين تقسيم ہو گيا تھا۔مشرق يورپ کو مغربي يورپ سے دور رکھنے کے ليے سوويت يونين نے ‘آہني پردے’ لگانے کا کام شروع کيا۔ اس عمل سے جرمني منقسم ہو گيا، مشرقي جرمني پر سوويت يونين کا قبضہ ہوا جبکہ مغربي جرمني امريکہ، برطانيہ اور فرانس کے قبضے ميں آيا۔ديوار برلن کي تعمير 1961 ميں شروع ہوئي اور اس کا مقصد مشرقي جرمني سے بھاگ کر مغربي جرمني جانے والے افراد کو روکنا تھا۔1989 ميں برپا ہونے والے انقلابوں سے مشرقي يورپ ميں کئي سوويت نواز حکومتوں کا خاتمہ ہوا اور عوام نے آزادي کا مطالبہ کيا۔اس سلسلے ميں مشرقي جرمني ميں سلسلہ وار عوامي مظاہرے ہوئے جن کے تحت ہزاروں افراد ديوار برلن کي سرحد پر پہنچے اسے ہتھوڑوں کي مدد سے توڑا اور عبور کيا۔

ديوار برلن کي لمبائي 155 کلو ميٹر تھي

ديوارِ برلن چار مراحل ميں مکمل ہوئي۔ 1961 ميں خاردار تار لگائي گئي اور 1962 سے 1965 تک خاردار تار کو مزيد مستحکم کيا گيا، تيسرے مرحلے ميں ديوار کھڑي کي گئي جبکہ 1975سے 1989 تک چوتھے اور آحري مرحلے ميں بارڈر وال مکمل کي گئي۔

ديوار برلن کي يادگار کے طور پر اس کا صرف تين کلوميٹر لمبا حصہ محفوظ رکھا گيا ہے۔    (بشکريہ بي بي سي )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *