جرمن کا نیا امیگریشن قانون-روزگار کے نئے مواقع

Fachkräfteeinwanderungsgesetz

عرفان احمد خان

جرمني ايک صنعتي ملک ہونے کے ناطے برآمدات ميں دنيا کے اولين ممالک ميں شمار ہوتا ہے ۔ متعلقہ اداروں کي طرف سے ہر ماہ صنعتي پيداوار کي رپورٹ جاري کي جاتي ہے ۔ اس اعتبار سے 2019 کا سال زيادہ خوش کن نہيں رہا۔ 2018ء کے دوران جرمني ميں پيداواري اوسط ميں  جو کمي کا رجحان شروع ہوا تھا وہ سنبھلنے کي بجائے 2019ء ميں اور زيادہ نيچے چلا گيا ہے ۔ جو حکومت اور صنعتي مالکان اور ان سے وابستہ اداروں کے لئے پريشاني کا باعث بنا ہے۔ چنانچہ 2019ء کے دوسرے حصہ ميں ہر طرف سے يہ آوازيں آنا شروع ہو گئي تھيں کہ اگر ہم نے اپني صنعتي پيداواري صلاحيت کو نہ سنبھالا تو ملکي برآمدات کا ليول برقرار نہيں رکھا جا سکے گا۔ ان مسائل ميں سب سے اہم مسئلہ معياري افرادي قوت يعني ہنر مند افراد کي کمي ہے۔ درمياني درجہ کي صنعتوں کے مالکان کي يونين (verband)نے حکومت کو نوٹس دے ديا تھا کہ اگر ليبر کے حصول کيلئے يورپي يونين سے باہر کے ممالک کو اجازت نہ دي گئي تو ہم اپنے صنعتي يونٹ باہر کے قريبي ممالک ميں منتقل کرنے پر مجبور ہوں گے۔ 

جرمني کي اندروني صورتحال يہ ہے کہ يہاں ہر سال 50 ہزار بچے لازمي بنيادي تعليم حصول کے دوران سکول جانا چھوڑ جاتے ہيں۔20سے 30سال کي درمياني عمر کے 11 لاکھ بچے ٹريننگ (Ausbildung)مکمل  نہيں کرتےيعني درميان ميں چھوڑ جاتے ہيں۔ جس کا سب سے زيادہ نقصان صنعت کو ہو رہا ہے۔

 ايک دوسرے جائزہ کے مطابق 2030ء تک 60لاکھ جرمن اپني ريٹائرمنٹ کي عمر کو پہنچنے کي وجہ سے انڈسٹري سے باہر ہوجائيں گے۔ جرمن ميں افزائش نسل کي شرح کو ديکھا جائے تو 2060ء کو ہر تيسرا جرمن 65سال سے زائد عمر کا ہوگا۔ يہ صورت حال نہ تو جرمن حکومت اور نہ ہي صنعتي مالکان کيلئے تسلي بخش ہے۔ 

چنانچہ فکرمندي کے اس ماحول ميں مسئلہ کے حل کيلئے 16دسمبر کو جرمن چانسلر ہاؤس ميں ايک اہم اجلاس ہوا۔ جس ميں چانسلر کے علاوہ اہم حکومتي وزاراء، صوبوں کے وزرائے اعليٰ، پارليماني پارٹيوں کے قائدين، صنعت کاروں کي يونين، ملازمتيں مہيا کرنے والے مرکزي ادارے، ٹريڈ يونين کے نمائندگان اور چيمبر آف کامرس کے نمائندگان نے شرکت کي۔ ملازمتيں مہيا کرنے والے ادارے(Arbeitgeberbereich)نے چانسلر سے شکوہ کيا کہ بغير ٹيکنيکل تعليم کے صرف ہاتھ سے کام کرنےو الے مزدوروں کي دو لاکھ پچاس ہزار ملازمتيں خالي پڑي ہيں ليکن جرمني کا موجودہ اميگريشن کا قانون لوگوں کو جرمني لانے ميں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ سفارت خانے انٹرويو کي لمبي لمبي تاريخيں دے ديتے ہيں۔ سينکڑوں درخواستيں ايک سال سے زائد ہوگيا سفارت خانوں ميں پڑي ہيں۔ سفارت خانوں کے اعتراض ہي ختم نہيں ہوتے۔ 

دنيا ميں جرمني کي شہرت نان اميگريشن ملک کے طور پر ہے۔ ليبر قوانين اس قسم کے ہيں کہ جرمن ہنر مند کو اوليت حاصل ہے ۔ اگر کسي شعبہ ميں نہ ملے تو پھر يورپي يونين ممبر ممالک سے ليا جائے۔ اگر وہاں سے بھي نہ ملے يا کوئي نہ آنا چاہے تو پھر يورپين اکنامک زون سے مطلوبہ ہنر مند تلاش کيا جائے۔ اگر وہاں سے بھي نہ ملے يا کوئي نہ آئے تو اس کا کوئي متبادل قانون ميں موجود نہيں ۔ ايک قسم کي لڑائي يا زور آزمائي ہے جو مطلوبہ انڈسٹري اور حکومتي اداروں کے درميان شروع ہو جاتي ہے ۔ جس ميں سالوں کي جدوجہد کے بعد انڈسٹري ہنر مند حاصل کرنے ميں کامياب ہوجاتي ہے جبکہ اکثر ناکامي کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 

16 دسمبر کو چانسلر ہاؤس ميں ہونے والے اہم اجلاس ميں صنعت کاروں کے اداروں نے حکومت سے مطالبہ کيا کہ ہنر مند افراد کو جرمني ميں کام کرنے کيلئے فري ہينڈ ديا جائے۔پوري دنيا سے جو بھي جرمني کے معيار پر پورا اترتا ہے اس کو جرمني ميں کام کرنے کي اجازت ہوني چاہئے۔ اسي طرح پوري دنيا سے نوجوانوں کو ٹريننگ حاصل کرنے کي اجازت ہوني چاہئے۔ يہاں جرمني آئيں اور پروفيشنل ٹريننگ حاصل کريں ۔ اس ميں جرمن سفارت خانوں کا کردار محدود کيا جائے اور چيمبر آف کامرس کا عمل دخل بڑھايا جائے۔ 

انڈسٹري اور کام مہيا کرنے والے اداروں کے گلے شکوؤں کے بعد چانسلر اور متعلقہ محکموں کے وزراء نے ميٹنگ ميں موجود نمائندگان کو يقين دلايا کہ آج ہم اچھے فيصلے کر کےاُٹھيں  گے۔ ہم اب اميگريشن دينے والے ممالک ميں شمار ہوتے ہيں۔ 1960 اور1970 کے درميان جو ليبر کام کرنے جرمني ميں آئي انہوں نے جرمن زبان اور کلچر سيکھنے کي طرف توجہ نہ دي۔ يا ايسا کرنا ان کے پروگرام ميں شامل نہيں تھا۔ جس کي وجہ سے جرمني ميں افرادي قوت درآمد کے قوانين کو سخت کرنا پڑا۔ وزير خزانہ OLF Scholz نے صنعت کاروں کو يقين دلايا کہ ليبر کے حوالے سے آج ہم وہ فيصلے کرنے جارہےہيں جوکہ اس سے پہلے جرمن تاريخ ميں نہيں ہوئے۔ آج ہم نے يہ طے کرنا ہے کہ يورپي يونين سے باہر کے ممالک سے پروفيشنل تلاش کرنے کيلئے کيا طريقہ کار اختيار کيا جائے۔

 چنانچہ 16دسمبر کے اجلاس ميں جرمن چانسلر نے صنعتي اداروں کے ساتھ ايک دستاويز پر دستخط کئے جس کو قانون کا درجہ حاصل ہوگا اور يہ سکيم مارچ 2020ء سے نافذ العمل ہوگي۔ اس قانون کو غير ملکي ہنر مندوں کا قانون 2020ء کا نام ديا گيا ہے۔ جرمن زبان ميں اس کو2020 Fachkräfteeinwanderungsgesetz کہہ سکتےہيں۔ اس کے تحت:

1۔ اب دنيا ميں کہيں سے بھي ہنر مند افراد جرمني ميں آکر کام کرسکيں گے۔ 

2۔ حکومت اس کي کواليفيکيشن کو جانچنے اور منظور کرنے کا طريقہ کار کو آسان بنائے گي ۔ چيمبر آف کامرس يعني

(Industrie Und Handelskammer (IHK سے بھي مدد لے گي۔

3۔ پروفيشنل ويزا کے حصول کو آسان بنانے کيلئے سفارت خانوں ميں عليحدہ سے سٹاف رکھا جائے گا۔ چانسلر نے فوري طور پر 190 افراد کو سفارت خانوں ميں متعين کرنے کي يقين دہاني کروائي۔ 

4۔ صنعت سے متعلق ادارے ہنر مند افراد “جن کو وہ ملازمت ديں” کو جرمن زبان پڑھانے اور انکي رہائش کے ذمہ دار ہوں گے۔ 

5۔ فوري طور پر ايک پائلٹ پراجيکٹ شروع کيا جائے گا جو بھارت، برازيل اور ويتنام کے لوگوں کيلئے ہوگا۔ وہ اپني تعليم، ہنر مندي، تجربہ سے متعلق کاغذات چيمبر آف کامرس (IHK)کو ارسال کريں گے۔ جن کے کاغذات IHKمنظور کرے انکو 6 ماہ کا ويزا جاري کياجائے گا اور وہ جرمن ميں آکر اپني ملازمت تلاش کر سکيں گے۔ 

6۔ انڈسٹري باہر سے آنے والے لوگوں کے فني معيار کو جرمن معيار کے مطابق اپ گريڈ کرنے کيلئے فني ادارے قائم کرے گي۔ 

7۔ جرمني کو فوري طور پر درج ذيل شعبہ جات کيلئے ماہرين اور ليبر کي ضرورت ہے ۔ جن کيلئے لمبي چھان بين کے بغير ليبر درآمد کرنے کے لئے ويزہ جات جاري کئے جائيں گے۔ 

انفارميشن ٹيکنالوجي۔ نيچرل سائنس اينڈ ٹيکنالوجي۔ تعميرات۔ ہوٹل ريسٹورنٹ۔ ہيلتھ سيکٹر۔ اليکٹريکل انجينئر۔ سٹيل ورکر۔ مشين انجينئر۔ باورچي۔ نرسز۔ کمپيوٹر سائنس اور سافٹ ويئر ڈويلپر۔

8۔ مذکورہ شعبہ جات کيلئے ٹريننگ حاصل کرنے کيلئے آنے والوں کو بھي سہولت مہيا کي جائے گي۔ 

علاوہ اس نئے قانون کے حکومت نے جون 2019ء ميں اس سے ملتا جلتا قانون اُن غير ملکيوں کيلئے بنايا تھا جنہوں نے جرمني ميں سياسي پناہ کي درخواست دي ہوئي ہے۔ اس قانون کا نام asylbewerberleistungsgesetzہے ۔اس کے تحت  ايسے افراد جن کو جرمني ميں آئے 15ماہ ہوچکےہيں اور وہ يونيورسٹي کي ڈگري يا پروفيشنل کالج سے ٹريننگ يا سرٹيفيکيٹ رکھتے ہيں وہ حکومتي خرچ پر مزيد تعليم حاصل کر سکتےہيں۔ اپنے پروفيشنل علم کو اپ گريڈ کر کے جرمن اداروں ميں کام تلاش کر کے اپنے ويزہ کو پروفيشنل ويزہ ميں تبديل کروا سکتے ہيں۔ فيڈرل ايمپلائمنٹ ايجنسي اور فيڈرل کمشنر آف انٹيگريشن کے درميان ايک خصوصي معاہدہ پر بھي دستخط ہوئے ہيں۔ جس کے تحت خواتين کو ٹريننگ حاصل کرنے کے زيادہ مواقع مہيا کئے جائيں گے اور خواتين کو پروفيشن اختيار کرنے کے قابل بنانے کے دوران اُن کو سپيشل الاؤنس بھي ديا جائے گا۔ (ماخوذ)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *