2019: عدم برداشت کا سال

تحرير: ذيشان محمود

پاکستان ميں ہر چڑھتا سورج عدم برداشت کي ايک نئي کہاني لئے ہوئے ہوتا ہے۔ يہ کہانياں ہر گلي ہر کوچہ ہر محلہ  اور ہر شہر سے ہمارا ميڈيا بڑي محنت سے جمع کر کے روزانہ کي بنياد پر دکھاتا ہے اور پرنٹ ميڈياميں بھي بعض واقعات شہ سرخيوں کي زينت بنتے ہيں۔

روز مرہ کي بنياد پر ہم عدم برداشت کے واقعات ديکھتے ہيں  ۔ ماں باپ کي لڑائي ميں بچے پستے ہيں۔ کبھي ماں نہر ميں پھينک ديتي ہے تو کبھي زہر دے ديتي ہے۔ کبھي باپ بچوں کا گلا کاٹ ديتا ہے توکبھي گولي مار ديتا ہے۔ بہن بھائيوں، رشتہ داروں کي لڑائي،پڑوسيوں کي لڑائي، دوستوں کي لڑائي، کبھي برادري کي لڑائي ميں برداشت اور صبر ناپيد ہوگياہے۔حتيٰ کي استاد جو ايک معتبر عہدہ ہے اس ميں بھي برداشت ختم ہو چکي ہے اور پھر طالب علم نے بھي استاد سے يہي سيکھاہے۔

 زمانہ کي چکي پھر کر ہميں جاہليت کے زمانہ ميں لےگئي ہے اور جس شدت سے زمانہ جاہليت کي گہرائيوں ميں ڈوبتا جا رہا ہےلگتا ہے کہ دوبارہ ايک عظيم انقلاب کي ضرورت ہے۔ہمارے معاشرہ ميں واقعہ کو ياد رکھنے کا طريق سانحہ بنا کر اسے ياد کرنا ہے۔ سانحہ APS کي طرح ہمارا کام سانحات کو گنتے  رہنا رہ گيا ہے۔

ليکن ان سانحات کے ذمہ داران کو کيفِ کردار تک پہنچانا کس کي ذمہ داري ہے؟؟؟ شائد قانون کي کيونکہ قانون سب سے بالا ہے۔ خواہ وہ موجودہ يا سابق چيف آرمي سٹاف ہو يا سانحہ ساہيوال کا ذيشان! ليکن قانون کي بالادستي کو قائم کرنے والے اداراہ جات شايد خدائي کے علم بردار بننا چاہتے ہيں۔ اور اسي وجہ سے ناقص قوانين کے سبب ملز م کو شک کا فائدہ دے کر مظلوم کو ناانصافي فراہم کي جاتي ہے۔ ناقص قوانين کے الفاظ کي وضاحت ضروري ہے کيونکہ  ہر لفظ ہي توہين شمار کر ليا جاتا ہے۔ درحقيقت بعض معاملا ت ميں آزادي اظہار حق جہاں سے شروع ہوتا ہے وہاں سے ہي توہين شروع ہو جاتي ہے۔قوانين خداوند تعاليٰ ايک مرتب اور قانون ِ قدرت کے مساوي ہيں۔ ليکن انسانوں کے بنائے ہوئے قانون ہميشہ کسي نہ کسي کو فائدہ يا ضرر دينے لے لئے بنائے جاتے ہيں۔

اگر يہ بات غلط ہے تو نتيجہ آپ پر چھوڑتے ہوئے ذيل ميں 2019 ء کے چند اہم واقعات درج کئے جا رہے ہيں ۔ جہاں عدم برداشت کے تحت سانحات نے جنم ليا اور قانون کے بالادستي کے باعث بے نتيجہ اور انصاف کي حکومت ميں ناانصافي کا دور دورہ ہوا۔

19 جنوري2019ء

ساہيوال سے گزرتي قومي شاہراہ پر سال کا پہلا دلخراش سانحہ ہوا۔ادارہ انسداد دہشت گردي  پنجاب کا ايک عام دکان دار محمد خليل ، اہليہ نبيلہ ، بيٹي اريبہ اور دوست ذيشان جاويد کو سرعام  يک طرفہ مبينہ متنازعہ پوليس مقابلہ کي شکل ميں قتل کيا گيا۔ ان کے تين چھوٹے بچے معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔

ابتدائي پريس ريليزوں کے مطابق، محکمۂ انسدادِ دہشت گردي نے دعويٰ کيا کہ انٹيلي جنس رپورٹ کي بنياد پر ايک انسدادِ دہشت گردي آپريشن کيا گيا ہے۔ تاہم عيني شاہدين کي رپورٹيں اور سانحے ميں زندہ بچ جانے والوں کے بيانات محکمہ انسداد دہشت گردي کے موقف کي نفي کرتے ہيں۔

اور قانون کي بالادستي يہ نظر آئي کہ عيني شاہدين اپنے مؤقف سے پھر گئے۔ اور عدم ثبوت اور گواہوں کي عدم  دستيابي سے مشن کامياب قرار ديا گيا۔ ياد رہے کہ ان دہشت گردوں ميں ايک13 سالہ کم عمر لڑکي بھي تھي۔يہ عدم برداشت کي عجيب اور انوکھي  مثال ہے۔

فروري2019ء

عدم برداشت کي حد کو چھوتا ہوا ايک تاريخي معاملہ پاک بھارت کشيدگي  کہلاتا ہے۔ فروري ميں پاکستان نے کمال برداشت کا مظاہرہ کيا جب کہ دشمن کي جانب سے سارا سال ہي سيز فائر کي خلاف ورزي ہوتي رہي۔

بالآخر بھارت کا  صبر جواب دے گيا اور  26 فروري کو بھارت نے بالا کوٹ  پراپني ديرينہ خواہش سرجيکل سٹرائيک کرنے کي کوشش کي اور چند درختوں کو نشانہ بنايا جو صبر کي علامت  سمجھے جاتے ہيں۔ جب کچھ ہاتھ نہ آيا تو 27 فروري کو ايک بار پھر کوشش کي اور بھارت کو منہ کي کھاني پڑي۔ بھارت نے اپنے 2 طيارے گنوائے اور پھر پاکستان کو دنيا کے سامنے سرخرو ہونے کا ايک موقع فراہم کيا۔ جب پاکستان نے برداشت اور رواداري کا مظاہرہ کرتے ہوئے  يکم مارچ کو ابھي نندن کوچائے پلا کر واپس عازم وطن کيا۔ اس کا يہ جملہ کافي لوگوں کو پسند آيا۔ The tea was fantastic!

مئي2019ء  نشوہ کيس

ننھي نشوہ  ڈائيريا سے بيمار ہوئي اور دار الصحت ہسپتال لے جائے گئي۔ مبينہ طور پر غلط انجيکشن سے پيرالائز  ہوئي اور 22اپريل کو يہ ننھي کلي مرجھا گئي۔ ايس پي گلشن پوليس نے مبينہ طور پر دھمکايا اور سنگين نتائج کي دھمکياں ديں۔

اس واقعہ ميں ہر کسي کے رويے ميں عدم برداشت ہر سطح پر نظر آئي۔  ہسپتال کي انتظاميہ نے ابتداء ميں اپني غلطي تسليم کرنے سے انکار کيا  اگر پہلے اپني غلطي تسليم کر ليتے تو شايد عوام ميں اتنا غصہ نہيں بڑھتا۔ پھر مالکان نے بھي عدم برداشت کا مظاہر کرتے ہوئے پوليس کے ذريعہ ناجائز دباؤ ڈلوايا۔  اس بچي کے لواحقين بے بسي کي تصوير بنے نظر آئے۔ ہسپتال کے خلاف کارروائي باہمي صلح سے اختتام پذير ہوئي۔ قانون کي بالآخر جيت ہوئي۔

کشمير اور بھارت

اگست ميں کشمير پر بھارتي جارحيت کھل کر سامنے آئي اور کشمير کو دنيا کي سب سے بڑي جيل بنا ديا گيا۔کشمير ميں بھارت کي غير قانوني سرگرمياں جہاں خطہ کو ايک ہولناک جنگ کي طرف دھکيل رہي ہيں۔ وہيں بھارت کي مختلف قانوني تراميم  لوگوں ميں اشتعال پيدا کر رہي ہيں۔کشمير سے متعلق بھارتي برسرِ اقتدار پارٹي کے بعض اقدامات کو جہاں اپوزيشن نے بري نگاہ سے ديکھا اسي طرح بھارتي عوام اور خصوصا پاکستاني عوام نے اس کو ناپسند کيا۔

کشمير پر جارحانہ اقدام کے بعد بھارت کے بعض مقتدر حلقے خاموش تماشائي بنے بيٹھے رہے ليکن  دسمبر ميں متنازعہ شہريت کے بل سے کشمير پر بھارت کا سياسي اور قانوني حملہ واقعتاً سرجيکل سٹرائيک ثابت ہوا۔ اور بھارت پورے کا پورا ہل کر رہ گيا۔ ہندو سوچ کا ايک ملک پر مسلط کرنا جو اپنے سيکولر ہونے کا مدعي بھي ہے، ايک عجيب  امرہے۔ ہمارے اپنے ملک ميں بھي بعض ايسے قوانين موجود ہيں جو بنيادي انساني و مذہبي حقوق کي پامالي کا اختيار ديتے ہيں۔ ليکن ہم سيکولر ہونے کے دعويدار نہيں۔

کشمير کے واقعہ پر رکھي جانے والي خاموشي اِن تماشائيوں کے گلے پڑ گئي ہے اور اب يہ معاملہ دہلي سرکار کے شہر اقتدار تک جا پہنچا ہے۔ غير يقيني کي صورتحال سے  نقضِ امن کي فضا پيدا ہو گئي ہے۔ ليکن بھارتي حکومت لگتا ہے کہ بعض ايسے عزائم کر چکي ہے جس سے خطہ ميں بھيانک اور پُرتشدد فضا پيدا ہو گي۔روہنگيا مسلمانوں کي طرح يہاں بھي مسلمانوں کے لئے زمين تنگ کي جائے گي۔ اور يہ بات ذہن نشين رہے کہ برما کي طرح انڈيا ميں بھي نوبيل انعام برائے امن کے حامل افراد موجود ہيں۔

بہر حال عدم برداشت کي بڑھتي فضا حکومت کے لئے مزيد مشکلات پيدا کر سکتي ہے۔

24نومبر2019ء

ايک ويڈيووائرل ہوئي جس ميں چند طلباء ايک پروفيسر کو موٹر سائيکل سے اتار کر ڈنڈوں لاتوں اور گھونسوں سے مار رہے ہيں۔اور پروفيسر محترم  کہہ رہے ہيں کہ ميں ايک کالج کا پروفيسر ہوں۔ گويا وہ ان مسٹنڈو ں کو يہ باور کروا رہے تھے کہ ميں بلحاظ استاد تمہارا باپ ہوں۔ ليکن استاد محترم کا خيال غلط تھا۔ وہ عام طالب علم نہيں تھے۔ وہ غنڈے تھے جو اپنے آپ کو ہر کسي کا باپ سمجھتے ہيں۔

واقعہ کي حقيقت صرف يہ تھي کہ استاد نے کلاس ميں ان لڑکوں کو ڈانٹا تھا اور شومئي قسمت کہ کلاس ميں لڑکياں بھي تھيں۔ بس يہ بات ان کي  اَ نا کو ٹھيس پہنچا گئي اور انہوں نے اپني عدم برادشت کا مظاہرہ دنيا کے سامنے کيا۔ اور قانون نے صرف نوٹس ليا۔

سانحہ PICاور وکلاء مظاہرہ

دسمبر کا سورج عجيب ہلچل لئے ہوئے آيا۔ شايد نومبر کي شاميں اس کے لئے سود مند ثابت نہ ہوئيں تھيں۔ پاکستان کي تاريخ کا عجيب ترين اور بد ترين مظاہرہ وکلاء کي جانب سے کيا گيا۔ اس مظاہرہ کو عجيب ترين کہنے کي وجہ يہ ہے کہ اس ميں شامل تمام لوگ پڑھے  لکھے اور ايک معزز پيشہ کے حامل ہيں۔ دہشت گردي، غنڈہ گردي کي اصطلاحات ہم نے بچپن ميں سني تھيں۔ اب يہ وکلاء گردي کي اصطلاح نئے زمانہ کي ہے۔ ججز کے خلاف، صدر بار کے خلاف، بعض مقدمات کے خلاف تو ان کے آپسي مسائل کہلاسکتے ہيں۔ 

خلاصہ اس واقعہ کا يہ ہے کہ23 نومبر کو ڈاکٹر اور کچھ وکيلوں کے درميان تنازعہ ہوا جس کے بعد وکلاءکے مطابق کوئي تسلي بخش کارروائي نہيں کي گئي۔ تو انہوں نے 11 دسمبر کو  خود قانون ہاتھ ميں لے کر انصاف کا بول بالا کرنے کے لئے ايک سرکاري ہسپتال پر دھاوا بول ديا۔ کسي کو تھپڑ پڑا تو کسي کو لات، کسي کي ڈرپ اتاري تو کسي کا آکسيجن ماسک!

پوليس نے ہنگامہ آرائي کرنے والے وکلا کے خلاف تعزيراتِ پاکستان اور انسدادِ دہشت گردي ايکٹ کي مختلف دفعات کے تحت دو مقدمات درج کيے ہيں۔ جس ميں  250 سے زيادہ وکلاء نامزد ہيں اور قتلِ خطا، کارِ سرکار ميں مداخلت، دہشت پھيلانے، ہوائي فائرنگ کرنے، زخمي اور بلوہ کرنے، لوٹ مار، عورتوں پر حملہ کرنے اور سرکاري مشينري اور نجي و سرکاري املاک کو نقصان پہچانے کي دفعات شامل ہيں۔ شايد  يہ بھول گئے ہيں کہ يہ تمام باتيں خلافِ قرآنِ کريم اور خلافِ سنتِ رسول ﷺ ہيں۔ اس لئے انہوں نے عملي طورپر توہينِ قرآن اور توہينِ رسولﷺ کا ارتکاب کيا۔ ان مظاہرين کے خلاف اس قسم کي دفعات لازماً شامل کي جاني چاہئيں۔

ڈاکٹرز اور وکلاء کے باہمي تنازعہ ميں مظلوم عوام بہت بري طرح پس گئي۔ ڈاکٹرز بھي ہڑتال پر گئے اور وکلاء بھي! سائلين انصاف اور مريض دونوں رُل گئے۔

وکلاء کو يہ حق حاصل ہے کہ وہ کسي کے بارہ ميں کچھ بھي کہہ سکتے ہيں ليکن خود اپنے بارہ ميں مزاح بھي برداشت نہيں کر سکتے۔ کسي پوليس والے کي دھنائي ہو يا شکرگڑھ کي مظلوم عورت کو  لات مارنا ہو، کسي ليڈي کانسٹيبل کو تھپڑ مارنا ہو۔ وکلاء تو ہيں ہي قانون کے پيچ و خم سے واقف!شک کي بنياد پر مقدمات خارج کروانا ان کے بائيں ہاتھ کا کھيل ہے۔ ليکن اس مظلوم ليڈي کانسٹيبل کا کيا جس کي  روزي روٹي بند ہوئي اور وہ انصاف نہ ملنے اور مزيد ذہني دباؤ کا شکار ہو کر ملازمت سے استعفاء دے بيٹھي۔ پھر ايسي ہيڈلائنز صحيح ہيں کہ کالے کوٹ ميں کالے وحشي!!

اس مقدمہ کو فيصل ہونے کي مثال ايسي ہي ہے کہ باپ اپنے بيٹے کا دفاع کرے اور شکايت لانے والے  کےسامنے ہلکا سا تھپڑ ماردے اور بعد ميں بيٹے کے سامنے شکايت والے کي برائي کرے ۔ ليکن يہ بات بجاہے کہ اس مقدمہ کے فيصلے ميں قانون بالا رہے گا ليکن انصاف نہيں!!!

مشرف کيس

عدليہ کے خلاف حاليہ وکلاء گردي  کا واقعہ بھولا نہ تھا کہ مشرف سنگين غداري کيس کا فيصلہ آگيا۔مشرف کيس کي سزا سے متعلق تفصيلي فيصلے کا پيرا66  موضوع بحث رہا اور عوام کو انگيخت کرنے والا بنا ۔ قانون کے ماہرين اور منصفين کرام کو يہ بھي سوچنا چاہئے کہ ذاتي انا اور بغض کو گھر رکھ کر آنا چاہيئے۔ پرويز مشرف کو 30اپريل 2002ء کو ہونے والے ريفرنڈم  ميں 97.97% عوامي حمايت حاصل رہي۔ کوئي شخص بھي ذاتي طور پر يہ تو کہہ سکتا ہے کہ جيسے عام انتخابات ميں دھاندلي کےشکوہ ہوتا ہے يہاں بھي ہوئي ہو۔ ليکن اس غير اسلامي اور غير انساني فيصلہ پر تو عوامي ريفرنڈم آپ کے سامنے ہيں۔

ايک معتبر ادارہ کي جانب سے عوام کي برداشت کو مزيد امتحان ميں ڈالا گيا۔ جبکہ زينب قتل کيس  ميں سرِ عام پھانسي کے عوامي مطالبہ کو سپريم کورٹ کے فيصلہ کے مطابق انساني حقوق کي خلاف ورزي  قرار ديا گيا۔ اور اب خود خصوصي عدالت نے اس بنيادي انساني حقوق کي خلاف ورزي کي گئي۔ پاکستاني عوام پاک فوج سے محبت کرتي ہے اور ان کي محافظ ہے۔ وہ شہيدوں سے بھي محبت کرتي ہے اور غازيوں سے بھي۔ اس لئے ممکنہ طور پر يہ فيصلہ بدامني اور فساد کي طرف لے جانے والا بن جائے گا۔

اور بھي کئي واقعات ہيں ۔ روز مرہ کےيہ واقعات ہيں۔جنہيں ہم بعض اوقات نظر انداز کر ديتے ہيں۔ والدين کي تربيت ميں سستي اور والدين کا بچوں کے سامنے دوسروں کي برائياں کرنے اور اپنے بچوں کي بے جا طرف دار ي يہ وہ عوامل ہيں جہاں ہم نئي نسل کے دل ميں نفرت کا بيج بو رہے ہيں۔ اور ان سے تمام اخلاق ختم ہو رہے ہيں۔ حديث ميں آتا ہے کہ الصبر مفتاح الفرج ۔ صبر کشادگي کي کنجي ہے۔ اسي وجہ سےيہ تمام واقعات صبر نہ کرنے اور عدم برداشت کے سبب طول پکڑ گئے۔ ہم نے اسلامي تعليم کو کلية ً بھلا ديا ہے۔ اللہ کرے کہ ہم ميں وہ صبر پيدا ہو کہ ہم ايک مثالي قوم بن کر دنيا ميں انقلاب پيدا کريں۔ ليکن اس کي شروعات گلي گلي ہو! گھر گھر ہو! فرد فرد ہو! تب ہي ممکن ہے کہ ہم  انقلاب پيدا کرنے والے ہو۔ اور نيا سال ہم پر انفرادي تبديلي نيا سورج لے کر طلوع ہو!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *