امریکہ ایران مفاہمت اور بندوقوں کا سایہ
تحریر: حیران مومند
تاریخ کے صفحات پر جب بھی طاقت اور سفارت ایک ہی میز پر بیٹھے ہیں تو وہاں ہمیشہ ایک عجیب سا توازن پیدا ہوا ہے، جس میں لفظ امید بھی ہوتا ہے اور شک بھی۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت اسی تاریخی تسلسل کا ایک نیا باب ہے، جہاں برسوں کی تلخیوں، پابندیوں اور پراکسی تنازعات کے بعد فریقین نے ایک ایسے معاہدے پر دستخط کیے ہیں جسے کچھ لوگ امن کی ابتدا اور کچھ محض ایک وقتی وقفہ قرار دیتے ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ وقفہ واقعی پائیدار امن کی طرف لے جائے گا یا یہ صرف ایک مختصر سانس ہے جس کے بعد کشیدگی کا دھواں پھر سے گہرا ہو جائے گا۔
بین الاقوامی سیاست میں معاہدے ہمیشہ لفظوں سے شروع ہوتے ہیں مگر ان کا اختتام زمینی حقیقت پر ہوتا ہے۔ کاغذ پر لکھی ہوئی سطریں تب تک معنی رکھتی ہیں جب تک وہ عملی صورت اختیار کریں۔ ایران اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ہر مفاہمت امید لے کر آتی ہے مگر اکثر یہ امیدیں وقت کے ساتھ مایوسی میں بدل جاتی ہیں۔ اس بار بھی دستخطی عمل کو ایک اہم پیش رفت کہا جا رہا ہے، لیکن اصل امتحان دستخط نہیں بلکہ عملدرآمد ہے۔
اس مفاہمت کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ دو مراحل میں مکمل ہوئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اعتماد ابھی مکمل طور پر بحال نہیں ہوا۔ پہلے ڈیجیٹل دستخط ہوئے اور بعد میں رسمی دستخط، جو اس بات کی علامت ہے کہ فریقین ایک دوسرے کے قریب ضرور آئے ہیں مگر مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں ہوئے۔ یہاں سیاست جذبات سے زیادہ حساب کتاب پر چل رہی ہے اور ہر قدم کے پیچھے ایک احتیاط موجود ہے۔
اگر اس صورتحال کو وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ صرف دو ممالک کے درمیان معاہدہ نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ کے ایک پیچیدہ جغرافیائی کھیل کا حصہ ہے۔ لبنان، غزہ، آبنائے ہرمز اور دیگر خطے اس معاہدے کے اثر میں ضرور ہیں لیکن ان کے اپنے الگ تنازعات اور حقائق بھی موجود ہیں۔ اسی لیے یہ سوچنا کہ ایک معاہدہ پورے خطے کے مسائل حل کر دے گا، ایک سیاسی خواہش تو ہو سکتی ہے مگر عملی حقیقت نہیں۔
لبنان اس پیچیدگی کی واضح مثال ہے۔ ایک طرف سفارتی دستاویزات میں کشیدگی کے خاتمے کی بات کی جاتی ہے مگر دوسری طرف زمینی حقائق مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ اسرائیلی مؤقف، ایرانی ردعمل اور لبنانی خودمختاری کا بیانیہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہر فریق اپنی اپنی حقیقت بیان کر رہا ہے، مگر یہ حقائق ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔ یہی تضاد پورے خطے کی اصل کہانی ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق ایسے معاہدے عموماً مکمل حل نہیں ہوتے بلکہ کشیدگی میں کمی کے ابتدائی فریم ورک ہوتے ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ جب اعتماد کمزور ہو اور ماضی کی تلخیاں تازہ ہوں تو ہر فریم ورک ایک امتحان بن جاتا ہے۔ ایران کے لیے پابندیاں، منجمد اثاثے اور سلامتی کے خدشات اہم ہیں جبکہ امریکہ کے لیے علاقائی اثر و رسوخ اور اتحادیوں کی حفاظت بنیادی ترجیحات ہیں۔
یہ وہ مقام ہے جہاں سیاست ایک تکنیکی عمل سے نکل کر نفسیاتی جنگ بن جاتی ہے۔ ہر فریق دوسرے کے وعدوں کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے اور ہر جملے کے پیچھے پوشیدہ معنی تلاش کیے جاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں معاہدے کمزور اور ان کی تشریحات مضبوط ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر بین الاقوامی معاہدے اپنے متن سے زیادہ اپنی تعبیرات کی وجہ سے کامیاب یا ناکام ہوتے ہیں۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو ایران اور امریکہ کے تعلقات ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ کبھی سخت کشیدگی، کبھی مذاکرات، کبھی پابندیاں اور کبھی محدود تعاون۔ یہ ایک ایسا تعلق ہے جو نہ مکمل دشمنی ہے نہ مکمل دوستی، بلکہ ایک مستقل غیر یقینی کیفیت ہے جس میں ہر قدم احتیاط سے اٹھایا جاتا ہے۔
اس تناظر میں حالیہ مفاہمت کو ایک نئے آغاز کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، مگر اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا دونوں فریق ماضی کی قید سے نکل کر مستقبل کی حقیقت کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ بین الاقوامی سیاست میں سب سے مشکل کام معاہدہ کرنا نہیں بلکہ اس پر قائم رہنا ہوتا ہے۔
اگر اس پورے منظر کو ایک استعاراتی تصویر میں دیکھا جائے تو یہ دو مصوروں کی کہانی ہے جو ایک ہی کاغذ پر مختلف تصویریں بنا رہے ہیں۔ دونوں کے ہاتھ میں قلم ہے مگر دونوں کا تصور مختلف ہے۔ ایک امن کی تصویر بنانا چاہتا ہے اور دوسرا تحفظ کی لکیریں کھینچ رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ کاغذ ایک ہے مگر تصویریں دو ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ دستخط ہو گئے ہیں یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ دستخط زمین پر تبدیلی لا سکیں گے یا نہیں۔ کیونکہ بین الاقوامی سیاست میں سب سے بڑا بحران معاہدوں کی کمی نہیں بلکہ ان پر اعتماد کی کمی ہے۔ جب اعتماد کمزور ہو جائے تو کاغذ بے معنی ہو جاتا ہے، اور جب اعتماد مضبوط ہو تو کاغذ کی ضرورت کم رہ جاتی ہے۔
آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ یہ مفاہمتی یادداشت ایک نئی تاریخ کا آغاز ہے یا محض ایک اور فائل جو سفارتی ریکارڈ کا حصہ بن جائے گی۔ اگر فریقین اعتماد کی طرف بڑھتے ہیں تو خطہ ایک نئے توازن کی طرف جا سکتا ہے، لیکن اگر پرانی رنجشیں اور نئی تشریحات غالب آ گئیں تو یہ معاہدہ بھی ماضی کی بہت سی کوششوں کی طرح ایک یاد بن کر رہ جائے گا۔
آخر میں یہی حقیقت باقی رہتی ہے کہ قلم اور بندوق ہمیشہ ایک دوسرے کے متبادل نہیں ہوتے بلکہ اکثر ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان میں سے کون زیادہ دیر تک غالب رہتا ہے۔ اور یہی سوال اس وقت واشنگٹن اور تہران کے درمیان تاریخ کے ایک نئے موڑ پر موجود ہے، جہاں مستقبل ابھی غیر یقینی ہے اور راستہ ابھی مکمل طور پر واضح نہیں۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

