سائنس و ٹیکنالوجیسیاستشعبہ انٹرنیشنلمتفرق

نیوکلئیر قیامت دنیا کتنی قریب آگئی تھی

Share your Love
معروف برطانوی صحافی پئیرز مورگن (Piers Morgan) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے ذریعے ایران پر نیوکلیئر سٹرائیک کا قیامت خیز فیصلہ کر لیا تھا۔ اسی لیے ٹرمپ نے ایران کی تہذیب ملیامیٹ کرنے کی کھلی دھمکیاں دینا شروع کر دی تھیں۔ ماہرین کے مطابق یہ حملہ ٹیکٹیکل نوعیت کے نیوکلیئر بموں سے ہونا تھا، جن کا دائرہ تقریباً 35 سے 40 کلومیٹر تک محدود رکھا جاتا — مگر تباہی اپنی جگہ مکمل ہوتی اور اس حصہ میں رہنے والا ہر جاندار ختم ہو جاتا- یہ کوئی روایتی جنگی فیصلہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسا قدم تھا جس کے بعد دنیا میں امن کی واپسی ممکن نہیں رہنی تھی- یہ وہ فیصلہ تھا جو صرف ایک ملک ایران نہیں بلکہ پورے مشرق وسطٰی کے خطے کو موت کی آگ میں جھونک سکتا تھا۔ ۔ مورگن کے مطابق جیسے ہی اس منصوبے کی بھنک روس اور پاکستان کو لگی تو دونوں نے فوری اور دو ٹوک پیغام امریکہ کو بھجوا دیا کہ اگر ایران پر نیوکلیئر حملہ ہوا یا ایسے ہی کوئی دوسرا احمقانہ حملہ کیا گیا تو اسرائیل کو جواب بھی ویسا ہی سخت دیا جائے گا۔ سیدھی بات، نو بکواس اور اس میں ردوبدل کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی- اسرائیل کو جواب دے کر صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ یہ محض سفارتی بیان نہیں تھا۔ یہ ایک انتباہ تھا۔ ایک آخری حد کھینچ دی گئی تھی۔ اس انتباہ کے بعد ہی اس خطرناک کھیل نے الٹا رخ لیا۔ ٹرمپ پر امریکہ کے اندر سے بھی دباؤ بڑھا۔ اسرائیلی سرپرست تنظیم AIPAC متحرک ہوئی اور ٹرمپ کے جنونی فیصلے روک دئیے گئے — اور پھر اچانک امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں بات چیت کا دروازہ کھلا اور ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی گئی۔ دنیا نے ایک لمبی سانس لی، مگر یہ سکون صرف اور صرف عارضی ہے- ۔ مورگن کا کہنا ہے کہ نیوکلیئر سٹرائیک کوئی معمولی فیصلہ نہیں تھا۔ یہ سیدھا پاگل پن تھا۔ ایک ایسی سمت جس کے بعد واپسی ممکن نہیں رہتی۔ اس کے مطابق جنگ بندی نے دنیا کو تباہی کے دہانے سے ایک قدم پیچھے ضرور کیا ہے مگر خطرہ ختم نہیں ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایٹمی ہتھیار اب دفاع کا ذریعہ نہیں رہے۔ یہ کمزوروں پر دباؤ ڈالنے کا ہتھیار بن چکے ہیں۔ یہ طاقت کا آخری اظہار ہیں۔ اور جب طاقت کو عقل پر ترجیح دی جائے تو نتائج ہمیشہ خطرناک ہوتے ہیں۔ اسی لیے دنیا آج بھی غیر یقینی کی حالت میں کھڑی ہے۔ یاد رہے کہ Piers Morgan کوئی عام تبصرہ نگار نہیں۔ وہ برطانیہ کے بڑے اخبارات Daily Mirror اور News of the World کا ایڈیٹر رہ چکا ہے۔ بعد میں اس نے ٹی وی کا رخ کیا اور امریکہ اور برطانیہ دونوں میں شوز کیے۔ آج کل وہ اپنا پروگرام Piers Morgan Uncensored چلاتا ہے جہاں وہ سیاست، جنگ، عالمی معاملات — جیسے ایران، اسرائیل، امریکہ — پر کھل کر بات کرتا ہے۔ وہ عالمی میڈیا کا نمایاں چہرہ ہے۔ اس کا انداز نرم نہیں۔ سوال سخت ہوتے ہیں۔ لہجہ سیدھا ہوتا ہے۔ وہ طاقتور لوگوں کو چیلنج کرتا ہے۔ اسی وجہ سے اس کی بات سنی بھی جاتی ہے اور اس پر بحث بھی ہوتی ہے۔ وہ اکثر تنازعات کے مرکز میں ہوتا ہے مگر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا ہر بیان ایک بحث کو جنم دیتا ہے — اور جب وہ ایٹمی جنگ جیسے موضوع پر بات کرے تو اسے محض رائے سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مورگن کے انکشاف کی روشنی میں اور اس ساری صورتحال میں ایک مزید پہلو بھی اہم ہے۔ عالمی سیاست اب اصولوں پر نہیں چل رہی بلکہ مفادات پر چل رہی ہے۔ اتحادی بدلتے ہیں۔ دشمن بدلتے ہیں مگر طاقت کی خواہش نہیں بدلتی۔ اسی خواہش نے دنیا کو بار بار جنگوں میں دھکیلا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب ہتھیار پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہیں۔ ایک غلط فیصلہ، ایک غلط اندازہ، ایک غلط ردعمل- اور سب کچھ ختم ہو سکتا ہے۔ نہ کوئی فاتح بچے گا، نہ کوئی شکست خوردہ — صرف تباہی ہو گی، بربادی ہو گی اور دنیا درحقیقت پتھروں کے دور میں واپس چلی جائے گی- ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بڑے ممالک کے فیصلے صرف ان کی اپنی سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔ ان کے اثرات پوری دنیا پر پڑتے ہیں۔ جب امریکہ، اسرائیل، روس اور پاکستان جیسے نیوکلئیر طاقت کے حامل ممالک ایک ہی مسئلے پر آپس میں الجھ جائیں تو یہ صرف علاقائی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ یہ عالمی خطرہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بیان، ہر اشارہ، ہر حرکت اہم ہو جاتی ہے اور ہر لفظ کا وزن بڑھ جاتا ہے۔ ۔ اور پھر وہ سوال جو ہر ذہن میں ہے۔ کیا واقعی دنیا اتنی قریب آ گئی تھی؟ کیا واقعی ایک نیوکلیئر سٹرائیک ہونے والی تھی؟ اس کا حتمی جواب شاید کبھی سامنے نہ آئے۔ مگر تاریخ ہمیں یہ ضرور بتاتی ہے کہ ایسے لمحات بار بار آتے ہیں۔ ایسے فیصلے بار بار زیر غور آتے ہیں۔ اور کئی بار دنیا صرف آخری لمحے میں بچتی ہے۔ بات بہت سادہ ہے کہ اب کی بار دنیا بچ گئی ہے، مگر محفوظ نہیں ہوئی۔ خطرہ ٹل گیا ہے، مگر ختم نہیں ہوا۔ ایٹمی ہتھیار اب صرف ہتھیار نہیں رہے۔ یہ سیاست کا آخری کارڈ بن چکے ہیں۔ اور جب یہ کارڈ میز پر آ جائے تو کھیل ہمیشہ خطرناک ہو جاتا ہے۔ ۔ جب تک موت بانٹنے والے فیصلے ٹرمپ جیسے نرگسیت پسند ذہنی مریضوں، نیتن یاہو جیسے جنگی جنونیوں اور نریندر سنگھ مودی جیسے سازشیوں کے ہاتھوں میں رہیں گے، جو طاقت کے استعمال کو عقل پر ترجیح دیتے ہیں — تب تک دنیا سکون نہیں دیکھے گی۔ امن ایک خواہش رہے گا، حقیقت نہیں۔ اور ہر نیا دن ایک نئے خطرے کے ساتھ طلوع ہو گا

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *