رسم و راہ، خاموشی و جرمِ بقا
تحریر۔۔ حیران مومند
فیض احمد فیض کی یہ مختصر مگر گہری غزل بظاہر شخصی تجربے، عشق اور تعلقات کی بات کرتی نظر آتی ہے، مگر درحقیقت یہ اپنی تہہ میں ایک پورا عہد، ایک پورا نظامِ فکر اور ایک اجتماعی نفسیات کو سمیٹے ہوئے ہے۔ فیض کی شاعری کا کمال یہی ہے کہ وہ فرد کی داخلی کیفیت کو اجتماعی شعور سے جوڑ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ غزل صرف محبوب اور عاشق کے تعلق تک محدود نہیں رہتی بلکہ طاقت، جبر، مفاہمت، خوف، اور اخلاقی زوال جیسے موضوعات پر ایک خاموش مگر گہرا تبصرہ بن جاتی ہے، جو آج کے حالات میں پہلے سے کہیں زیادہ بامعنی محسوس ہوتی ہے۔
غزل کا پہلا شعر
’’شیخ صاحب سے رسم و راہ نہ کی
شکر ہے زندگی تباہ نہ کی‘‘
ظاہر میں ایک ہلکا سا طنز ہے، مگر اس کے اندر ایک پورا سماجی اور سیاسی بیانیہ چھپا ہوا ہے۔ “شیخ صاحب” یہاں محض ایک مذہبی شخصیت نہیں بلکہ وہ ہر وہ طاقتور، مقتدر، اخلاقی ٹھیکیدار یا نظام کی نمائندگی کرتا ہے جو سماج میں درست اور غلط کی سرکاری تعریف طے کرتا ہے۔ فیض یہاں یہ کہہ رہے ہیں کہ اس طاقت سے قربت، مفاہمت اور رسم و راہ بظاہر فائدہ مند لگ سکتی ہے، مگر درحقیقت وہ انسان کی زندگی، اس کی خودی اور اس کے ضمیر کو تباہ کر دیتی ہے۔ موجودہ دور میں یہ شعر خاص طور پر ان دانشوروں، صحافیوں، سیاست دانوں اور سماجی رہنماؤں پر صادق آتا ہے جو طاقت کے قریب جا کر اپنی سچائی قربان کر دیتے ہیں۔ فیض کا “شکر ہے” دراصل ایک تلخ شکرگزاری ہے—یہ شکر اس بات پر ہے کہ کم از کم ضمیر کی شکست سے بچ گئے، چاہے دنیاوی نقصان ہی کیوں نہ اٹھانا پڑا ہو۔
دوسرا شعر
’’تجھ کو دیکھا تو سیر چشم ہوئے
تجھ کو چاہا تو اور چاہ نہ کی‘‘
عشق کے روایتی پیرائے میں یہ محبوب کی وحدانیت کا اعلان ہے، مگر فیض کے ہاں “تجھ” اکثر کسی ایک فرد سے آگے بڑھ کر کسی نظریے، کسی خواب، کسی سچ یا کسی انقلاب کی علامت بن جاتا ہے۔ یہ شعر اس وابستگی کی طرف اشارہ کرتا ہے جو انسان کو کسی اعلیٰ قدر سے ہو جائے تو باقی تمام تر خواہشیں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ آج کے حالات میں، جب مفاد، موقع پرستی اور کثیر وفاداریاں عام ہو چکی ہیں، یہ شعر ایک اخلاقی معیار قائم کرتا ہے۔ یہ کہتا ہے کہ اصل وابستگی آدھی نہیں ہوتی۔ یا تو نظر سیر ہو جاتی ہے، یا پھر انسان ساری عمر بھٹکتا رہتا ہے۔ فیض یہاں انتخاب کی بات کر رہے ہیں—اور انتخاب ہمیشہ قیمت مانگتا ہے۔
تیسرا شعر
’’تیرے دست ستم کا عجز نہیں
دل ہی کافر تھا جس نے آہ نہ کی‘‘
یہ شعر جبر، ظلم اور خاموشی کے باہمی تعلق کو انتہائی گہرائی سے بیان کرتا ہے۔ یہاں “دستِ ستم” صرف محبوب کا ہاتھ نہیں بلکہ وہ تمام جابرانہ قوتیں ہیں جو فرد اور سماج پر مسلط ہوتی ہیں۔ فیض یہ کہہ رہے ہیں کہ ظلم کی طاقت میں کوئی کمی نہیں تھی، کمی اگر تھی تو دل کی تھی جو آہ نہ کر سکا۔ یہ خاموشی، یہ بے حسی، یہ عادی ہو جانا—یہی اصل جرم ہے۔ موجودہ حالات میں یہ شعر اجتماعی خاموشی کا آئینہ ہے۔ جب ناانصافی، جبر، جبری گمشدگیاں، معاشی استحصال اور فکری گھٹن عام ہو، اور لوگ پھر بھی آہ نہ کریں، تو مسئلہ صرف ظالم کا نہیں رہتا، بلکہ مظلوم کی بے حسی بھی سوال بن جاتی ہے۔ فیض کا “دل ہی کافر تھا” دراصل خود احتسابی کا ایک بے رحم جملہ ہے۔
چوتھا شعر
’’تھے شب ہجر کام اور بہت
ہم نے فکر دل تباہ نہ کی‘‘
یہاں فیض انسانی زندگی کی مجبوریوں اور داخلی کشمکش کو سامنے لاتے ہیں۔ “شبِ ہجر” صرف محبوب سے جدائی نہیں بلکہ وہ دور ہے جب انسان اپنے خوابوں، اپنے نظریات اور اپنے سچ سے دور ہو جاتا ہے۔ ایسے وقت میں بقا کے لیے بہت سے کام کرنا پڑتے ہیں—سمجھوتے، خاموشیاں، روزگار، تعلقات، مصلحتیں۔ مگر فیض کہتے ہیں کہ اس سب کے باوجود انہوں نے دل کو مکمل طور پر تباہ نہیں ہونے دیا۔ یہ شعر آج کے انسان کے لیے ایک سبق بھی ہے اور ایک سوال بھی۔ کیا ہم واقعی اپنی مصروفیات، مجبوریوں اور خوف کے نام پر دل کو مردہ کر چکے ہیں؟ یا ابھی کہیں نہ کہیں احساس، ضمیر اور سوال زندہ ہے؟
غزل کا آخری شعر
’’کون قاتل بچا ہے شہر میں فیض
جس سے یاروں نے رسم و راہ نہ کی‘‘
یہ شعر پوری غزل کا فکری نقطۂ عروج ہے۔ یہاں “قاتل” کوئی فرد نہیں بلکہ ایک پورا نظام ہے—ظلم کا نظام، ناانصافی کا نظام، استحصال کا نظام۔ فیض کا کمال یہ ہے کہ وہ الزام صرف قاتل پر نہیں رکھتے بلکہ “یاروں” کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرتے ہیں۔ یہ وہ یار ہیں جو خاموش رہے، جو مفاہمت کرتے رہے، جو قاتل سے تعلق نبھاتے رہے۔ موجودہ دور میں یہ شعر غیر معمولی معنویت اختیار کر چکا ہے۔ آج قاتل صرف بندوق نہیں اٹھاتا، کبھی وہ قانون کے نام پر آتا ہے، کبھی مذہب کے نام پر، کبھی ترقی کے نام پر۔ اور اس کے ساتھ رسم و راہ رکھنے والے ہر دور میں موجود رہے ہیں—دانشور، میڈیا، اشرافیہ، حتیٰ کہ عام لوگ بھی۔
اس غزل کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ چیختی نہیں، نعرہ نہیں لگاتی، مگر اندر ہی اندر ایک پورا سماج بے نقاب کر دیتی ہے۔ فیض کا لہجہ نرم ہے، مگر ضرب گہری ہے۔ وہ قاری کو الزام نہیں دیتے، بلکہ اسے آئینہ دکھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ غزل آج کے سیاسی، سماجی اور اخلاقی بحران میں ایک زندہ دستاویز بن جاتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل تباہی باہر سے نہیں آتی، اصل تباہی اس وقت شروع ہوتی ہے جب ہم ظالم سے رسم و راہ کو عقل مندی سمجھنے لگتے ہیں، اور خاموشی کو حکمت۔
فیض کی یہ غزل ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ مزاحمت ہمیشہ بلند آواز میں نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی رسم و راہ نہ رکھنا، آہ نہ کرنے پر خود کو مجرم ٹھہرانا، اور دل کو مکمل طور پر تباہ نہ ہونے دینا بھی ایک طرح کی مزاحمت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فیض آج بھی ہمارے عہد کے شاعر ہیں۔ ان کے اشعار وقت کے ساتھ پرانے نہیں ہوتے، بلکہ ہر نئے بحران میں نئے معنی کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔
آخرکار، یہ غزل ایک سوال چھوڑتی ہے—کیا ہم بھی انہی “یاروں” میں شامل ہیں جنہوں نے قاتل سے رسم و راہ رکھی؟ یا ہم اب بھی اس شکر کے مستحق ہیں کہ ہماری زندگی مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئی؟ یہی سوال فیض کی شاعری کو محض ادب نہیں رہنے دیتا، بلکہ اخلاقی احتساب کا ایک مسلسل عمل بنا دیتا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

