غزل ۔ ۔ ۔ افتخار عارف
شاعر: افتخار عارف
دل کو دیوار کریں ، صبر سے وحشت کریں ہم
خاک ہو جائیں جو رسوائی کو شہرت کریں ہم
اک قیامت کہ تلی بیٹھی ہے پامالی پر
یہ گزر لے تو بیان قد و قامت کریں ہم
حرف تردید سے پڑ سکتے ہیں سو طرح کے بیچ
ایسے سادہ بھی نہیں ہیں کہ وضاحت کریں ہم
دل کے ہمراہ گزارے گئے سب عمر کے دن
شام آئی ہے تو کیا ترک محبت کریں ہم
اک ہماری بھی امانت ہے تہہ خاک یہاں
کیسے ممکن ہے کہ اس شہر سے ہجرت کریں ہم
دن نکلنے کو ہے چہروں پر سجا لیں دنیا
صبح سے پہلے ہر اک خواب کو رخصت کریں ہم
شوق آرائش گل کا یہ صلہ ہے کہ صبا
کہتی پھرتی ہے کہ اب اور نہ زحمت کریں ہم
عمر بھر دل میں سجائے پھرے اوروں کی شبیہ
کبھی ایسا ہو کہ اپنی بھی زیارت کریں ہم

