Latestقومیمتفرقمذہبمعاشرہ

پاکستان اور مذہبی انتہا پسندی

تحریر: عدنان احمد

بیشک ریاست کا ابھی اتنا بڑا دل نہیں کہ اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے عوام سے معافی مانگے کہ یہ انتہا پسندی بڑھنے کی وجہ ہماری نا اہلی تھی اور ہم بہت سی قیمتی جانوں کو ان درندوں کے ہاتھوں مرنے سے بچاسکتے تھے۔ لہٰذا اب ہم اپنی غلطی کا ازالہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مگر یہ کام تو ان معاشروں میں ہوتا ہے جہاں وقت کے حکمران اپنے عوام کو جوابدہ ہوتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے پاکستانی معاشرے میں اگر کوئی سوال پوچھنے کا سوچ بھی لے تو اس کو ڈر ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے اس سے خفا نہ ہوجائیں، لہٰذا وسیع تر مفاد کی خاطر خاموشی اختیار رکھنا ہی بہتر سمجھا جاتا ہے۔

اب محسوس ہوتا ہے کہ ریاست نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ آئندہ کبھی انتہا پسند مولویوں کے سامنے سرنڈر نہیں کرے گی۔ اس کی وجہ بہرحال ابھی تک واضح نہیں ہوئی۔ ریاست کو یہ پریشانی لاحق ہو سکتی ہے کہ کہیں یہ درندگی خود اس کا نشانہ نہ بن جائے، یا انہیں اپنے عوام پر ترس آ چکا ہے کہ اب وہ مولویوں سے بے خوف ہو کر آزادانہ حیثیت سے اپنی زندگی گزار سکیں۔

محسوس ہوتا ہے کہ ریاست سمجھ چکی ہے کہ اس وطنِ پاکستان اور اس میں بسنے والے چوبیس کروڑ عوام کو اسی موجودہ دنیا اور اس میں بسنے والے مختلف انسانوں کے ساتھ ہی رہنا ہے۔ نہ کہ ایک الگ دنیا تعمیر کرنی ہے جہاں اپنی مرضی کے جنگل کے قانون نافذ کیے جائیں۔

محسوس ہوتا ہے کہ ریاست سمجھ چکی ہے کہ مذہبی انتہاپسندی ہی اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جو ملک اور عوام کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔

تحریکِ لبیک پاکستان صرف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک ایسا نظریہ بھی ہے جس کا مقصد ان آوازوں کو ختم کرنا ہے جو ان کے نظریات سے اختلاف کریں۔ یہ انتہاپسند گروہ اپنے نظریات کو عوام اور ریاست کے سامنے عینِ اسلام کے نظریات سمجھ کر پیش کرتے ہیں اور پھر اختلاف کرنے والوں کے لیے سزا ”سر تن سے جدا“ مقرر کر دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے وطنِ عزیز میں اس سزا کے شکار کئی معصوم لوگ بن چکے ہیں۔ عام غریب شہری سے لے کر گورنر تک کوئی محفوظ نہیں رہا۔

یہ نظریہ صرف ایک مذہبی جماعت تک محدود نہیں؛ اس کے پیروکار پاکستان کی تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کے علاوہ میڈیا، وکلاء، اساتذہ، علما، شوبز وغیرہ کے حلقوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔

بیشک ریاست پاکستان ان درندوں کے ہاتھوں شکار ہونے والوں کو واپس زندہ نہیں کر سکتی، مگر مزید جانوں کو ان درندوں کے شکار ہونے سے ضرور بچا سکتی ہے۔ ان درندوں کے ہاتھوں شکار ہونے والوں کی فہرست بہت طویل ہے۔ سب سے پہلے سابق گورنر پنجاب شہید سلمان تاثیر کا نام یاد آتا ہے۔ سلمان تاثیر وہ انسان تھے جنہوں نے اس دور میں ان درندوں کے خلاف آواز بلند کی جب دیگر سیاستدان مولویوں کے خوف سے خاموش رہے۔ شعور رکھنے والا عام انسان بھی ایسے ظالمانہ اقدامات کی مذمت کرنا اپنے لیے خطرہ سمجھتا تھا، کیونکہ جب ریاستی ادارے ایسے اقدامات پر خاموشی اختیار کرتے تھے تو عام انسان کی مجال کیا تھی۔ مگر اب شاید ریاست جان چکی ہے کہ اگر انہیں لگام نہ ڈالی گئی تو درندے ریاست کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

محسوس ہوتا ہے کہ ریاست سمجھ چکی ہے کہ ان مذہبی جنونیوں کا ہدف صرف احمدی برادری، دیگر اقلیتی گروہوں اور روشن خیال طبقے تک محدود نہیں۔ ان کی فہرست دن بہ دن بڑھ رہی ہے اور یہ درندے ہماری آنے والی نسلوں کو بھی تباہ کر دیں گے۔ نئی نسل کے ہاتھ میں صرف ڈنڈا اور نعرہ ہی بچا رہے گا۔ ریاست یہ بھی سمجھ چکی ہے کہ یہ درندے ملک میں سرمایہ کاری نہیں آنے دیں گے، کیونکہ سرمایہ کار کو بھی ڈر ہے کہ اسے اسلام کے نام پر زندہ نہ جلا دیا جائے۔

محسوس ہوتا ہے کہ ریاست سمجھ چکی ہے کہ ان درندوں کو ہمیشہ کی طرح لیٹ کر رقم تھماتے ہوئے واپس بھیج دینا مسئلے کا حل نہیں۔

مگر مسئلہ یہ ہے کہ بعض سیاسی جماعتوں کے نزدیک ملک اور عوام کا مفاد ثانوی ہے ؛ اُن کے لیے سیاسی مفاد حاصل کرنا ہی سب کچھ ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ جب بھی ریاست شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرتی ہے تو اپوزیشن میں موجود کچھ جماعتیں سیاسی فائدے کے لیے شدت پسندوں کو مظلوم ظاہر کر کے حکومت کو ظالم ثابت کرتی ہیں، تاکہ حکومت کمزور ہو سکے اور اپوزیشن کو عوامی حمایت حاصل ہو۔

اور ان کھیلوں میں شدت پسند گروہوں کو سب سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ وہ پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر ریاست کو مزید کمزور کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *