Latestاسلامتاریخقومیمتفرقمذہبمعاشرہ

یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے

تحریر: ارشد احمد شہباز۔ جرمنی

یہ دُنیا مکافاتِ عمل پر استوار ہے۔ زندگی ایک مسلسل بہتی ہوئی رُوشنی کی مانند ہے، جس میں ہر لمحہ، ہر خیال اور ہر عمل اپنے اثرات کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔ انسان جو کچھ بھی کرتا ہے، وہ جیسے ہوا میں بیج کی مانند بکھرتا ہے اور وقت کے ساتھ وہی بیج پھل دے کر واپس اپنے کرنے والے تک پہنچتا ہے۔ یہی کائناتی قانون ہے کہ ہر عمل کا اثر لازمی انسان تک پہنچتا ہے، خواہ وہ خوشی ہو یا دُکھ، کامیابی ہو یا ناکامی۔ دُنیا کے اس اصول کی گرفت سب کے لیے یکساں ہے، خواہ کوئی امیر ہو یا غریب، طاقتور ہو یا کمزور۔ ہر لمحہ زندگی ایک قیمتی موقع ہے، اور ہر عمل روشنی یا اندھیرے کا سرچشمہ بنتا ہے۔ جو آج بوتا ہے، کل اسی کی زمین میں پھلتا ہے، اور یہی حقیقت انسان کے ہر فیصلہ اور کوشش کی ذمہ داری کو اجاگر کرتی ہے۔ ہر چھوٹا عمل زندگی کے ہلکے کانٹے یا نرم پھول کی مانند ہے، جو وقت کی زمین میں اپنی نشانی چھوڑتا ہے۔

انسان اکثر یہ سوچتا ہے کہ چھپے ہوئے اعمال وقت کی دُھول میں دب گئے یا کسی نے ان پر نظر نہ رکھی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وقت کی عدالت اندھی نہیں، بلکہ ایک صابر اور محتاط آنکھ کی مانند ہے، جو ہر چھوٹے اور بڑے عمل کو محفوظ رکھتی ہے۔ نیکی کی خوشبو کبھی فضاؤں میں ضائع نہیں ہوتی، اور برائی کا دُھواں ایک دن ضرور روشنی کو چھین کر سامنے آ جاتا ہے۔ ہر چھوٹا عمل اپنی تاثیر دکھاتا ہے، اور چھوٹے گناہ بھی کانٹوں کی طرح راستوں میں نمودار ہو جاتے ہیں۔ دنیا ایک شفاف آئینہ ہے، جو انسان کے اعمال کو پلٹ کر سامنے رکھتا ہے، اور یہ آئینہ نہ کبھی دُھوکہ دیتا ہے نہ کسی کی ناانصافی کرتا ہے۔ یہ حقیقت انسان کے دل میں احتیاط، اخلاق اور نیکی کی روشنی کی اہمیت کو مضبوط کرتی ہے۔

قرآنِ حکیم نے اس اصول کو نہایت سادہ مگر پرشکوہ الفاظ میں بیان کیا ہے۔

وَ مَنْ یَعْمَلْ مِثْقالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَرَهُ۔(سورت الزلزال) فَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَرَهُ ۝
ترجمہ۔پس جو کوئی ذرًہ بھربھی نیکی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا، اور جو ذرّہ برابر برائی کرے گا وہ بھی اسے دیکھ لےگا۔
یہ آیت ہر انسان کے لیے ایک چراغ کی مانند ہے، جو چھوٹے اور بڑے اعمال کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ کوئی بھی عمل رائیگاں نہیں جاتا، اور ہر روشنی یا اندھیرا کسی نہ کسی لمحے نمودار ہوتا ہے۔

تاریخ بھی اس قانون کی زندہ تصویر پیش کرتی ہے۔ فرعون کے محلات آج کھنڈرات کی شکل میں ہیں، اور نمرود کی شوکت ہوا میں تحلیل ہو گئی۔ لیکن حضرت ابراہیمؑ کے قدموں سے پھوٹنے والی رُوشنی آج بھی انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ظُلم اندھیروں میں فنا ہو جاتا ہے، جبکہ نیکی ایک خوشبو کی مانند ہے، جو وقت کے پردوں کو چیر کر آنے والے کل کو معطر کر دیتی ہے۔ طاقت اور شوکت وقتی ہیں، لیکن نیک اعمال کی روشنی ہمیشہ زندہ رہتی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا سبب بنتی ہے۔ یہ روشنی نہ صرف ذاتی فائدے کے لیے ہے بلکہ معاشرتی اور روحانی ترقی کی راہ بھی روشن کرتی ہے۔ ہر اچھا عمل ایک نقطہ ہے، جس سے زندگی کے بڑے نقشے کی تشکیل ہوتی ہے، اور ہر نیکی کی موج دور دور تک پھیلتی ہے۔

زندگی کے ہر لمحے میں انسان ایک بیج بوتا ہے۔ اگر یہ بیج محبت، علم، خدمت اور سچائی کے پانی سے سینچا جائے تو کل یہ ایک سایہ دار درخت بن جاتا ہے، جس کی شاخیں سکون، روشنی اور خوشبو پھیلاتی ہیں۔ لیکن اگر اس میں نفرت، جھوٹ اور ظلم کے کانٹے شامل ہوں تو یہ بیج زخموں، کٹھنائیوں اور دکھوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ہر عمل کی اہمیت کو سمجھنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، کیونکہ یہی بیج کل کی زندگی کی ساخت اور ماحول کو تشکیل دیتا ہے۔

انسان کے اعمال چراغ کی مانند ہیں، جو اندھیروں میں روشنی پھیلاتے ہیں اور آنے والی نسل کے لیے رہنمائی کا سبب بنتے ہیں۔ جھوٹ وقتی طور پر سایہ ڈال سکتا ہے، مگر سچائی اور محبت کی روشنی ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ علم اور اخلاق کی شمعیں اندھیروں کو چیر کر راہ دکھاتی ہیں۔ یہ چراغ نہ صرف فرد کی زندگی کو منوّر کرتا ہے بلکہ معاشرتی اور روحانی روشنی بھی فراہم کرتا ہے۔ ہر نیک عمل روشنی کی لہر کی مانند ہے، جو دور دراز کے دلوں میں بھی اثر چھوڑتی ہے۔

دُنیا ایک شفاف آئینہ ہے، جو انسان کے اعمال کی عکاسی کرتا ہے۔ نیکی، محبت اور خدمت انسانیت کے عکس روشنی اور سکون بکھیرتے ہیں، جبکہ جھوٹ، ظلم اور نفرت مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ ہر لمحہ یہ موقع دیتا ہے کہ اعمال کو بھلائی، محبت اور نیکی کے ساتھ انجام دیا جائے۔ یہ آئینہ انسان کو اپنی روح کی گہرائیوں میں جھانکنے کا موقع فراہم کرتا ہے اور ہر عمل کے اثرات کو واضح طور پر سامنے لاتا ہے۔

زندگی کے ہر لمحے کو ایک قیمتی موقع سمجھیں اور ہر عمل کو ایک بیج تصور کریں، جو آنے والے کل کے درخت کی بنیاد رکھتا ہے۔ نیکی کے بیج روشنی، سکون اور خُوشبو بکھیرتے ہیں، جبکہ برائی کے بیج مشکلات اور دکھوں کے کانٹے اگا دیتے ہیں۔ ایک مضبوط اور خوشبودار درخت آنے والی نسل کے لیے رہنمائی اور سکون کا سبب بنتا ہے، اور یہ انسانی فلاح، معاشرتی ترقی اور کائناتی عدل کی علامت بھی ہے۔ ہر عمل، چاہے معمولی ہی کیوں نہ لگے، آنے والے کل کی تقدیر کی تصویر بناتا ہے۔ اس لیے اپنی زندگی کو محبت، علم، خدمت اور اخلاق کی روشنی سے منور کریں، تاکہ آپ کی کاوشیں نہ صرف ذاتی زندگی میں سکون اور روشنی لائیں بلکہ آنے والی نسل کے لیے بھی مشعلِ راہ ثابت ہوں۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *