نورِ نبوت کی روشنی
تحریر: ڈاکٹر عائض القرنی
کائنات میں نبی اکرمﷺ کے سوا جو جو الہامی شخصیات، قائدین، فاتحین، مجددین، ایجاد و اکتشاف کرنے والے اور عبقری و نابغہ روزگار لوگ آئے، ان کی رہنمائی کسی خاص دائرہ کار میں محدود، وقتی یا دنیاوی تھی مگر نبی اکرم ﷺ کی رہنمائی ربانی، عالمگیر اور ہمہ جہت ہے جو آپ کے معبود و خالق کی خاص عنایت ہے۔
آپ ﷺ نے دین و دنیا کے ہر میدان میں رہنمائی کی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے الگ الگ خصوصیات اور صلاحیتوں کے مالک لوگ آپؐ سے مستفید ہوئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے بارے میں فرمایا ہے:
’’اور(اے نبی!) ہم نے آپ کو تمام جہانوں پر رحمت کرنے کے لئے ہی بھیجا ہے‘‘(الانبیآء107:21)
کائنات کا ہر رہبر و رہنما خوبیوں اور خامیوں والا ہے۔ اس کی بات کو لیا بھی جا سکتا ہے اور چھوڑا بھی جا سکتا ہے۔ وہ لاکھ کامیابیوں کے باوجود نقص سے پاک نہیں، انفرادیت اور امتیازات کے باوجود غلطیوں اور لغزشوں سے مبرا نہیں۔ سوائے ہادی کائنات حضرت محمد ﷺ کے۔ آپؐ کی ساری زندگی باکمال اور پاکیزہ ہے، اول و آخر فضیلت ہی فضیلت ہے کیونکہ آپ نبی معصوم ہیں۔ آپﷺ کی رہنمائی کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہے اور وہ کفایت کرنے والا ہے
مجھے اس مسلمان پر بڑی حیرت ہوتی ہے جو نامور شخصیات کی سوانح حیات لکھنے، شہروں، ملکوں اور قبائل کی تفصیلات قلمبند کرنے اور سفر نامے اور یادداشتیں تحریر کرنے میں مشغول و مصروف رہے مگر اسے سنت کے مطابق نماز ادا کرنے کا طریقہ تک معلوم نہ ہو۔
مجھے ان مسلمانوں پر تعجب ہوتا ہے جو اشعار و اخبار کی عرق ریزی میں اپنی زندگیاں کھپا دیتے ہیں۔ ان کی تفصیلات، جزئیات اور اصطلاحات کی تشریح و توضیح میں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہیں جبکہ انہیں صبح و شام کے افکار اور عبادات کی مسنون دعائیں تک نہیں آتیں۔ ان کو نبی اکرم ﷺ کے وضو، حج، سونے، جاگنے، لباس اور کھانے پینے کا مسنون طریقہ معلوم نہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ دنیاوی شخصیات و علوم بہت مختصر اور محدود ہیں جن پر ہزاروں انسانوں نے لکھا ہے اور مومن اور کافر کے فرق کے بغیر ہر امت ایسے واقعات اور حوادث پر لکھتی اور خامہ فرسائی کرتی ہے۔ لیکن اگر آپ رسول اکرم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کریں گے، اس کے بارے میں لکھنے کے لئے قلم کو جنبش دیں گے تو اللہ کی توفیق سے یہ آپ کے لئے سعادت اور ہدایت کا باعث ہوگا۔ آپ کو نعمتوں والی جنت کی طرف لے جائے گا۔
میں نے سیرت ابن ہشام، ابن اسحاق، ابن کثیر، ابن قیم اور ذہبی وغیرہ کا بہت زیادہ مطالعہ کیا اور اس سے پہلے احادیث کی کتابیں، صحاح، مسانید اور معاجم وغیرہ بھی پڑھیں۔ میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جس مسلمان مرد اور عورت کو جو بھی دینی، علمی اور شرعی کامیابی ملی، وہ صرف نبی اکرم ﷺ کی اتباع و پیروی کی برکت سے ملی۔ آپ نبیﷺ کی اتباع، آپ پر ایمان اور آپ کی اطاعت و پیروی میں جس قدر کامل ہوں گے، اسی قدر اللہ تعالیٰ آپ کو ہدایت اور صراط مستقیم عطا کرے گا اور اس کے فیوض و برکات سے آپ کو نوازے گا۔ پھر نبیﷺ کے الہامی کردار سے، جس کا میں ہر روز مطالعہ کرتا ہوں، مجھے ہر لمحہ نئی معلومات ملتی ہیں اور آپ کی سیرت و سنت کا ایسا فہم نصیب ہوتا ہے جو اس سے پہلے مجھ پر ظاہر نہیں ہوا ہوتا۔
یہ تحریر میں ساٹھ سال کی عمر میں لکھ رہا ہوں جبکہ آپﷺ کا اسم گرامی بچپن ہی سے میرے دل کی تختی پر نقش ہے اور میں تب سے آپ کے مبارک کلمات اپنی زبان سے ادا کرتا چلا آ رہا ہوں اور وقت کے ساتھ ساتھ ہر روز مجھ پر علم و معرفت کے نئے خزینے ظاہر ہوتے ہیں جنہیں میں پہلے نہیں جانتا تھا۔ میں علماء سے بھی اس علم و احساس کے بارے میں استفسار کرتا ہوں تو وہ مجھے بتاتے ہیں کہ ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ ایک صاحب علم نے تو مجھ سے کہا اگر آپ نوے سال سے زیادہ عمر کے ہو جائیں تو بھی آپ پر نبی اکرمﷺ کی سیرت کے ایسے نئے نئے راز کھلتے رہیں گے جن سے آپ پہلے بے خبر رہے اور انہیں سمجھ نہ سکے بلکہ میں تو کہتا ہوں اگر ہمیں عمر نوح ؑبھی مل جائے اور ہزار سال بھی جئیں تو حدیث رسول ﷺ کو بار بار پڑھنے، سیرت نبوی کا کثرت سے مطالعہ کرنے اور سنت نبوی پر غور و فکر کرنے سے ہر روز علم و معرفت کے نئے خزانے ہم پر آشکار ہوتے رہیں گے، آ پ ؐ کی سنت و سیرت سے نئے نئے نکات حاصل ہوں گے اور مبارک فہم، نفع بخش علم اور عظیم میراث کے نت نئے دفینے ہمارے حصے میں آئیں گے جو پہلے ہماری نظروں سے اوجھل تھے۔
پھر ہم اس عظیم ملہمﷺ (جس پر رب کائنات کی جانب سے الہام ہو)کو کیسے بھول سکتے ہیں جن کی سیرت اور کردار ہر وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ ہم آپ کا ذکر کیونکر فراموش کر سکتے ہیں جب ہر نماز میں آپ کا اسوہ اور نمونہ ہمارے سامنے رہتا ہے۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں:’’ نماز ایسے پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے‘‘(صحیح البخاری، الادب، حدیث6008)
جب ہم حج کرتے ہیں تو مناسک کی ادائیگی اور مقدسات کی زیارت کرتے وقت گویا آپ ﷺ ہماری رہنمائی کر رہے ہوتے ہیں اور ہمیں تعلیم دیتے ہوئے کہہ رہے ہوتے ہیں:’’تم حج کی ادائیگی کے طریقے( مجھ سے) سیکھ لو‘‘(صحیح مسلم، الحج، حدیث:1297)۔
ہمارے حبیب ﷺ ہماری روح اور دل سے کیسے اوجھل ہو سکتے ہیں جب ہم وضو کرتے ہیں تو بھی آپ کو یاد کرتے اور آپ سے رہنمائی لیتے ہیں۔ مسواک پکڑتے ہیں تو بھی آپؐ کی حدیث ہمارے ساتھ ہوتی ہے۔ کھانا کھانے لگتے ہیں تو بھی کھانے پینے کے آداب میں آپ کی سنت سامنے ہوتی ہے اور بستر پر لیٹتے ہیں تو بھی آپ کی ہدایات اور دعائیں زبان پر ہوتی ہیں۔ ایک عرب شاعر کے جذبات کا خلاصہ ہے ترجمہ::’’(اے نبی ﷺ!) ہر شام آپ کی یاد آکر مجھے گھیر لیتی ہے اور جب میں آپ کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرا فکر روشن ہو جاتا ہے۔ میں آپ ﷺ سے محبت کرتا ہوں اور میرے درد الفت کی کوئی تفسیر نہیں میں اس کی کیا تفسیر کروں؟ خواہشات کی تو کوئی تفسیر نہیں ہوتی۔ ‘‘
نبی اکرمﷺ کی رہنمائی اور اثر آفرینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے سامنے خوشی خوشی، ہنستے مسکراتے موت کو سینے سے لگا لیتے تھے کیونکہ آپؐ نے ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت اور جنت الفردوس کے حصول کی تڑپ پیدا کردی تھی۔ رسول اکرم ﷺ کی رفاقت، صحبت، گفتگو اور عادات و اطوار سے حصول برکت ان کی آخری آرزو تھی اور وہ اسے اپنے لئے عظیم سعادت اور کامیابی سمجھتے تھے۔ وہ ہر لمحہ آپ کی زبان سے نکلنے والے موتیوں کو سمیٹنے اور آپ کی توجہ کے مشتاق رہتے کیونکہ انہوں نے اس عظیم نبیﷺ ہی کو اپنا امام و پیشوا اور اسوہ بنایا تھا جس کے بغیر ان کے لئے کامیابی فلاح کا تصور ممکن ہی نہ تھا۔ وہ اپنی رشد و ہدایت اور اصلاح کا سامان آپؐ کی رہنمائی اور نور ِنبوت کی روشنی ہی سے حاصل کرتے تھے۔ چودہ صدیاں گزرنے کے بعد آج اگر ہمارے شوق ملاقات اور تمنائے دیدار کا یہ عالم ہے کہ ہم آپ ﷺ کے دیدار کے لئے تڑپتے ہیں، آپ کی زبان اطہر سے حدیث سننے کو ترستے ہیں، آپ کی مجلس میں بیٹھنے کو بے تاب ہوتے ہیں حتیٰ کہ کبھی فرط جذبات سے رو پڑتے ہیں اور محبت کے آنسو ہماری گفتگو پر سبقت لے جاتے ہیں تو ان کا کیا حال ہوگا جو آپ کے ساتھ رہے، آپ کے چہرہ انور کا دیدار کیا، آپ سے والہانہ محبت کی، آپ پر ایمان لائے، آپ کی صحبت و معیت کی سعادت حاصل کی اور آپ کی رفاقت سے سکون قلب پایا۔
بلاشبہ جن لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے محبت کی، آپ کی نصرت و تائید کی، وہ قابل قدر ہیں جنہوں نے آپ کے اصولوں سے والہانہ عقیدت رکھی وہ اجر و ثواب کے مستحق ہیں، اس لئے اس بات پر حیران نہ ہوں کہ انہوں نے میدان جنگ میں کس طرح جوانمردی سے رسول اکرم ﷺ کا دفاع کیا اور گھمسان کی لڑائی میں آپ کی طرف آنے والے تیر انہوں نے کیسے اپنے سینوں پر روکے؟ تاریخ کے صفحات میں آپ کو ایسے لوگ نہیں ملیں گے جنہوں نے اپنے قائد، اپنے سردار، اپنے پیشوا اور اپنے ہیرو رہنما سے اس طرح کی مثالی محبت کی ہو جیسی بے لوث محبت محمد رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے آپ ﷺ سے کی ہے۔
عروہ بن مسعود ثقفی ؓ جب صلح حدیبیہ کے موقع پر مشرکین مکہ کا سفیر بن کر آیا اور آپ سے مذاکرات کرکے واپس گیا تو اس نے اہل مکہ سے کہا:’’ لوگو! اللہ کی قسم! میں بادشاہوں کے درباروں میں گیا ہوں، قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے دربار بھی دیکھ آیا ہوں مگر میں نے کسی بادشاہ کو ایسا نہیں دیکھا کہ اس کے ساتھی اس کی ایسی تعظیم کرتے ہوں جس طرح محمد ﷺ کے اصحاب ان کی تعظیم کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم! جب محمد ﷺ کسی بات کا حکم دیتے ہیں تو وہ فوراً ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں جب وہ وضو کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگ ان کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے لئے لڑ پڑیں گے۔ جب وہ گفتگو کرتے ہیں تو ان کے ساتھی ان کے سامنے اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں اور تعظیم کی وجہ سے ان کی طرف نظر بھر کر نہیں دیکھتے‘‘۔(صحیح البخاری الشروط، حدیث2731)
کامیابی ہے صحابہ کے لئے جو نیکو کار تھے اور انہیں نبی مختارﷺ کی صحبت حاصل تھی۔ آپ نے انہیں علم و محبت، سلامتی و یقین، اخلاص اور انابت و خشیت سے مالا مال کیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، رسول اکرم ﷺ کی ان یادوں اور رفاقت کے لمحات کو کبھی آنسوئوں کی مالا میں پروتے، کبھی آپ کے ذکر سے ان کی سانسیں تھم جاتیں اور کبھی اس قدر روتے کہ ہچکی بندھ جاتی۔ نبی اکرمﷺ سے ان کی محبت کا عالم یہ تھا کہ وہ کائنات کی ہر چیز سے بڑھ کر آپ سے محبت رکھتے تھے اور ایسی ہی محبت کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔
آپ ﷺ کی برکت اور و رہنمائی قیامت تک جاری رہے گی۔ جولوگ جس قدر آپ کی سنت کے قریب رہیں گے اور آپ کے نقش قدم پر چلتے رہیں گے، اسی قدر راہ ہدایت اور صراط مستقیم پر رہیں گے۔ اسلامی تاریخ میں جن کبارآئمہ کا ذکر ملتا ہے۔ انہوں نے یہ بلند مقام و مرتبہ نبوی تعلیمات کو اپنا کر ہی پایا ہے۔ آئمہ تابعین نے جو عالی مرتبے حاصل کئے اور اسلامی تاریخ کے افق پر روشن ستارے بن کر چمکے، یہ آپ ﷺ کی پیروی ہی کی بدولت ممکن ہوا۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ تمام علماء اسلام، آئمہ دین صالحین، عابدین، مجاہدین اور مخلصین سنت نبوی ؐکی راہوں پر چل کر ہی ان فضیلتوں کے مستحق ٹھہرے اور سنت رسولؐ کی پیروی ہی قیامت تک عزت پانے کا ذریعہ ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

