Latestاردوسیاستقومیمتفرقمذہبمعاشرہ

فلسطینی بچوں کا قتلِ عام مذہبی ٹچ

تحریرطارق احمدمرزا۔آسٹریلیا

مؤرخہ 24 مئی 2025ء کویہ افسوسناک خبر ملی کہ غزہ کے التحریر ہسپتال میں تعینات ماہر اطفال ڈاکٹر آلاء النجار اس وقت مریض بچوں کا علاج کر رہی تھیں جب انہیں اطلاع ملی کہ ان کے اپنے نو بچے ایک اسرائیلی فضائی حملے میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔

یہ المناک واقعہ جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں پیش آیا جہاں ڈاکٹر آلاء کے گھر کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ڈیوٹی پر جا چکی تھیں۔ حملے میں ان کے نوبچے یحییٰ، رکان، رسلان، جبران، إيف، ريفان، سیدين، لقمان اور سیدرا موقع پر جاں بحق ہو گئے، جبکہ ان کا دسواں بچہ آدم شدید زخمی ہوا۔

دنیا جانتی ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں معصوم بچوں کی ہلاکت کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد 16 ہزار 503 ہو چکی ہے، جبکہ مجموعی طور پر شہادتوں کی تعداد 53 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور ان میں روزافزوں اضافہ جاری ہے۔

گولیوں اور بمباری کے علاوہ اب وہاں بھوک اور پیاس کے ہاتھوں بھی بچوں کی اموات کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔

غزہ جنگ میں تقریباً روزانہ کی بنیاد پربچوں کے مارے جانے پر خود اسرائیل کے اندر سے شدیداحتجاج شروع ہو چکا ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل نے اپنی اشاعت 20مئی 2025ء میں یہ خبر شائع کی کہ ایک سابق اسرائیلی جنرل یائر گولان نے (Yair Golan)،جو ڈپٹی چیف آف آرمی سٹاف رہ چکے ہیں اور آجکل وہاں کی ڈیموکرٹس پارٹی کے سربراہ ہیں،ایک بیان میں کہا کہ کوئی بھی صحیح الدماغ حکومت شہریوں کے خلاف ہتھیارنہیں اٹھاتی، بچوں کے قتل کو تفریح طبع کا ذریعہ(hobby) نہیں سمجھتی،نہ ہی آبادیوں کو بے دخل کرتی ہے۔ موجودہ اسرائیلی حکومت ہرطرح کے اخلاقی اقدار کو خیرباد کہہ چکی ہے۔

جواب میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہونے کہا کہ گولان کا بیان انتہائی اشتعال انگیز اورقابل مذمت ہے کیونکہ اسرائیلی افواج دنیا کی سب سے زیادہ بااخلاق اور اعلیٰ انسانی اقدار کی حامل افواج ہیں۔وہ ہماری بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ جواباً گولان نے کہا کہ انہوں نے افواج پر نہیں، حکومت پر تنقیدکی تھی وغیرہ۔

نیتن یاہو کا یہ کہنا کہ اسرئیلی افواج دنیا کی سب سے زیادہ بااخلاق اور اعلیٰ اقدار کی حامل ہیں حیران کن ضرور ہوسکتا ہے لیکن یہ کچھ نیا نہیں۔ اسرائیل نیشنل نیوز ڈاٹ کام میں شائع ایک خبرکےمطابق معروف یہودی ربی شلومو بروڈی(Shlomo Brody) نے بھی ایک انٹرویو میں کہا تھاکہ نہتے شہریوں کی ہلاکتیں افسوسناک تو ہیں لیکن غیراخلاقی ہر گز نہیں۔

میزائلوں، بموں اور گولیوں کی پوائینٹ بلیک بوچھاڑ سےنہتے شہریوں،حاملہ خواتین اور نومولود بچوں تک کے چیتھڑے اڑا دینے کا کسی مذہبی رہنما،حکومت یا فوج کی طرف سے کیا کوئی اخلاقی جواز پیش کیا جاسکتا ہے؟۔ جی بالکل کیا جا سکتا ہے اور یہ “اخلاقی” جوازبقول شخصےصرف اورصرف مذہبی “ٹچ” لگانے سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔اصل میں اسرائیل مذہبی بنیادوں پہ قائم ہونے والی دنیا کی ایک ایسی ریاست ہے جس کے رہنما خواہ وہ مذہبی ہوں یا سیاسی،اپنے مقاصد کے حصول اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنےاوراپنا الو سیدھا کرنے کے لیئے مذہبی کارڈ، مذہبی چورن،تڑکا یا پھر آج کے پاکستان میں مقبول اصطلاح “مذہبی ٹچ” لگانے میں ماہر ہو چکے ہیں۔ ایسے لوگوں کا مذہب کی اصل تعلیم سے دوردور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا،لیکن مخصوص مقاصد کےحصول کے لیئے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات کو مذہبی ٹچ دے کران کا”اخلاقی” جوازہی پیش نہیں کرتے،اسے عین عبادت قراردے دیتے ہیں۔

اس سے بھی ایک قدم مزید آگے بڑھ کر وہ اپنے اس پیش کردہ خود ساختہ مذہبی اور اخلاقی جوازسے اختلاف رائے رکھنے والے یا مذہبی تعلیم کی کسی اور قسم کی تشریح پیش کرنے والوں کو بھی عوام کے سامنے قوم و ملت اورمذہب کے غدار یا دشمن ہی نہیں بلکہ “مرتد” اور واجب القتل قراردینے سے گریزنہیں کرتے۔

آسٹریلیا اور دیگر کچھ ممالک کی طرف سےدہشت گرد قرار دی جاچکی تنظیم حماس کےمزاحمت کاروں نے جب 7/اکتوبر 2023ء کو اسرائیلی آبادی پر حملہ کر کے مبینہ طور پر ایک ہزار سے زائد اسرائیلیوں کوہلاک ( جن میں مبینہ طور پرعام شہریوں کی تعداد زیادہ ہے) اور دوسو سے زائد افراد کواغواکرکے یرغمال بنا لینے کی قابل مذمت کارروائی کی تووزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے 28 /اکتوبر 2023ء میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بائبل کا ایک حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اسرائیلیوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ “عمالیقؔ نے آپ کے ساتھ کیا کیا”۔

آسٹریلیا کی اے بی سی نیوزکی آن لائن اشاعت 31 جنوری 2024ء کے مطابق یہی بات آپ نے غزہ کی آبادیوں کو ملبہ کے ڈھیرمیں تبدیل کرنے والے اسرائیل کے فوجی جوانوں اورافسران کے نام ایک خط میں بھی دہرائی۔

واضح رہے کہ بائبل کے عہدنامہ عتیق کی کئی کتب میں اسرائیلیوں اور عمالیقیوں کے درمیان طویل عرصہ تک چلنے والی مخاصمت اور لڑائیوں کا ذکر ملتاہے جس کے مطابق اسرائیلیوں کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ عمالیقیوں کو زمین پر سے مٹا ڈالیں (خروج ؛ 1 سموئیل ؛ اِستثنا وغیرہ)۔

بائبل کی کتاب استثنا باب 25کے مطابق جب عمالیقیوں نے بے دریغ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے رفیدیم کے مقام پراسرائیلیوں پرحملہ کیا توخداوند کی طرف سے انہیں نصیحت کی گئی کہ “یاد رکھنا کہ جب تم مِصر سے نِکل کر آ رہے تھے تو راستہ میں عَمالیقیوں نے تیرے ساتھ کیا کِیا۔کیونکہ وہ راستہ میں تیرے مُقابِل آئے اور گو تُو تھکا ماندہ تھا تَو بھی اُنہوں نے اُن کو جو کمزور اور سب سے پیچھے تھے مارا اور اُن کو خُدا کا خَوف نہ آیا۔اِس لئے جب خُداوند تیرا خُدا اُس مُلک میں جسے خُداوند تیرا خُدا میراث کے طَور پر تجھ کو قبضہ کرنے کو دیتا ہے تیرے سب دُشمنوں سے جو آس پاس ہیں تجھ کو راحت بخشے تو تُو عمالیقیوں کے نام و نِشان کو صفحۂِ روزگار سے مِٹا دینا ۔ تُو اِس بات کو نہ بُھولنا۔ “
بعد میں یہی نصیحت کتاب 1 سموئیل میں ان الفاظ میں دہرائی گئی کہ خُدا ساؤل بادشاہ سے کہتا ہے کہ “ربُّ الافواج یُوں فرماتا ہے کہ مجھے اِس کا خیال ہے کہ عمالیق نے اِسرا ئیل سے کیا کِیا اور جب یہ مصر سے نِکل آئے تو وہ راہ میں اُن کا مخالِف ہو کر آیا۔سو اب تُو جا اور عمالیق کو مار اور جو کُچھ اُن کا ہے سب کو بِالکُل نابُود کر دے اور اُن پر رحم مت کر بلکہ مَرد اور عورت ۔ ننّھے بچّے اور شِیرخوار ۔ گائے بَیل اور بھیڑ بکریاں ۔ اُونٹ اور گدھے سب کو قتل کر ڈال۔ “

عمالیق کون لوگ تھے؟ بعض مفسرین کے مطابق قرآن کریم کی سورہ مائدہ میں ان کا ذکر”جبّارین” کے نام سے موجود ہے

قَالُوۡا یٰمُوۡسٰۤی اِنَّ فِیۡہَا قَوۡمًا جَبَّارِیۡنَ ٭ۖ وَ اِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَہَا حَتّٰی یَخۡرُجُوۡا مِنۡہَا ۚ فَاِنۡ یَّخۡرُجُوۡا مِنۡہَا فَاِنَّا دٰخِلُوۡنَ ۔

ترجمہ:انہوں نے جواب دیا کہ اے موسیٰ وہاں تو زور آور سرکش لوگ ہیں اور جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں ہم تو ہرگز وہاں نہ جائیں گے ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں پھر تو ہم ( بخوشی ) چلے جائیں گے ۔

بہرحال پھر ہوا یہ کہ نیتن یاہوکی طرف سے غزہ پر چڑھائی کو مذہبی ٹچ دے کر اس کا اخلاقی جواز پیدا کرنے کی کوشش اور اس ضمن میں ان کی طرف سے پیش کردہ عہدنامہ عتیق کےحوالوں کے اعادہ کو بنیاد بنا کرجنوبی افریقہ نے عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کےخلاف فلسطینیوں کی نسل کشی کا مقدمہ دائرکردیا ۔ چنانچہ84 صفحات پر مبنی پیٹیشن میں نیتن یاہوکی اصل نیت(غزہ میں فلسطینیوں کواپنے تئیں اس دور کے “عمالیق” قراردے کر ان کی نسل کشی کرنا) کو باقاعدہ ایک باب میں مندرجہ ذیل عنوان کے تحت بیان کیا گیا۔

‘Expressions of Genocidal Intent against the Palestinian People by Israeli State Officials and Others’.

راقم بہت سے عالمی مبصرین اور محققین کی طرح سمجھتا ہے کہ جب آپ اس قسم کے مبینہ مذہبی تاریخی واقعات اور “تعلیم” کا(جن کی حیثیت قابلِ بحث ہو) حوالہ دیتے ہوئے اور اسے موجودہ دور کے کسی گروپ یا قوم پر لاگو کرتے ہوئے فوجی کارروائی کا “فتویٰ” جاری کریں گے تو اس کا لازمی شاخسانہ نسل کشی ہوگا۔ اور جس قسم کی ساکھ رکھنے والی شخصیات کی طرف سے اس قسم کا فتویٰ جاری کیا جائے اسے مدنظر رکھتے ہوئے یوں کہنا بجاہوگا کہ مذہبی تعلیم پرعمل کرنا محض بہانہ تھا غزہ سے فلسطینیوں کامکمل صفایا اصل نشانہ تھا۔

اور اس بات کااظہارتوکچھ یہودی علماء کی طرف سے بھی برملا کیاجاچکا ہے۔

  جنوبی افریقہ نے عالمی عدالت انصاف میں یہ کیس کامیابی سے جیت بھی لیا ۔ابتدائی مختصر فیصلہ میں عدالت نے حکم دیا کہ :

Israel must “take all measures” to prevent acts within the scope of the Genocide Convention,

یعنی اسرائیل ہرلحاظ سے یقینی بنائے کہ نسل کشی کی معروف اور متفق الیہ تعریف میں آنے والے ہر قسم کے اقدامات کی روک تھام کی جائے گی۔

قارئین کرام آخر پریہ کہ “مذہبی ٹچ” لگانے ، اس کے مطابق عوام کالانعام کے انبوہ یاہجوم کی ہمدردیاں اوران میں قبولیت عام حاصل کرنے یا پھراس سے بھی آگے بڑھ کراپنے اقتداریا قبضہ کوطویل تر دوام دینے کی خاطر مخصوص قسم کی ذہنیت  پر مبنی مذہبی تشریحات کو ملکی قوانین کی صورت میں ڈھالنے کا ایک منطقی شاخسانہ یہ بھی نکلتا ہے کہ ایسے ممالک جہاں دیگر مذاہب یا کسی ایک مذہب کے ماننے والے اکثریت میں ہوں تو ان کو بھی ان کا یہی “مذہبی” حق دینا پڑے گا جو آپ خود اپنے لیئے اپنانا پسند کرتے ہیں،اور ایسا ہوا بھی ہے۔

چنانچہ آج اگر پاکستان میں مذہبی سیاسی جماعتوں کے عہدیداران یہ بیان دیتے نظر آتے ہیں کہ “غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام پر عرب ممالک کی خاموشی معنی خیز ہے”وغیرہ (گواس معاملہ میں عرب ممالک اتنے بھی خاموش نہیں) تو عین ممکن ہے یہ عرب ممالک پاکستانی علماء کے اس فتویٰ کی روشنی میں ہی خاموش ہوں جو انہوں نے فسادات1953ء کی عدالتی انکوائری کمیٹی کے سامنے جاری فرمایا تھا۔

چنانچہ فاضل جج صاحبان نے اپنی رپورٹ میں لکھا:

’’اگرپاکستان کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنے دستور کی بنیاد مذہب پر رکھے تو یہی حق ان ملکوں کو بھی دینا ہوگا جن میں مسلمان کافی بڑی اقلیت پر مشتمل ہیں یا جو کسی ایسے ملک میں غالب اکثریت رکھتے ہیں جن میں حاکمیت کسی غیر مسلم قوم کو حاصل ہے لہذا ہم نے مختلف علماء سے یہ سوال کیا کہ اگر پاکستان میں غیر مسلموں کے ساتھ شہریت کے معاملات میں  مسلموں سے مختلف سلوک کیا جائے تو کیا علماء کو اس امر پر کوئی اعتراض ہو گا کہ دوسرے ملکوں میں مسلمانوں کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ روا رکھا جائے‘‘۔

یہ سوالات فاضل جج صاحبان نے مختلف ’علماء‘ مذہبی قیادت سے کئے ان میں سے دو جوابات درج ذیل کئے جاتے ہیں۔

عالم نمبر1 مولوی ابوالحسنات قادری

سوال:کیاآپ ہندوؤں کا جو ہندوستان میں اکثریت رکھتے ہیں یہ حق تسلیم کریں گے کہ وہ اپنے ہاں ہندو دھرم کے ماتحت مملکت قائم کر لیں؟

جواب:ہاں

سوال:اگر اس نظام حکومت میں منو شاستر کے ماتحت مسلمانوں سے ملیچھوں یا شودروں کا سلوک کیا جائے تو کیا آپ کو کوئی اعتراض ہوگا؟

جواب:جی نہیں۔

عالم نمبر2 مولانا ابو الاعلیٰ مودودی

سوال:اگر ہم پاکستان میں اس شکل کی اسلامی حکومت قائم کرلیں تو کیا آپ ہندوؤں کو اجازت دیں گے کہ وہ اپنے دستور کی بنیاد اپنے مذہب پر رکھیں؟

جواب:یقینا مجھے اس پر کوئی اعتراض نہ ہوگا کہ حکومت کے اس نظام میں مسلمانوں سے ملیچھوں اور شودورں کا سا سلوک کیا جائے۔ ان پر منو کے قوانین کا اطلاق کیا جائے اور انہیں حکومت میں حصہ اور شہریت کے حقوق قطعاً نہ دیئے جائیں۔

(رپورٹ تحقیقاتی عدالت برائے تحقیقات فسادات پنجاب1953ء صفحہ 354 ناشر نیا زمانہ پبلیکیشنز لاہور)

صیہونی یہودی اسرائیل کی طرف سے غزہ کےفلسطینیوں کو عمالیق سے تشبیہ دے کر ان پر ڈھائے جانے والے مظالم اور ان پر عرب ، بلکہ جملہ اسلامی ممالک کی مبینہ معنی خیز خاموشی،یہ دونوں امور آپ کے ہی اسی سطحی مذہبی علم اورنام نہادمذہبی” ٹچ” کامنطقی شاخسانہ تو نہیں؟۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *