شاعری

غزل ۔ ۔ ۔ ساقی فاروقی

شاعر: ساقی فاروقی

وہ لوگ جو زندہ ہیں وہ مر جائیں گے اک دن
اک رات کے راہی ہیں گزر جائیں گے اک دن

یوں دل میں اٹھی لہر یوں آنکھوں میں بھرے رنگ
جیسے مرے حالات سنور جائیں گے اک دن

دل آج بھی جلتا ہے اسی تیز ہوا میں
اے تیز ہوا دیکھ بکھر جائیں گے اک دن

یوں ہے کہ تعاقب میں ہے آسائش دنیا
یوں ہے کہ محبت سے مکر جائیں گے اک دن

یوں ہوگا کہ ان آنکھوں سے آنسو نہ بہیں گے
یہ چاند ستارے بھی ٹھہر جائیں گے اک دن

اب گھر بھی نہیں گھر کی تمنا بھی نہیں ہے
مدت ہوئی سوچا تھا کہ گھر جائیں گے اک دن

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *