Latestاردومتفرقمذہبمعاشرہ

جامع اور عدل پر مبنی اصلاح

تحریر: ڈاکٹر عائض القرنی

خاتم المرسلین حضور سرور کونینﷺ زندگی کے تمام شعبوں میں جامع اور عدل پر مبنی اصلاح کرنے کیلئے آئے اور قیامت تک اصلاح کرنے والوں کے امام و پیشوا بن گئے۔آپﷺ اس لیے تشریف لائے تاکہ اللہ کے حکم سے دلوں کی اصلاح کریں اور ان سے کینہ، بغض اور عداوت ختم کریں۔ آپ ﷺ نے اصلاح کا آغاز ہی دلوں سے کیا کیونکہ وہ اصلاح کی اساس اور بنیاد ہیں۔آپﷺ نے فرمایا:’’سن لو! بدن میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ جب وہ ٹھیک ہوتا ہے تو سارا بدن ٹھیک ہوتا ہے اور جب وہ بگڑ جاتا ہے تو سارا بدن خراب ہو جاتا ہے۔ آگاہ رہو! وہ ٹکڑا دل ہے‘‘۔(صحیح البخاری، الایمان، حدیث52:)۔ 

 نبی کریم ﷺ نے عقلوں کی اصلاح کی جو فاسد تصورات، گمراہ عقائد و نظریات، انحرافات اور بُرے خیالات سے خریدی ہوئی تھیں۔ آپﷺ نے لوگوں کو اس فطرت کی طرف لوٹنے کی دعوت دی جس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا فرمایا اور شیاطین نے گمراہ کرکے انہیں اس سے دور کر دیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اللہ کی فطرت (اختیار کرو) جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی جائز نہیں۔ یہی سیدھا دین ہے‘‘۔(الروم 30:30:)
آپﷺ نے ازدواجی زندگی کی بنیاد شراکت داری، رواداری اور ہم آہنگی پر رکھی۔ عورتوں کے ساتھ حسن معاشرت اور نرمی کی تعلیم دی۔ سفر سے واپسی پر اچانک بغیر اطلاع دیے گھر آنے سے منع فرمایا تاکہ کوئی ناگوار صورتحال پیش نہ آئے۔آپﷺ اصلاحی مسائل کی خود نگرانی فرماتے۔ آپؐ کی عظیم خیر خواہی، کمال رشد و ہدایت اور امت پر رحمت و شفقت کے باعث ایسے معلوم ہوتا کہ صلح کا معاملہ آپؐ کے نزدیک دنیا کا سب سے بڑا معاملہ ہے۔ فتنے کو ختم کرکے دو دلوں کو اللہ کی اطاعت پر جوڑنا اللہ تعالیٰ کے ہاں رات کے قیام اور گرمیوں کے روزوں سے بھی افضل ہے۔
آپﷺ نے عملاً جامع اصلاح کا آغاز انفرادی طور پر کیا اور ایک ایک انسان پر توجہ دی کیونکہ فرد کی اصلاح ہی سے معاشرے کی اصلاح ممکن ہے۔ ارشادی باری تعالیٰ ہے:’’بے شک اللہ اس حالت کو نہیں بدلتا جو کسی قوم پر طاری ہو، حتیٰ کہ وہ خود اسے بدل لیں جو ان کے دلوں میں ہے‘‘۔(الرعد11:13:)۔
آپﷺ نے بالترتیب فرد، خاندان، معاشرے اور امت کی اصلاح کی۔ آپﷺ نے اصلاح کا آغاز اپنی ذات سے کیا اور جہان والوں کے لئے نمونہ بنے۔ آپؐ نے اپنے چچا سید نا عباس رضی اللہ عنہ کا وہ سود ختم کیا جو انہیں لوگوں سے لینا تھا اور بنو عبدالمطلب کے ایک لڑکے کا خون معاف کیا، چنانچہ فرمایا:۔’’ اسی طرح جاہلیت کے خون بھی جو ایک دوسرے کے ذمے چلے آ رہے ہیں معاف ہیں۔ آج کے بعد ان کا کوئی قصاص ہوگانہ دیت، ہمارے جو خون بہائے گئے۔ ان میں سے سب سے پہلا خون جو میں معاف کرتا ہوں، وہ ربیعہ بن حارث کے بیٹے کا ہے جو بنو سعد کے ہاں دودھ پی رہا تھا اور اسے قبیلہ ہذیل نے قتل کر دیا تھا۔ اسی طرح جاہلیت کے تمام سود بھی معاف ہیں اور سب سے پہلا سود جو میں معاف کرتا ہوں، وہ ہمارے خاندان کا سود ہے، یعنی میرے چچا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا سود۔ وہ پورے کا پورا معاف ہے‘‘۔(صحیح مسلم، الحج، حدیث1218)
آپﷺ نے ازدواجی زندگی کی بنیاد شراکت داری، رواداری اور ہم آہنگی پر رکھی۔ عورتوں کے ساتھ حسن معاشرت اور نرمی کی تعلیم دی۔ سفر سے واپسی پر اچانک بغیر اطلاع دیئے گھر آنے سے منع فرمایا تاکہ کوئی ناگوار صورتحال پیش نہ آئے جیسا کہ سید نا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ رات کو اچانک گھر والوں کے پاس نہیں آتے تھے۔ آپ صبح آتے یا شام کو۔(صحیح البخاری، ابواب المعمرۃ، حدیث1800)
آپﷺ اصلاحی مسائل کی خود نگرانی فرماتے۔ آپ کی عظیم خیر خواہی، کمال رشد و ہدایت اور امت پر رحمت و شفقت کے باعث ایسے معلوم ہوتا کہ صلح کا معاملہ آپ کے نزدیک دنیا کا سب سے بڑا معاملہ ہے۔ فتنے کو ختم کرکے دو دلوں کو اللہ کی اطاعت پر جوڑنا اللہ تعالیٰ کے ہاں رات کے قیام اور گرمیوں کے روزوں سے بھی افضل ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’ اور اگر تمہیں دونوں(میاں بیوی) میں جھگڑے کا ڈر ہو تو ایک شخص مرد کے کنبے سے اور ایک عورت کے کنبے سے منصف مقرر کرو، اگر وہ دونوں صلح کرنا چاہیں گے تو اللہ ان دونوں( میاں بیوی) میں موافقت پیدا کر دے گا، بے شک اللہ بہت علم والا، خوب خبردار ہے‘‘(النسآء 35:4)
ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ نے ادارتی اور معاشرتی نظام کی بھی اصلاح فرمائی۔ آپﷺ کی بعثت سے پہلے مکہ مکرمہ کا معاشرتی ماحول نہایت بگاڑ کا شکار تھا۔ ایک بدمعاش اور بت پرست گروہ معاشرے پر حاوی تھا جن کے ہاں عدل و انصاف مشاورت اور مساوات کا تصور تک نہ تھا۔ وہ خواہشات، ظلم و ستم اور شیطانی سوچ کے ساتھ حکومت کرتے تھے۔ جزیرہ نمائے عرب کے دیگر قبائل بھی باہم دست و گریبان تھے اور اپنی زندگی بغیر کسی دستور، منہج اور نظام کے گزار رہے تھے۔ ان کی معیشت کا انحصار لوٹ مار پر تھا۔ ان کی لڑائیاں قبائلی تعصب، جہالت اور ظلم و زیادتی پر مبنی تھیں جن کا مقصد دوسرے کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا، خون بہانا، عزتوں کو پامال کرنا، مال لوٹنا اور اپنی ناموری کا اظہار کرنا تھا۔
آپﷺ کے عہدِ مبارک میں عالمی صورت حال یہ تھی کہ دنیا دو سلطنتوں میں تقسیم تھی: ایک فارس اور دوسری روم۔ ان دونوں کی بنیاد بھی غلبہ و تسلط، ظلم و ستم اور اپنی سلطنت کے دائرہ کار کی وسعت تھی۔ جب رسولوں کو گزرے ایک زمانہ بیت گیا، ہر طرف غفلت نے ڈیرے ڈال لیے، زندگی مصیبت بن گئی، دل سخت ہو گئے اور روحیں مردہ ہو گئیں تو ان حالات میں آپ ﷺ نے سرزمین مکہ سے تمام دنیا والوں کیلئے اعلان کیا:’’اے لوگو! لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لو، فلاح پا جائو گے‘‘(مسند أحمد، حدیث 160:23:)۔
پھر آپﷺ نے ایک ریاست کی بنیاد رکھی جس کا انتظامی ڈھانچہ عدل، شوریٰ، آزادیٔ رائے، مساوات، انصاف، انسانی حقوق کے احترام، جان و مال اور عزت کی حفاظت پر مبنی تھا۔ اس میں انسانی زندگی کی حفاظت، آزاد عدلیہ ،لوگوں کے امن و سکون کا خیال اور ان کی فلاح سے متضاد ہر چیز کا خاتمہ پیش نظر تھا۔ آپ ﷺ نے چھوٹے بڑے، مرد و عورت اور امیر و غریب ہر فرد کی خیر اور بھلائی کو یقینی بنایا۔ آپ ﷺ نے امت کے انتظامی معاملات کو منظم و مرتب کیا یہاں تک کہ معاشرہ ایسے اصولوں اور شرعی نصوص پر قائم ہوا جن سے علماء اور جج زندگی کے ہر شعبے، ہر مسئلے اور ہر معاملے میں رہنمائی لیتے ہیں۔
دیہاتی عرب جو جنگل کے قانون میں زندگی گزارتے تھے اور کسی قانون و ضابطے سے ناواقف تھے، نبی کریم ﷺ نے انہیں تہذیب و تمدن کے معمار بنا دیا۔ وہ پوری دنیا میں امن و سلامتی کی علامت بن کر ابھرے اور علم کے روشن مینار بن گئے۔ قرآن و سنت کا مطالعہ کریں، آپ کو ریاست کے ہر چھوٹے بڑے انتظامی معاملے کا حل ملے گا۔ آپﷺ نے ہر معاملے میں احکام و فرائض کی تفصیلات بتا دیں اور اللہ کی طرف سے ایک قانون بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کا دین روئے زمین پر نیکی، اصلاح، خیرو برکت اور کامیابی و کامرانی کا نشان بن کر چمکا۔ آپؐ کی رسالت اور اس کی خیر و برکت مشرق میں چین، مغرب میں فرانس، شمال میں قفقاز( روس) اور جنوب میں افریقہ کے جنگلوں تک پوری زمین میں پھیل گئی۔آپﷺ نے ماحول کو سازگار بنایا۔ اپنی شریعت کے ساتھ زمین کی تعمیر و ترقی، اس پر سرمایہ کاری اور بحالی کی دعوت دی۔ اس میں بگاڑ پیدا کرنے والی ہر تخریب کاری، خرابی اور بربادی کو دور کرکے اسے محفوظ بنایا۔ راستوں، مجلسوں، نہروں، کنوئوں، باغوں، زراعت اور پارکوں کے مستقل احکام بیان فرمائے۔اور یہ سب واضح اور ٹھوس شرعی دلائل اور نصوص سے مزین ہے ۔ آپﷺ کی بعثت سے پہلے جزیرہ نمائے عرب میں ایسی ماحولیاتی زندگی کا تصور بھی نہیں تھا۔ وہ اونٹوں، بکریوں اور گایوں کے چرواہے تھے جو کسی ایک معبود اور شریعت کی بالادستی کے بغیر افراتفری کی غیر منظم زندگی گزار رہے تھے اور کسی اصول و ضابطے سے آشنانہ تھے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اور زمین کی اصلاح کے بعد تم اس میں فساد نہ کرو اور اللہ کو خوف سے اور طمع کرتے ہوئے پکارو، بے شک اللہ کی رحمت احسان کرنے والوں کے قریب ہے‘‘۔(الأعراف 56:7:)۔
اور ایک مقام پر فرمایا:’’اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کرکے مت دو اور تم زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد نہ کرو۔ یہ تمہارے لیے بہت بہتر ہے اگر تم مومن ہو‘‘(االأعراف85:7:)
سید نا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:’’ایک شخص کہیں جا رہا تھا۔ راستے میں اس نے ایک کانٹے دار ٹہنی دیکھی تو اسے راستے سے دور کر دیا۔ اللہ تعالیٰ (صرف اسی بات پر) راضی ہو گیا اور اس کی بخشش کر دی‘‘۔(صحیح البخاری، الأذان، حدیث652:)۔
نبی کریم ﷺ نے صحت مند زندگی کے متعلق بھی اصلاحات کیں اور لوگوں کو اپنی صحت کا خیال رکھنے کا حکم دیا، فرمایا:’’طاقتور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن کی نسبت بہتر اور زیادہ محبوب ہے، جبکہ خیر دونوں میں موجود ہے۔جس چیز سے تمہیں حقیقی نفع پہنچے، اس میں حرص کرو اور اللہ سے مدد مانگو اور کمزور نہ پڑو‘‘(صحیح مسلم، القدر، حدیث2664:)
صحت اور طب کے حوالے سے شریعت محمدی میں بکثرت عمومی ہدایات اور بنیادی ضابطے موجود ہیں جو ڈاکٹر حضرات اور ماہرین نفسیات کیلئے رہنما اصولوں کا درجہ رکھتے ہیں۔ امام ابن قیم اور سیوطی ؒ نے طب نبویؐ پر مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ آپﷺ کی احادیث میں کھانے کی اقسام، کھانے پینے کا طریقہ، کون سا کھانا صحت افزا ہے اور کون سا نقصان دہ اور اس طرح کی دیگر ہدایات ملیں گی جن سے اہل عرب ناواقف تھے۔ وہ نقصان دہ، نشہ آور اور مردار اشیاء تک کھا جاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپﷺ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’اور وہ ان کے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کرتا ہے اور ان پر ناپاک چیزیں حرام ٹھہراتا ہے‘‘
(الأعراف 157:7:)اور ایک مقام پر فرمایا:’’تم پاکیزہ چیزوں میں سے کھائو اور نیک عمل کرو۔ بے شک تم جو عمل کرتے ہو، میں اسے خوب جانتا ہوں‘‘۔(المؤمنون 51:23)
اور آپﷺ فرماتے تھے:’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ پاک ہے اور صرف پاک ہی قبول کرتا ہے‘‘۔(صحیح مسلم ، الزکاۃ، حدیث 1015:)
آپﷺ نے صحت کے حوالے سے متعدد نصیحتیں فرمائیں جن میں سے آپ ﷺ کا یہ فرمان ہے:’’جب تم میں سے کوئی پانی پئے تو برتن میں سانس نہ لے‘‘(صحیح البخاری، الوضوء، حدیث 153:)۔
اسی طرح آپﷺ کا فرمان ہے:’’بیمار اونٹوں والا صحت مند اونٹوں والے کے پاس اونٹ نہ لائے‘‘۔(صحیح مسلم ، السلام، حدیث:2221)۔
اللہ تعالیٰ نے اصلاح کرنے والوں کو خوشخبری دی ہے، چنانچہ فرمایا ’’ بے شک ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے‘‘(الاعراف170:7)۔
اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی شعیب علیہ السلام کی بات ذکر کرتے ہوئے فرمایا ’’ میں تو صرف اصلاح چاہتا ہوں جہاں تک مجھ سے ہو سکے‘‘(ھود86:11)۔
ہر شخص کسی نہ کسی کو اپنا (مقتدا )آئیڈیل بناتا ہے، انہیں اپنا آئیڈیل حضور نبی کریمﷺ کو بنانا چاہیے، ہمیں آپﷺ ہی کی پیروی کرنا چاہیے۔ اسلام کے تربیتی نظام کے مطابق آپﷺ کے امتی کو نہایت ہی نیک دل ہونا چاہیے، یہ اولین شرائط میں سے ایک ہے۔وسیع علم کا مالک ہونا چاہیے۔ مسلمان کو عادا ت و اخلاق میں نہایت سلجھا ہوا اور ممتاز ہوناچاہیے۔ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ ایک باوقاراور عمدہ ترین معاشرہ قائم ہو اور بے نظیر امت رونما ہو۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *