قبل از وقت چہرہ پر جھریاں ظاہر ہونا
موجودہ عہد میں اسمارٹ فونز کا استعمال بہت زیادہ عام ہوچکا ہے اور لوگ اپنا زیادہ وقت ان ڈیوائسز پر مختلف ایپس استعمال کرتے ہوئے گزارتے ہیں۔
مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ ان ڈیوائسز سے خارج ہونے والی نیلی روشنی آپ کی جِلد کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے؟
جی ہاں واقعی اسمارٹ فونز یا دیگر ایسی ڈیوائسز سے خارج ہونے والی نیلی روشنی سے جِلد کی صحت کو نقصان پہنچتا ہے اور جھریوں سمیت بڑھاپے کی دیگر علامات ابھرنے لگتی ہیں۔
سورج کی روشنی کے مقابلے میں اسمارٹ فون، لیپ ٹاپ، ٹی وی سے خارج ہونے والی روشنی کی سطح 100 سے ایک ہزار گنا کم ہوتی ہے۔
تو یہ نیلی روشنی جِلد پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے، اس بارے شواہد سے جو کچھ معلوم ہوا ہے وہ درج ذیل ہے۔
نیلی روشنی سے جِلد کی رنگت بننے کا عمل تیز ہو جاتا ہے
تحقیقی رپورٹس سے عندیہ ملا ہے کہ اسمارٹ فونز کی نیلی روشنی سے میلانین بننے کا عمل متحرک ہوتا ہے۔
جھریاں بن جاتی ہیں
کچھ تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ ڈیوائسز کی نیلی روشنی سے کولیگن نامی پروٹین کو نقصان پہنچتا ہے۔
یہ پروٹین جِلد کی ساخت کے لیے اہم ترین ہوتا ہے اور اس کی کمی سے جوانی میں ہی چہرے پر جھریاں ظاہر ہو جاتی ہیں۔
نیند متاثر ہوتی ہے
اگر آنکھوں کے گرد موجود جِلد ڈھلکنے لگی ہے یا سیاہ حلقے نمایاں ہوگئے ہیں تو اس کی وجہ بھی ڈیوائسز سے خارج ہونے والی نیلی روشنی ہوسکتی ہے۔
نیلی روشنی سے نیند متاثر ہوتی ہے جس سے آنکھوں کے گرد حلقے اور دیگر علامات نظر آنے لگتی ہیں۔
خاص طور پر سونے سے کچھ دیر قبل اسمارٹ فون استعمال کرنے سے سونا مشکل ہوتا ہے جبکہ نیند کا معیار بھی گھٹ جاتا ہے۔
نیند کی کمی سے آنکھوں کے حلقوں کے ساتھ ساتھ دیگر جِلدی امراض جیسے چنبل کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔
نیند کی کمی سے جسم میں ہارمون بڑھانے والے ہارمون کورٹیسول کی سطح بھی بڑھ جاتی ہے جو کولیگن کے افعال متاثر کرتی ہے۔
بشکریہ: جیو نیوز
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

