شاعری

غزل ۔ ۔ ۔ پارس مزاری

شاعر: پارس مزاری

گزشتہ دو دہائی کے دوران نوجوان شعرا میں پارس مزاری نے غزل گو شاعر کے طور پر ادبی حلقوں اور باذوق قارئین کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔ان کا تعلق بہاول پور سے ہے۔

 

نہ گرے کہیں نہ ہرے ہوئے کئی سال سے
یونہی خشک پات جڑے رہے تری ڈال سے

کوئی لمس تھا جو سراپا آنکھ بنا رہا
کوئی پھول جھانکتا رہ گیا کسی شال سے

تری کائنات سے کچھ زیادہ طلب نہیں
فقط ایک موتی ہی، موتیوں بھرے تھال سے

تُو وہ ساحرہ کہ طلسم تیرا عروج پر
میں وہ آگ ہوں جو بجھے گی تیرے زوال سے

ترے موسموں کے تغیّرات عجیب ہیں
میں قبا بنانے لگا ہوں پیڑ کی چھال سے

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *