سندھ میں منشیات کے رجحانات میں تشویشناک اضافہ
تحرير و تصنيف: ڈاکٹر ثمینہ واحد
منشیات کی بڑھتی ہوئی اسمگلنگ اور اسکی لت میں تیزی سے اضافے پر تفصيلی بات چیت کرنے سے پہلے حکومت سندھ کے جانب سے منشيات کی روک تھام کے لئیے کریک ڈوان پالیسی مرتب کی جارہی ہے جو نہایت ہی خوشآئند بات ہے۔
منشيات کی لت نے قومی تشخص کو زنگ آلودہ کردیا ہے۔اب یہ وبا تعليمی اداروں کا رخ کر رہی ہے۔نہیں لکھوں گی کردیا گیا ہے بڑے گھروںں کے بچو ں کو ٹارگٹ کرتے ہیں جن سے جڑی کئی حادثے اور کہنیاں کچھ سالوں سے گردش کر رہی ہیں ۔
چوںکہ سندھ میر تعلق ہے تو یہاں کے حالات بآسانی لکھ سکتی ہوں پر سندھ میں منشيات تفصيلی گفتگو کرنے سے پہلے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے تعليمی اداروں میں منشيات کے بڑهتے ہوئے رجحان کا جائیزہ لیتے ہیں۔
ایک سروے رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2016 میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و منشیات کنٹرول کو ساؤتھ ایشین سٹریٹیجک سٹیبیلیٹی انسٹیٹیوٹ (ساسی) کی جانب سے پیش کردہ ایک چونکا دینے والی رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد کے نجی اسکولوں میں چوالیس سے 53 فیصد طلباء و طالبات منشیات استعمال کرتے ہیں
اسلام آباد میں ایک آزاد تھنک ٹینک، ساسی کی ڈائریکٹر جنرل، ماریہ سلطان کے مطابق، یہ نتائج دارالحکومت میں 44 اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلباء و طالبات سے کیے جانے والے ایک سروے سے سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ نے کمیٹی کے ارکان کو تشویش میں مبتلا کر دیا تھا اور مزید تحقیقات کی سفارش کی۔ یونیورسٹی کیمپس میں منشیات سے متعلقہ سرگرمیوں پر کریک ڈاؤن کرنے کے لیے سخت اقدامات کریں اور حکام کو منشیات کے استعمال کی اطلاع دینے پر اسکول کے منتظمین کو جوابدہ ٹھہرائیں۔ انہوں نے کہا، “ہمیں منشیات کے خلاف اعلان جنگ کرنے اور سول سوسائٹی، سیاست دانوں اور میڈیا سے اپیل کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ منشیات کے عادی افراد اور ہماری آنے والی نسلوں کواس زھر اور بربادی سے بچنےمیں مدد کریں اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔
اے این ایف کے مطابق گزشتہ سال سے اب تک حکام نے تعلیمی اداروں میں 9,885 کلو گرام ہیروئن، 1,440 کلو گرام چرس اور 33 کلو پوست پکڑی ہے۔ مزید برآں، اے این ایف اہلکاروں نے اسی عرصے کے دوران پاکستانی تعلیمی اداروں میں 339 چھاپے مار کر 412 مشتبہ منشیات فروشوں کو گرفتار کیا۔
منشیات کے استعمال کو روکنے کی بنیادی وجہ کو حل کرنا لاہور کے سروسز ہسپتال کے ماہر نفسیات، ڈاکٹر ناصر سعید خان نے ستمبر میں پاکستان فارورڈ کو فون پر بتایا، “کم تعداد اور خراب کارکردگی بوریت پیدا کرتی ہے، جس کی وجہ سے لوگ اپنی روزمرہ کی پریشانیوں اور تناؤ سے نمٹنے کے لیے منشیات کا استعمال کرتے ہیں۔” کمی کی طرف جاتا ہے، خاص طور پر جب وہ آسانی سے دستیاب ہوں۔”
انہوں نے کہا کہ دیگر بنیادی وجوہات میں ساتھیوں کا دباؤ اور ابتدائی سالوں میں خود اعتمادی کی کمی شامل ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ایک نوجوان محض تفریح کے لیے منشیات کا استعمال کر سکتا ہے، اس کا عادی ہو جاتا ہے “اور آہستہ آہستہ اپنا کیریئر کھو دیتا ہے اور یہ زندگی کو تباہ کر دیتا ہے۔” خان نے کہا، “کھیل اور مباحثے جیسی صحت مند سرگرمیاں نوجوانوں کو منشیات کے عادی ہونے سے روکنے میں بہت بڑا کردار ادا کرتی ہیں۔”
انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا، “پروفیسر اور اساتذہ مؤثر مداخلت کے ذریعے ساتھیوں کے دباؤ کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ کمرۂ جماعت کا ماحول خطرے سے پاک ہے اور غیر متعصب ہے اور یہ کہ تعلیمی ماحول شفقت، مفاہمت اور مشغولیت کی عکاسی کرتا ہے۔”
خان نے کہا، “اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تعليمی اداروں یا علاقے میں کھیلوں، فنون، یا دیگر کسی بھی قسم کی غیر نصابی سرگرمی میں حصہ لینا نوجوانوں کو منشیات کا عادی بننے سے اجتناب کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جب وہ حصہ لیتے ہیں تو ان میں اجتماعیت کا ایک مضبوط تر احساس جنم لیتا ہے۔ یہ انہیں وابستگی کا وہ احساس دیگا جس کی انہیں ضرورت ہے، جس سے انہیں منشیات سے اجتناب کرنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔”
سندھ میں منشيات فروشی اور اس کا استعمال
سندھ میں منشیات کی اسمگلنگ نے انڈسٹری کی شکل اختیار کر لی ہے اور اس نشے میں آئس سرے فہرست ہے! جیسا کہ پہلے منشیات فروش اسمگلر ہوا کرتے تھے لیکن اب سفید پوش لوگ اور مختلف پس منظر کے لوگ اس سماجی لعنت میں ملوث ہیں۔ ان میں سے کچھ خود بیچ تے ہیں، اور کچھ سفید پوش منشیات فروشوں کے سہولت کار بن جاتے ہیں۔ انکے پورے خاندان بھی یہ کاروبار کر رہے ہیں جن میں عورتیں، بچے، نوجوان اور بوڑھے شامل ہیں۔اور وہ بھی شامل ہیں جو دس سوز سیل کرکے اپنے روز کے ایک سوز کا انتظام کرتے ہیں اور اس میں زیادہ مڈل کلاس نوجوان پھنسے ہیں اور ان پر جال آرام سے بچھارہیں کہ وہ بہت سی محرومیوں کا شکار ہوکر راہ فرار سمجھتے ہیں نشر کو!
تعلیمی اداروں کے ارد گرد منشیات کی فروخت پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اجتماعی اقدام کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ ڈاؤ یونیورسٹی کو منشیات کی سپلائی کو روکنے میں درپیش چیلنجز بشمول اختراعی طریقے جیسے کہ ڈسٹری بیوشن کے لیے رکشہ ڈرائیوروں کا استعمال، منشیات کی تجارت میں ملوث افراد کی موافقت کو ظاہر کرتا ہے۔
سندھ میں منشیات فروشی میں تشویشناک اضافہ: 6810 مقدمات درج کراچی، صوبہ سندھ رواں سال پولیس نے نارکوٹکس ایکٹ کے تحت 6810 مقدمات درج کرکے 7956 ملزمان کو گرفتار کیا، 7415 ملزمان کے چالان کیے گئے۔ 6 ماہ میں پولیس نے 37 کلو ہیروئن، 6 ہزار 35 کلو گرام چرس، 507 کلو افیون، 5 ہزار 103 کلو بھنگ، 2985 شراب کی بوتلیں برآمد کیں۔ سانگھڑ ایمبولینس میں منشیات سمگلنگ کی کوشش ناکام 02 کلو چرس، 03 من کچی سپاری گٹکا ماوا کی تیاری میں استعمال ہوتی ہے۔منشیات لے جانے کے لیے استعمال ہونے والی ایمبولینس بھی پولیس نے قبضے میں لے لی آخر میں یہ ضرور لکھوں گی بھول بھلیاں اتنی ہیں کہ سمجھنا مشکل ہے کون کس کا سھولتکار ہے
لیکن اس میں بھی ہماری نئی نسل کی بربادی کا زمیدار ڈھونڈتا مشکل نہیں بس عوام خود اپنے بچوں پر نظر رکھے دوستوں اور پڑوس کی خبر رکھیں اسلامی رو سے اگر کہوں تو سنت ہے اور اگر حالات کے مطابق کہوں تو اک جھاد ہے اپنی نسل کیلئے۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

