Latestاردوتاریخقومیمعاشرہ

بلوچ کی بدقسمتی

تحریر: عزیز سنگھور

میر چاکر اعظم رند اپنی بہادری اور دلیری کے باعث برصغیر کے طاقتور ترین حکمرانوں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے شیر شاہ سوری جیسے طاقتور حکمران کو شکست دی اور مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر کو دوبارہ دہلی کا تخت واپس دلوایا۔ میر چاکر خان رند صرف ایک نام یا ایک شخصیت نہیں تھی بلکہ انہوں نے بلوچ سماج کی اخلاقیات اور رسم و رواج کو مزید تقویت دی۔ انہوں نے بلوچ سوسائٹی میں سوشل ویلیوز کی جدید بنیاد رکھی۔ آج بھی ہر بلوچ ان ہی کے قائم کردہ اصولوں کی پابندی میں فخر محسوس کرتا ہے۔ ان کی بنائی ہوئی معاشرتی اخلاقیات کی روگردانی کرنے والے فرد کا سماجی بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔ اور بلوچی روایت کی روگردانی کرنے والے سے “بلوچ” کا لقب واپس لیا جاتا ہے۔ چاہے وہ شخص خود بلوچ ہی کیوں نہ ہو۔ بلوچیت کردار کے اصول ایک معیار اور رتبے کا نام ہوتا میر چاکر خان رند خود بھی بہادر تھے اور بہادر دوستوں کی ہی نہیں بلکہ دشمنوں کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور بقول میر چاکر ” بہادروں کا انتقام بھی مجھے پیارا ہے : ہے جو میرے اونچ قلعوں پر حملہ کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔‘‘

آج بلوچ کی بد قسمتی ہے کہ ان کا مد مقابل ان کے معیار کے مطابق نہیں ان کے جنگی اصول جگی روایت کے منافی ہے۔ ان کا کوئی اصول اور روایت نہیں ہے۔ نوبت لاوڈ اسپیکر کی چوری تک پہنچ چلی ہے۔ اس طرح کی گری ہوئی حرکت کرنے سے ان کے معیار کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ پانچ ہزار روپے کا اسپیکر لے جانے کے لئے دو دو کروڑ لئے دو دو کروڑ کی ویگو گاڑی آتی اگر جاپان کی ٹویوٹا کمپنی کو معلوم ہوتا ان کی بنائی ہوئی گاڑی سے اس لیول کا کام بھی لیا جائے گا تو وہ دیگو گاڑی ہی نہیں بناتی۔ کیونکہ اس حرکت سے دیگو گاڑی بنانے والی معینی کی بھی توہین ہوئی ہے۔ بقول پاکر خان رند ” سچ بولنا بلوچوں کا شیوہ ہے اور جھوٹ ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے ” بلوچ معاشرے میں جو کوئی جھوٹ بولے اور وعدہ خلافی کرے تو اس کی معاشرے میں کوئی مقام و عزت و عزت نہیں ہوتی۔ لیکن سرکار کی جانب سے بولے گئے جھوٹ کے سامنے خود جھوٹ بھی شرمندہ ہو گئی ہے۔ سرکار اس بات سے انکاری ہے کہ ان کے پاس کوئی بھی لاپتہ افراد موجود ہیں۔

بھائی جان! پھر انہیں زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔ پندرہ پندرہ سالوں سے جبری گمشدگی کے شکار لوگوں کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا جا رہا۔ لانگ مارچ کے شرکا اپنے پیاروں کی بازیابی چاہتے ہیں۔ کسی کا والد، کا بھائی اور کسی کا بیٹا کئی سالوں سے جبری کا شکار ہیں۔ ان کا معصومانہ مطالبہ ہے کہ اگر ان کے پیارے زندہ ہیں تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ بے شک نے جرم کیا ہے تو انہیں دی جائے۔ وگرنہ انہیں بازیاب کیا جائے۔ لیکن سرکار اپنے آئین و قانون کی روگردانی کر رہی بقول میر چاکر خان رند بلوچ لوگ عورتوں اور بچوں پر بھی ہاتھ نہیں اٹھاتے، مہمان اور مہمان نوازی بلوچ معاشرے کا ایک لازمی اور مہمانوں کو خدا کی نعمت سمجھتے ہیں”۔ لیکن آج ہمارے حکمران اس قول کے برعکس چل رہے رہے ہیں۔ ان ان کی ڈکشنری میں “عزت” نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ بلوچستان کے ضلع شہر تربت سے اسلام آباد پہنچنے والے لانگ مارچ کے سینکڑوں شہر کا پر اسلام آباد پولیس نے حملہ کر کے ملکی آئین و قانون کی دھجیاں اڑا دیں۔ بلوچ خواتین اور بچیوں تک کو نہیں چھوڑا گیا۔ بلوچی رسم و رواج کی پامالی کی گئی۔ غیر مہذب پولیس نے بلوچ روایات کو طاقت کے ذریعے روند ڈالا۔ بلوچی دوپٹہ خواتین کے سروں سے کن پوائنٹ کے ذریعے اتارا گیا۔ انہیں بالوں سے ٹھسیٹا گیا۔ اور زبردستی پولیس موبائلوں میں ڈالا گیا انہیں مختلف تھانوں میں قید رکھا گیا۔ بعد ازاں گرفتار ہونے والے ایک سو ساٹھ کے قریب طلبا کو رہا کر دیا گیا۔ تاہم کو صحیح معلومات فراہم سینکڑوں طلبہ تاحال لاپتہ ہیں۔ اسلام آباد پولیس، لانگ مارچ کے ” نہیں کر رہی۔ منتظمین نے کہا ہے کہ لاپتہ بلوچ طلباء کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ لانگ مارچ کے شر کا اسلام آباد اس امید کے ساتھ گئے ہیں کہ انہیں ملک کے آئین و قانون کے مطابق انصاف ملے گا۔ ان کے مطالبات میں لاپتہ افراد کی بازیابی، ماورائے عدالت کارروائیوں کا خاتمہ اور زیر حراست بالاچ بلوچ کی ہلاکت پر جوڈیشل انکوائری جیسے نکات شامل ہیں۔ دوسری جانب پاکستانی میڈیا سے تعلق رکھنے والی غریدہ فاروقی اور افضا نان نامی دو نام نہاد اینکر پرسنز کو ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو ذہنی اذیت دینے کے لئے اسائن کیا گیا۔ دراصل یہ اپنی سرکاری نوکری کررہی ہیں۔ ان کے دانہ پانی کا مسئلہ ہے۔ ان دونوں کا تعلق صحافی برادری سے نہیں ہے۔ دونوں کو صحافت کی الف اور تک نہیں آتی۔ صحافت ایک معزز پیشہ ہے میں یہ دونوں اینکر پرسنز پیرا شوٹرز ہیں۔ انہیں اوپر سے لایا گیا ہے۔ زمینی حقائق سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ نامعلوم افراد کی نامعلوم صحافتی مخلوق ہیں۔ ان کی صحافتی صلاحیتیں صفر ہیں۔ تاہم وہ دیگر صلاحیتوں سے سرشار ہیں۔
اب مجھے نہ خدشہ ہے ہے کہ لانگ کے شرکا کی لوڈ اسپیکر کی چوری کے بعد وسیم سفر زامرانی کی وہیل چیئر بھی چوری ہو جائیلی۔ ضلع پیچ جھنے والا وسیم سفر زامرانی اپنی وہیل چیئر کے ساتھ لانگ مارچ کا نہ حصہ ہے بلکہ لانگ مارچ کے مسلمین شمار ہوتا ہے۔ جس نے تربت سے لیکر پنجگوں، گرینگ نال، خضدار، سوراب، قلات، مستونگ، کوئٹہ، کوہلو، بارکھان، کوہ سلیمان کا سفر اپنی وہیل چیئر پر طے کیا ہے۔ وہ ذہنی طور پر مضبوط اعصاب کا مالک ہے جن کی اخلاقیات اسپیکر چوروں سے کئی زیادہ بلند ہے۔ اسی عمل کو میر چاکر خان کی بلیچیت” کہا جاتا ہے۔ بلوچیت ایک کردار کا نام ہے۔ ۔ ایک کیفیت کا نام ہے۔ اگر کردار کوئی غیر بلوچ اپنائے تو بلوچ اس کو بلوچ ہونے کی ایسوسی ایٹ ممبر شپ دیگا۔ آج حامد میر، ،حنیف عاصمہ شیرازی، مطیع اللہ جان اور دیگر ایسوسی ایٹ بلوچ بن چکے ہیں۔ بلوچ ان کے بلوچی کردار کو سرخ سلام پیش کرتے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *