کراچی کی تاریخ کا سنگ میل
تحریر: علی حسن ساجد
بین الاقوامی شہرت یافتہ شہر کراچی وہ شہر بے مثال ہے کہ جس کی اور کوئی مثال نہیں، اس شہر نے گزشتہ 185 سال میں حیرت انگیز ترقی کرکے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کی ہے۔ 1851ء میں جب کراچی کی حدود محض 5 اسکوائر میل پر مشتمل تھی، بڑھ کر 80 اسکوائر میل تک جا پہنچی۔کراچی کی ترقی، اس کی سڑکیں، انفراسٹرکچر اور پبلک ٹرانسپورٹ ہمیشہ زیر بحث رہے ہیں۔
بلدیہ کے زیر انتظام 106 سڑکیں، 42 فلائی اوورز، 14 انڈرپاسزکے علاوہ ماضی میں تعمیر کئے گئے قدیم پلوں کے ساتھ ساتھ کئی دیگر سڑکیں، دو بڑے ہائی وے جن میں سپر ہائی وے اور نیشنل ہائی وے ایم نائن کے علاوہ لیاری ایکسپریس وے، کراچی کے شہریوں کو آمدورفت کی سہولتیں فراہم کرتے ہیں، بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم کے لئے چار نئے کوریڈور کی تعمیر کے بھی مقاصد یہی ہیں، ان کوریڈورز میں گرین لائن، اورنج لائن، ریڈ لائن اور یلو لائن شامل ہیں جو اپنی تکمیل کے مراحل تیزی سے طے کر رہے ہیں، گرین لائن کو ابھی نمائش چورنگی سے جامع کلاتھ تک توسیع دی جانی ہے جس پر کام جاری ہے، اسی طرح ریڈ لائن کا کام بھی تیزی سے جاری ہے ۔ یونیورسٹی روڈ اور سبزی منڈی روڈ پر کام چند مہینوں میں مکمل ہوجائے گا۔ ریڈ لائن کے ڈپو کے لئے سابقہ الہ دین پارک میں 13 ایکڑ زمین حاصل کرلی گئی ہے ،جہاں بسیں پارک کی جاسکیں گی۔
کراچی شہر اب ایک اور سنگ میل عبور کرنے جا رہا ہے جس سےشہریوں کو بڑے پیمانے پر آمدورفت کی سہولت، ملیر ایکسپریس وے کی صورت میں میسر آئے گی۔ یہ جام صادق علی برج سے شروع ہوگا اور سپر ہائی وے پر موجود بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے سٹی کو اس سے جوڑ دے گا ،جس کے باعث قیوم آباد سے ڈی ایچ اے سٹی سپر ہائی وے تک کا سفر پونے دو گھنٹے سے کم ہو کر صرف تیس منٹ تک کا ہوجائے گا۔ 39 کلومیٹر طویل ڈی ایچ اے کے منصوبے کا آغاز گزشتہ سال 22 مئی کو کیا گیا ہے ، اسے تیس ماہ میں مکمل کیا جانا ہے، اس کی تعمیر کے لئے جدید مشینری استعمال کی جا رہی ہے، جن میں ہیوی مشینری کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جا رہاہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں جو تعمیراتی ٹیکنالوجی اور مشینری استعمال کی جاتی ہے، اسے بھی ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر میں شامل کیا گیا ہے۔
ملیر ندی کے اندر بننے والے اس پروجیکٹ کو 2 لاکھ کیوسک تک کے سیلاب کو مدنظر رکھ کر بنایا جا رہاہے جبکہ ایکسپریس وے کی بھرائی کے لئے بھی مٹی بھی اسی ندی سے نکالی جا رہی ہے،جہاں سے یہ مٹی نکالی جا رہی ہے اسے پانی کی گزر گاہ میں تبدیل کیا جا رہا ہے،یہ ایکسپریس وے سات چھوٹے بڑے پلوں پر مشتمل ہوگا۔ کاٹھور لنک روڈ سے شروع ہونے والے اس بڑے پروجیکٹ میں مختلف مقامات پر چھ انٹرچینج بنائے جائیں گے، تاکہ کراچی کے اہم مقامات کو ملیر ایکسپریس وے سے منسلک کردیا جائے، یہ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت بنایا جا رہا ہے،اخراجات کا تخمینہ 27 ارب روپے لگایا گیا ہے، تعمیراتی کام دو فیز میں مکمل ہوگا۔
پہلا فیز موٹر وے نائن سے قائد آباد برج تک ہوگا، یہ 24 کلو میٹر طویل ہے، مجموعی طور پر چھ انٹرچینج بنائے جائیں گے، جن میں دو پہلے فیز میں مکمل ہوں گے، پہلے فیز پر اب تک 30 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے، یہ فیز ون کاٹھور سے شروع ہوکر قائدآباد تک آتا ہے .39 کلو میٹر کے اس منصوبے میں 25 کلو میٹر کے پیچ ہے، اس میں پانچ بڑے پل بنیں گے، ایک برج چار کلو میٹر طویل ہوگا جو قائد آباد کے فلائی اوور کو کراس کرے گا، قائد آباد کے پل سےدوسرا فیز شروع ہوگا جو جام صادق علی پل پر ختم ہوگا اور یہیں پر اس کا اختتام بھی ہوگا۔ 15 کلو میٹر طویل اس ٹریک پر تین پل بنائے جائیں گے۔دوسرے فیز پر اب تک 45 فیصد کام مکمل کرلیا گیا ہے۔
اس فیز کازیادہ تر حصہ شہر کے مختلف مقامات سے گزرتا ہے جہاں چار انٹرچینج بنائے جائیں گے۔ ملیر ایکسپریس وے پر مجموعی طور پر سات چھوٹے بڑے پل اور چھ انٹرچینجز بنائے جائیں گے۔ کراچی میں بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم کے روٹس تعمیر ہونے سے قبل دو بڑے نیٹ ورک دستیاب تھے، جن میں ایک لیاری ایکسپریس وے ہے جو ماڑی پور روڈ سے شروع ہو کر سہراب گوٹھ پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ لیاری ایکسپریس وے پر ماڑی پور سے جاتے ہوئے گارڈن، عیسیٰ نگری گلشن اقبال، شاہراہ پاکستان پر انٹر چینج ہیں، جبکہ سہراب گوٹھ سے آتے ہوئے عیسیٰ نگری ،گلشن اقبال اور گارڈن پر انٹر چینج موجود ہیں۔
اسی طرح ناردن بائی پاس بھی شہریوں کو آمدورفت کی تیز ترین سہولت مہیا کرتا ہے۔ ملیر ایکسپریس وے اب تیسرا ایسا بڑا پروجیکٹ ہوگا جو شہریوں کو بڑے پیمانے پر مواصلات اور آمدورفت کی سہولتیں مہیا کرے گا، ملیر ندی لیفٹ بینک پر بننے والے اس میگا پروجیکٹ کے لئے حکومت سندھ نے 4 ارب روپے مختص کئے ہیں، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ میں اس منصوبے کے لئے اخراجات کا طریقہ کار کچھ اس طرح سے ہے کہ، حکومت کی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ جو منصوبہ تعمیر کرتا ہے۔
اسے ہی منصوبے پر اخراجات بھی کرنا ہوتے ہیں اس طرح انہیں اگلے 25 سال تک کے لئے ٹول ٹیکس وصول کرنے کے اختیارات بھی دیئے جاتے ہیں، جس سے وہ اپنی لاگت کے ساتھ ساتھ بینک سے جو قرضہ لیا ہوتا ہے وہ بھی حاصل کرتا ہے اور اس لاگت پر جو ریونیو انہیں حاصل ہوتا ہے وہ بھی تخمینے میں شامل ہوتا ہے،وہی ادارہ یا کنسورشیم اس بات کا ذمہ داربھی ہوتا ہے کہ اس پروجیکٹ کی دیکھ بھال کرے جبکہ 25 سال کے درمیان دونوں اطراف سڑک کی استرکاری بھی کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے، یہی ادارہ 25 سال کے بعد درست حالت میں ایکسپریس وے کو حکومت سندھ کے حوالے کرے گا۔
ملیر ایکسپریس وے پر عام گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ہیوی ٹریفک گزرنے کی بھی اجازت ہوگی، جس سے شہر میں کافی حد تک ٹریفک کم ہوگی جبکہ بھاری گاڑیوں کو ملیر ایکسپریس وے کے ذریعے سپر ہائی وے تک اور وہاں سے اندرون ملک جانے میں نہ صرف آسانی ہوگی بلکہ کافی حد تک ایندھن کی بھی بچت ہوگی، اسی طرح کورنگی انڈسٹریل ایریا اور لانڈھی انڈسٹریل ایریا میں واقع کارخانوں، فیکٹریوں اور ملوں سے سامان کی اندرون ملک بھیجنے میں ملیر ایکسپریس وے مرکزی کردار ادا کرے گا۔
ان دونوں انڈسٹریل ایریا کی ٹریفک کو بہت بڑی سہولت حاصل ہوگی اور انہیں شارع فیصل یا دوسری شاہراہوں کو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی، اسی طرح کراچی کی دو بڑی رہائشی اسکیموں بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے سٹی کے مکینوں کو شہر آنے کے لئے متبادل روٹ کے طور پر ملیر ایکسپریس وے مرکزی کردار ادا کرے گا۔
ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی، کلفٹن، کورنگی، قیوم آباد، مہران ٹاؤن، دارالسلام سوسائٹی، شاہ لطیف ٹاؤن، اللہ والا ٹاؤن، کورنگی کریک، ابراہیم حیدری سمیت دیگر کئی علاقوں کو ایئرپورٹ جانے سمیت سپر ہائی وے پہنچنے میں انتہائی آسانی ہوگی اور ان علاقوں کے مکینوں کو سپر ہائی وے تک پہنچنے میں بمشکل آدھا گھنٹہ لگے گا جبکہ ایئرپورٹ آنے اور جانے کے لئے صرف پندرہ سے بیس منٹ درکار ہوں گے، اس طرح شارع فیصل جو کراچی کی مرکزی شاہراہ اور ایئرپورٹ روڈ ہے، اس پر ٹریفک کا دباؤ انتہائی کم ہوجائے گا۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کے مطابق، اس منصوبے کی اہمیت روز روشن کی طرح عیاں ہے اور امید ہے کہ اگلے دو سال میں یہ منصوبہ مکمل ہو جائے گا، کراچی کی شاہراہوں پر ٹریفک کے دباؤ کے مسائل حل ہوں گے اور لوگوں کو آسانی میسر آئے گی، میئر کراچی کا کہنا ہے کہ، یہ ایک بہت بڑا پروجیکٹ ہے اور یہ بات میں یقین سے کہتا ہوں کہ ہم اس منصوبے کی اہمیت کے پیش نظر قبل از وقت اس کی تعمیر مکمل کرلیں گے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی اس منصوبے کی تکمیل میں دلچسپی رکھتے ہیں اور گزشتہ دنوں انہوں نے ملیر ایکسپریس وے کا دورہ کرکے تعمیراتی کاموں کا جائزہ لیا تھا اور ہدایت کی تھی کہ اس میگا پروجیکٹ کو وقت مقررہ سے قبل ہی مکمل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ لیاری ایکسپریس وے بھاری ٹریفک کے گزرنے کے لئے ایک بہترین متبادل ہے میں نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حکام سے اس سلسلے میں بات چیت کی تھی کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ سے بھاری سامان کی نقل و حمل کے لئے لیاری ایکسپریس وے کو استعمال کیا جائے لیکن ان کا کہنا تھا کہ لیاری ایکسپریس وے ہیوی ٹریفک کے لئے نہیں بنایا گیا ہے اس لئے ایسا ممکن نہیں ہے، لیکن لیاری ایکسپریس وے کی دستاویزات اور ماہرین بتاتے ہیں کہ ”لیاری ایکسپریس وے پر ہیوی ٹریفک چل سکتا ہے، اگر ایسا ہوجائے تو کراچی پورٹ ٹرسٹ سے جو ہیوی ٹریفک شہر کے بیچوں بیچ سے گزرتا ہے اور شہر کے علاقے کیماڑی، مائی کلاچی روڈ، پنجاب کالونی، ڈیفنس، کورنگی روڈ سے گزرتا ہے انہیں متبادل روٹ میسر آئے اور ان علاقوں کے لوگوں کو ہیوی ٹریفک سے نجات ملے گی۔“
ملیر ایکسپریس وے کو ڈیزائن کرتے وقت اس بات کو خاص طور پر مد نظر رکھا گیا ہے کہ اس پر عام گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ہیوی ٹریفک بھی چل سکے، یہ ایکسپریس وے چھ لین کا ہوگا یعنی تین لین ایک جانب اور تین لین دوسری جانب ہوں گی، جس سے روانی کے ساتھ اور بغیر کسی رکاوٹ کے ہیوی ٹریفک سمیت تمام گاڑیاں آ جاسکیں گی۔
اس سے صنعتی ترقی ہو گی اور جو ٹریفک شہر سے گزرتا ہے وہ بھی بہتر انداز میں ملیر ایکسپریس وے سے گزر سکے گا، اسی طرح ایک سپر ہائی وے کو نیشنل ہائی وے سے ملانے کے لئے لنک روڈ پر بھی کام جاری ہے، ایک ماڑی پور ایلیویٹڈ ایکسپریس وے بھی بنایا جائے گا ، جوآئی سی آئی برج کے ذریعے شہریوں کو سمندر تک پہنچانے میں معاون ثابت ہوگا، کراچی کے شہری یقیننا ملیر ایکسپریس وے پر جلد سے جلد سفر کرنے کے خواہشمند ہوں گے۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

