یادداشت تیز کرنے والے 9 سُپر فوڈز
نیور و فزیشنز کا کہنا ہے کہ کمزور ذہن کو ذہین اور یادداشت کو وسیع بنانے کیلئے اسپر فوڈ کہلائی جانے والی چند غذاؤں سے مدد لی جاسکتی ہے۔ انسانی یاد داشت کا صحت مند اور مضبوط رہنا بہت ضروری ہے ، یہ اہم فیصلے کرنے اور خوشگوار، نجی اور کاروباری زندگی کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور اچھی خبر یہ ہے کہ کچھ سپر فوڈز کے استعمال کے ذریعے میموری( یاد داشت) کو بہتر بنایاجاسکتا ہے۔
نیور و فزیشنز کے مطابق جس طرح وسیع اور مضبوط یادداشت کیلئے چند عادات اپنا لینے سے ذہن بہتر طور پر کام کرناشروع کر دیتا ہے اسی طرح غذا میں معمولی سی تبدیلی اور مثبت غذاؤں کے استعمال سے دماغی افعال میں زبر دست بہتری لائی جاسکتی ہے۔ ماہر دماغی امراض کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ یادداشت کا کمزور ہو جاناعام بات ہے مگر اسے طویل عمر تک بہتر بنانے کیلئے کوشش کی جاسکتی ہے جس کے غیر معمولی نتائج سامنے آتے ہیں۔ نیور و فزیشنز کی جانب سے یادداشت کی بہتری کیلئے تجویز کی جانے والے مفید
غذائیں درج ذیل ہیں:
کافی کا استعمال:۔ کافی میں پایا جانے والا جز کیفین دماغی حصوں کو بہتر بناتا ہے۔ کیفین کے دماغ کو تیز کرنے والے اثرات کے ساتھ ساتھ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس دماغی صحت کو مستحکم رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں جبکہ ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق دنیا کا مقبول ترین یہ گرم مشروب مایوسی یاڈ پر یشن کے خاتمے کے لئے بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔
ڈارک چاکلیٹ:۔ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھر پور ڈارک چاکلیٹ مجموعی صحت کے لئے صحت بخش ثابت ہوتی ہے مگر اس میں شامل کیلین دماغ تیز کرنے کیلئے بھر پور کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چاکلیٹ فلانوئیڈز نامی کیمیکل سے بھی بھر پور ہوتی ہے جو کہ دوران خون کے ساتھ ساتھ دماغی صحت کو بھی بہتر بناتا ہے جبکہ یہ کیمیکل کو لیسٹرول کو کنٹرول اور بلڈ پریشر کی شرح بھی کم کرتاہے۔
مچھلی کا استعمال:۔ مچھلی کا استعمال دماغ کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور اس کی وجہ اس میں شامل اومیگا تھری فیٹی ایسڈز ہیں۔ ماہرین کے مطابق خاص طور پر سارڈینز اور سالمن مچھلیوں میں فیٹی ایسڈز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو ڈیمنشیا جیسے دماغی مرض کا خطرہ کم کر کے توجہ مرکوز کرنے اور یادداشت کو بہتر بناتی ہے جبکہ یہ بڑھاپے میں دماغ کو بھی تیز ر کھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
انڈوں کا استعمال:۔ انڈہ کولائن نامی ایک نیوٹریشن سے بھر پور ہوتا ہے جو جسم میں ایسے دماغی جز ایسٹیلکولین کی مقدار کو بڑھا دیتا ہے جو یاداشت کو بہتر بناتے ہیں، خاص طور پر ان کی زردی کا استعمال بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ ناشتے میں پروٹین سے بھر پور غذا جیسے انڈوں کا استعمال مجموعی دماغی کار کردگی کو بہتر بناتا ہے جبکہ اس میں شامل ایسٹیلکولین آپ کو چیزیں بھولنے کی عادت سے بھی نجات دلاتا ہے۔
بیریز خصوصی طور پر بلو بیری:۔ اسٹرابری، رسبری، بلیو بیری، چیری اور سرخ اور کالے انگور یاد داشت اور نظر کو تیز کرتے ہیں۔ خصوصاً بلیو بیری دماغ میں خون کا دورانیہ بڑھا کر یادداشت اور سمجھنے کی صلاحیت بہتر بناتی ہے اور پڑھنے والے بچوں کے لیے بہتر ثابت ہو سکتی ہیں۔ ایک ریسرچ کے دوران جب اس میں شامل رضاکار طالب علموں کو بلیو بیری کارس پلایا گیا تو ان کی ذہن کی کار کردگی اور صلاحیت 11 فیصد بہتر ہو گئی،اسلئے ضروری ہے کہ کوئی دماغی کام کرنے سے تین چار گھنٹے قبل اسٹرابری، بلیو بیری اور دیگر بیریاں کھالی جائیں۔
خشک میوے:۔ خشک میواجات میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈ، وٹامن ای اور مفید چکنائیاں ہوتی ہیں جو دماغ کی مجموعی صحت کے لئے فائدہ مند ہوتی ہیں، خشک میوے دماغ کے لیے تمام ضروری اجزا کو موجود ہوتے ہیں، اگر روزانہ 30 گرام خشک میوے کھائے جائیں تو اس کے زبر دست اثرات ہوتے ہیں۔30 سال تک کی جانے والی ایک تحقیق کے نتیجے میں معلوم ہوا ہے کہ جن خواتین نے ہفتے میں 5 مرتبہ خشک میوے کھائے ان میں توجہ اور کسی شے کو یاد کرنے کی صلاحیت بقایا خواتین کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ خشک میواجات میں بادام اور اخروٹ کو ضرور شامل کیا جائے جبکہ ان کے استعمال سے وزن کم کرنے میں بھی مددملتی ہے۔
ترش پھل کینو، نارنجی اور گریپ فروٹ میں فلیونون نامی اجزا پائے جاتے ہیں جو دماغ کی حفاظت کرتے ہیں، یہ کیمیکل دماغ کے اس حصے کو بہتر بناتے ہیں جو سوچنے اور یاد داشت کا کام کرتے ہیں اور اسی طرح ڈیمنشیا نامی مرض سے بھی بچاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان پھلوں میں اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو دماغ کو تیز کرنے کے علاوہ کئی ذہنی امراض سے محفوظ رکھتے ہیں۔
ہرے پتوں والی سبزیاں:۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پالک، چولائی، تیز پتا اور دیگر گہرے سبز رنگت والی سبزیوں میں انسانی مجموعی صحت سمیت ذہنی نشو نما کیلئے بھی ناگزیر معدنیات پائی جاتی ہیں ، ہرے پتے والی سبزیوں میں کیلشیم، پوٹاشیم، فولیٹ، زنک اور مینگنیز بھی بھر پور مقدار میں موجود ہوتا ہے جو دماغ کو افعال کو بہتر بناتا ہے۔
مختلف اقسام کے بیج :۔ سورج کسی، السی، تیل اور دیگر اقسام کے بیج فیٹی ایسڈز سے بھر پور ہوتے ہیں، ان میں اومیگا تھری فائٹو کیمیکلز، اینٹی آکسیڈنٹس اور دیگر اہم اجزاء موجود ہوتے ہیں جو انسانی دماغ کی نشو و نما اور فعال میں بہتر کر دار ادا کرتے ہیں۔
بشکریہ: روزنامہ کشمیر عظمیٰ
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

