شاعری

غزل

شاعر: افضل مرزا۔ کینیڈا

سِمٹا ہوا بھنور سا میری چشمِ نم میں ہے

اک سیلِ اشک ہے جو نہاں میرے غم میں ہے

اک آشنا سا ربط میرے پیچ و خم میں ہے

کچھتا ہوا سا درد میرے ہر قدم میں ہے

جب میں نے بھر لیا تجھے اپنی نگاہ میں

پھر توہی مستقل میرے ہر ایک دم میں ہے

اک پل میں تیری دید کی آغوش میں رہا

پھر انقلاب ہے جو میرے زیر و بم میں ہے

طوفانِ ہجر وصل کی گھڑیوں میں تھم گیا

حسنِ ازل کا عکس ہی میرے صنم میں ہے

تُو سامنے نہیں پہ میری آنکھ میں تو ہے

کُچھ رابطہ الگ سا شہود و عدم میں ہے

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *