غزل
شاعر: ڈاکٹر فیاض احمد علیگ۔ انڈیا
زندگی نے درد ہی اتنا دیا دل پر مجھے
کر دیا ظالم نے آخر درد کا خوگر مجھے
دیکھتا ہوں غور سے جب بھی تری تصویر کو
گھیر لیتا ہے تمہاری یاد کا لشکر مُجھے
میں ہی اپنی جان کا دشمن ہوا ہوں یار جب
کیوں بچائے گا مسیحا پھر بھلا آ کر مجھے۔
زندگی کے چاک پر یوں کب تلک رقصاں رہوں
اب تو کوئی شکل دے اے میرے کوزہ گر مجھے
عمر بھر یوں دھوپ میں جلنا مقدر ہے مرا
روشنی کرنا ہے گھر میں روز و شب جل کر مجھے
میں تو کندن تھا سدا کندن ہی رہ جاتا مگر
اس نے سونا کر دیا یوں پیار سے چھو کر مجھے
شہر کی اونچی عمارت میں گھٹن ہوتی ہے جب
یاد آتا ہے بہت پھر گاوں کا چھپر مُجھے۔
مجھ کو ہنستا دیکھ کر تھکنے لگے ہیں یار کیوں
چوٹ کھانی ہے ابھی تو اور بھی دل پر مجھے
جس کو پانے کے لئے فیاض دنیا چھوڑ دی
خوش نہیں وہ بھی ستمگر جانے کیوں پا کر مجھے

