اردو ادبشاعری

غزل

(شاعر: ڈاکٹر فیاض احمد علیگ۔ انڈیا)

محبت کا یقیں مجھ کو وہ یوں دلائے جاتے ہیں

خدا کے ساتھ ہی میری قسم بھی کھائے جاتے ہیں۔

بہت چالاک ہونا بھی محبت میں نہیں اچھا

محبت میں تو دھوکے مسکرا کے کھائے جاتے ہیں۔

رقیبوں سے گلے مل کر وہ ہنس کر بات کرتے ہیں

بھری محفل میں ظالم یوں مجھے تڑپائے جاتے ہیں۔

ذرا دیکھے کوئی ان کی ادا و ناز کا عالم

سراپا دیکھ کر اپنا وہ خود شرمائے جاتے ہیں۔

کسی نے ذکر چھیڑا جو کسی کی بے وفائی کا

نہ جانے کیوں مری آنکھوں میں آنسو آئے جاتے ہیں۔

ہماری بے بسی کا اب یہ عالم ہے زمانے میں

خطا کوئی نہیں لیکن قفس میں لائے جاتے ہیں۔

 خدا والے خدا کے نام پر خاموش رہتے ہیں

دوانے ہی مگر فیاض سر کٹائے جاتے ہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *