غزل
ڈاکٹر فیاض احمد (علیگ)
اعظم گڈھ۔ انڈیا۔
کوئی عاشق زمانے میں کہاں علم و ہنر کا ہے۔
زمانہ تو پجاری بس تمہارے مال و زر کا ہے۔
کہانی جو میاں تم نے ابھی اپنی سنائی ہے
وہی قصہ ہمارے شہر میں ہر ایک گھر کا ہے۔
مری محفل سے اٹھ کر وہ حریفوں سے بھی ملتا ہے
سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ آخر وہ کدھر کا ہے۔
کہانی ہو نہ پائے گی فسانہ ہی کوئی چھیڑو
کہانی عمر بھر کی ہے فسانہ رات بھر کا ہے۔
جہاں چرچے مری بربادیوں کے روز ہوتے ہیں
وہ محفل میرے یاروں کی وہ آنگن میرے گھر کا ہے۔
کوئی جادو کرشمہ کچھ نہیں ہے غور سے دیکھو
صفائی ہاتھ کی کچھ ہے تو کچھ دھوکا نظر کا ہے۔
قفس میں شور کرنے سے تو حاصل کچھ نہیں ہو گا۔
سلاخیں توڑ دو اب یہ تقاضہ بال و پر کا ہے۔
تمنا اور جینے کی مسلسل بڑھتی جاتی ہے
ہوس ہے زندگی کی یا بچھڑ جانے کا دھڑکا ہے۔
بہت رسوا ہوئے فیاض تیرے شہر میں اب تک
خدا محفوظ رکھے تو ارادہ اب سفر کا ہے۔
