اپنی ہڈیوں کا خیال رکھیں
ڈاکٹر طارق احمد مرزا۔ آسٹریلیا
پہلے سے واضح کردوں کہ یہ عنوان پاکستانی سیاست یا کسی کے سسرال کے حوالہ سے کوئی تحریر نہیں کہ فی زمانہ اپنی ہڈیاں پسلیاں تڑوانے سے کیسے بچا جا سکتا ہے بلکہ اس کا تعلق خالصتاً طب وصحت سے ہے۔
ہڈیاں خداتعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں۔ان کے بغیر ہم محض گوشت پوست کاایک لوتھڑا ہوتے۔ اگر جبڑے کی ہڈیاں اور دانت خوراک کو کاٹنے اور چبانے کے کام آتی ہیں،تو دوسری ہڈیاں اور ان کے جوڑ ہمیں نقل وحرکت میں مدددیتے ہیں،اسی طرح ہڈیوں کا ایک انتہائی اہم کام اعضائےرئیسہ مثلاً دماغ،دل،پھیپھڑوں،جگر،تلی،مثانے وغیرہ کی حفاظت ہے۔ حمل کے ابتدائی ایام میں جبکہ جنین اپنی تشکیل کے انتہائی اہم اور اولین مدارج اور ان کی تکمیل سے گزر رہاہوتا ہے،پیڑو(Pelvis) کی ہڈیاں اسے ہر قسم کے بیرونی صدمہ اور چوٹ سے تحفظ فراہم کرتی ہیں۔
ہڈیوں کو صحت مندرکھنے کی ذمہ داری ایام طفولیت سے ہی شروع ہوجاتی ہے۔ بچوں کومتوازن غذا خاص کر کیلشیم اور دیگرمعدنیات ،پروٹین (لحمیات) سے بھرپور خوراک مہیا کرکے دینا ان کا حق بنتاہے۔ صبح یا عصر کے بعد کی محفوظ دھوپ (جس میں خطرناک ریڈی ایشن نسبتاً کم ہوتی ہے) پورے جسم خصوصاً ہڈیوں کے لیئے وٹامن ڈی کی تیاری میں مددگار بنتی ہے جو کہ پھر ہڈیوں کے لئے کیلشیم فراہم کرنے کے کام آتی ہے۔بچوں کے لیئے کھیل کود بھی ان کی ہڈیوں کی نشونما اور صحت کے لیئے مہمیز کا کام دیتی ہے۔ ان امورسے لاپرواہی برتنےکےنتیجے میں رِکٹس (Rickets) نامی بیماری لاحق ہو جاتی ہےجس میں ہڈیاں نرم اور ٹیڑھی ہوجاتی ہیں۔بسا اوقت ٹانگیں کمان بن جاتی ہیں جس کی وجہ سے چلتے وقت بچے کے دونوں گھٹنے یا تو آپس میں ٹکرا رہے ہوتے ہیں یا باہر کی طرف کو نکلے ہوتے ہیں۔
خاکسار کا مشاہدہ رہا ہے کہ بدقسمتی سے بعض معاشروں میں بیٹیوں کی غذا، نشونما، اور صحت پر اس طرح توجہ نہیں دی جاتی جتنی دینی چاہیئے۔ اگرگوشت پکتا ہے تو زیادہ بوٹیاں باپ اور بیٹوں میں ہی تقسیم کردی جاتی ہیں ۔”نہیں،یہ بھائی کی ہے،بھائی کوکھانے دو” کا جملہ سننے کو ملے گا۔ انڈے،دہی،مکھن،پنیراور پھل فروٹ کے معاملے میں بھی یہی غیر منصفانہ تقسیم دیکھنے کوملتی ہے،حالانکہ معاملہ اس سے الٹ نہیں تو کم ازکم مساوات کا حامل تو ضرور ہونا چاہیئے۔ وجہ یہ ہے کہ اس بات کی اہمیت کا ایک میڈیکل یا طبی پس منظرہے،اور وہ یہ ہے کہ برصغیرہندوپاک بنگلہ اور افریقی معاشروں میں بچوں کی دوران پیدائش موت واقع ہونے کی ایک اہم وجہ یہ بھی سامنے آئی ہے کہ اگر حاملہ خاتون کا پیڑو(Pelvis) تنگ ہو تو وہ نارمل طور پر پچے کو جنم نہیں دے سکتیں۔ان ممالک میں اس حقیقت کا علم نوزائدہ بچے کے مردہ پیدا ہونے کے وقت یا اس کے بعد پتہ چلتا ہے لیکن اس وقت بہت دیرہو چکی ہوتی ہے۔
عموماًاس قسم کی صورتحال میں آپریشن کے ذریعہ ہی بچے کی پیدائش ممکن ہو سکتی ہے۔
ان افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لئے ماہرین اب اس بات کی پرزور تعلیم دیتے ہیں کہ ہمیں اپنی بچیوں کی جسمانی ، خاص کر ان کی ہڈیوں کی نشونما پر بھرپور توجہ دینی چایئے۔ چونکہ انہوں نے مستقبل میں ماں بننا ہوتا ہے اس لئے انہیں کیلشیم اور لحمیات اور کھیل کود میں سےوافر حصہ ملنا چاہیئے تاکہ عمومی صحت کے ساتھ ساتھ ان کے پیڑوکی ہڈیاں (Pelvic Bones) بھی پروان چڑھیں اور وہ ماں بنتے وقت کسی المیہ سے دوچار نہ ہوں ۔
محسن انسانیت حضرت محمدمصطفیٰ ﷺ نے بیٹیوں کے ساتھ ہر قسم کے امتیازی سلوک کی ممانعت فرمائی اور اس پہلو سے معاشرے کی احسن رنگ میں تربیت کے لئے اپنے مبارک اسوہ حسنہ کا کامل نمونہ بھی قائم فرمایا۔
اب آتے ہیں عمر کے آخری ادوار یعنی ادھیڑ عمری اور ضعیف العمری کے زمانہ پر توبدقسمتی سے بہت سے ایشیائی اور قدامت پسند معاشروں میں ان ادوار میں بھی ہڈیوں (اور پٹھوں ) کی طرف سے لاپرواہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ لیکن یہ کوتاہی عموماً اچھی خوراک کے نہیں بلکہ ہلنے جلنے ،چلنے پھرنے کے معاملہ میں برتی جاتی ہے۔
چنانچہ بعض احباب و خواتین کو ادھیڑ عمری میں بلا وجہ ہی دوسروں سے کام کروانے کی عادت پڑ جاتی ہے۔ خود اٹھ کر اپناکام کرنے کی بجائے پانی تک پینے کے لئے آوازیں دی جارہی ہوتی ہیں، کہ “یہ گلاس اٹھا لو،کھانا بھی یہیں چارپائی پر ہی لے آنا” وغیرہ،تو یوں پورا پورا سال پلنگ پہ براجمان پڑے رہنے کے نتیجے میں ہڈیاں بھربھری اورپٹھے ناکارہ ہو جاتے ہیں۔ پورے جسم میں ہی شکست وریخت کا عمل شدت اختیار کر جاتا ہے اس کے بعد ظاہر ہے کہ دوقدم بھی لینا دوبھر ہو جاتا ہے- بیٹھےبٹھائے فریکچر ہونے واقعات اس قسم کے افراد میں نسبتاً زیادہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔
ستر برس سے زائد عمر کے افراد میں محض عمررسیدگی یاپھر کچھ دیگر وجوہات کی بنیاد پر بھی ہڈیاں کمزور،ہلکی اوربھربھری ہوسکتی ہیں ۔اس کیفیت کو اصطلاحاً “آسٹیوپوروسس” (Osteoporosis) کہاجاتا ہے۔اس بیماری میں بھی ہڈیاں معمولی سی چوٹ یا معمولی وزن تلے آکرچکنا چورہو جاتی ہیں۔
مثلاً بعض لوگوں کو عادت ہوجا تی ہے کہ اپنا جسم دوسروں سےدبواتے رہتے ہیں تاکہ دردوں کو آرام ملے۔لیکن دبانے کے معاملے میں احتیاط نہ برتی جائے تو ذرا سا زیادہ زور پسلیوں،ریڑھ کے مہروں اور خاص کرکولہے کی ہڈیوں میں جزوی یا مکمل فریکچرکردینے کا باعث بھی بن جاتا ہے۔ اس لیئے اس معاملہ میں بہت ہی احتیاط بلکہ احتراز برتنےکی ضرورت ہے۔
کینسر کے مریض،کیموتھیراپی لینے والے،سٹریرائڈز (Steroids)لینے والے،یا مثلاً گردوں کے مریض جو ڈائیلسس (Dialysis) پر ہوں ،ان میں بھی آسٹیوپوروسس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
خوش قسمتی سے اس مرض کی تشخیص ایک خاص قسم کے ایکسرے (ڈیکسا سکین DEXA Bone Density Scan ) سے باآسانی ہو سکتی ہے۔اور یہ بھی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کس درجہ پر ہے،چنانچہ اسی کے مطابق علاج کیا جاتا ہے، جومخصوص گولیوں یاخاص قسم کے انجکشن پر مشتمل ہوتا ہے جو نہ صرف ہڈیوں میں شکست وریخت کے عمل کوروک دیتے ہیں بلکہ ان کے حجم ،کثافت اور مضبوطی کو بہت حد تک بحال بھی کردیتے ہیں۔
لیکن یہ علاج تب ہی دیرپا اثر دکھاتا ہے جب خوراک میں بھی اعتدال برتا جائے،دودھ دہی اورکیلشیم وفاسفیٹ (Phosphate) سے بھرپور دیگر غذاؤں کا روزانہ استعمال کیا جائے،روزانہ کی بنیاد پر چلنا پھرنا، قابل برداشت حد تک ورزش(خصوصاً تیز چلنا،سیڑھیاں چڑھنااترنا،وزن اٹھانا) اور پھرصبح صادق یا بعد از عصر دھوپ سے استفادہ حاصل کرنے کا بھی ایک معمول اپنایا جائے۔
جہاں دھوپ میسر نہ ہویا کسی مجبوری کی وجہ سے دھوپ لینا ممکن نہ ہو تو اپنے ڈاکٹرسے مشورہ کرکےوٹامن ڈی کے کیپسیول بھی لیئے جا سکتے ہیں-
برطانوی ادارہ صحت (NHS) کے مطابق اکتوبر سےلے کر اوائل مارچ تک کا وہ عرصہ ہوتا ہے جب برطانیہ یوروپ وغیرہ میں دن چھوٹے اور دھوپ کم ہوتی ہے،تو ان ایام میں وٹامن ڈی کے کیپسیول،یا ایسی غذائیں جن میں وٹامن ڈی نسبتاً زیادہ موجود ہوتی ہے،لینامفید ہوتا ہے۔ان غذاؤں میں بڑا گوشت، کلیجی، انڈے کی زردی،مختلف اقسام کی مچھلی (خاص کر سامن، سارڈین، ہیرنگ، میکرِل) شامل ہیں۔اگر کسی کو ان غذاؤں سے الرجی یا پرہیزہو تو پھروٹامن ڈی کے کیپسیول لینا ہی بہترہوتا ہے۔ بازار میں ملنے والاگائے کا دودھ کیلشیم وغیرہ کا توحامل ہوتا ہےلیکن وٹامن ڈی کا نہیں۔اس کمی کو پورا کرنے کے لیئے بعض ممالک میں دودوھ یا دلیہ،کارن فلیکس،ڈبل روٹی وغیرہ میں وٹامن ڈی شامل کردیا جاتا ہے تاکہ اضافی گولیاں نہ کھانی پڑیں۔
ماہرین کے مطابق حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو بھی سردی کے ان مہینوں میں اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرکے وٹامن ڈی استعمال کرنی چاہیئے۔
خلاصہ کلام یہ کہ جیسا کہ مضمون کے آغاز میں بیان ہوا ہڈیوں،پٹھوں اورجوڑوں کا کام جسم کو حرکت میں لانا ہے۔اور ان اہم اعضاء کی “حرکت میں برکت” اس لحاظ سے پڑتی ہے کہ ان کی حرکت سے ہی پھرخود ان کی بھی نشونما ہوتی ہے۔اس کے ساتھ معتدل خوراک ان کے لئے نمود،طاقت،مضبوطی اورشفاکا ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ تحریر مضمون نگار کے ذاتی خیالات اور رائے پر مبنی ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

