محبت ہے کہ ضد ہے یا اَنا ہے
انصر رضا
محبت ہے کہ ضد ہے یا اَنا ہے
یہ جو کچھ بھی ہے مجھ کو بے پناہ ہے
ہوا دیوانگی میں عشق سرزد
ندامت ہے نہ احساس گناہ ہے
رہا ہو عاشقی میں ہوش باقی
نہ دیکھا ہے کبھی اور نہ سُنا ہے
تھی دن میں خود فراموشی کی حالت
تو شب میں خود سے ہی اب سامنا ہے
جسے معمار نے رد کردیا تھا
وہی کونے کا اب پتھر بنا ہے
میں نالائق ہزاروں تھے ہنرمند
کرم اس کا ہے جومجھ کو چُنا ہے
جو مشہورِ خلائق ہوگیا تو
سبھی کہتے ہیں میرا آشنا ہے
مجھے اب اور چھت کی کیا ضرورت
خدا کا آسماں سر پہ تنا ہے
رضا میں غیر کے گُن کیسے گاؤں
زباں پہ رب کی ہی حمد و ثناء ہے
