مذہب

احمدیوں کی علاقہ بدری کا مطالبہ

تحریر :انیلا خالد

صوبہ پنجاب کے ضلع خوشاب میں 30 جولائی کو پاکستان مسلم لیگ ق کے ایک مقامی رہنما کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کو ایک خط میں احمدیوں کو ایک گھر کے اندر جمعے کی نماز پڑھنے پر ضلع بدر کرنے کی درخواست کی گئی۔

اس واقعے کے بعد جماعت احمدیہ نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس عمل کو ظالمانہ، غیرانسانی اور بانیِ پاکستان کے اقوال سے متصادم قرار دیا ہے۔

خوشاب کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک اس معاملے پر کوئی سرکاری بیان تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خوشاب کیپٹن ریٹائرڈ شعیب علی نے بتایا کہ اس معاملے کی مکمل معلومات حاصل کرنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جاسکے گا۔

انہوں نے بتایا کہ معاملہ ان کے علم میں لایا جاچکا ہے، جس کی تفصیلات معلوم کی جارہی ہیں کہ آیا احمدیوں کا گھر میں جمع ہوکر جمعے کی نماز پڑھنا قانونی ہے کہ نہیں۔

ان کے بقول: ’ضلعی انٹیلیجنس کمیٹی دیگر تفصیلات سمیت  یہ بھی دیکھے گی کہ جس گھر میں نماز ادا کی گئی، وہاں لاؤڈ سپیکر کا استعمال تو نہیں کیا گیا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ جب تمام تفصیلات سامنے آجائیں گی تو پھر قانون کی پیروی کرتے ہوئے یا تو احمدیوں کے متعلقہ جگہ پر نماز پڑھنے پر پابندی عائد کردی جائے گی یا پھر انہیں تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

خط کی تفصیلات کیا ہیں؟

ڈپٹی کمشنر کے نام خط پاکستان مسلم لیگ ق کے ضلع خوشاب میں ایک رہنما الیاس اعوان نے لکھا ہے۔ الیاس اعوان نے نے خط میں موقف اپنایا: ‘ضلع خوشاب کے جوہر آباد علاقے میں ایک گھر کے اندر ہر جمعے کو نماز پڑھی جاتی ہے، تبلیغ کی جاتی ہے جو کہ ریاستی آئین کے مطابق ریاستِ اسلامی کے خلاف ہے۔‘

انہوں نے خط میں مزید کہا کہ اس عمل کا سکیورٹی پر تعینات پولیس نوجوانوں سمیت پڑوس کے بچوں پر غلط اثر پڑ رہا ہے۔

انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے التماس کرتے ہوئے مزید لکھا ہے کہ سکیورٹی پر معمور پولیس کی ڈیوٹی ختم کی جائے اور احمدیوں کو ضلع بدر کیا جائے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے مزید تفصیلات لینے کے جب الیاس اعوان سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ خط اس لیے لکھا کہ آئین پاکستان کے مطابق، احمدی اسلامی ریاست پاکستان میں آزادانہ عبادت نہیں کرسکتے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *