شاعری

پیمان شاعر

ثاقب زیروی

تو نے کی مشعل احساس فروزاں پیارے

دل بھلا کیسے بھلا دے ترا احساں پیارے

روح پژمردہ کو ایماں کی جِلائیں بخشیں

اور انوار سے دھو ڈالے دل و جاں پیارے

ولولوں نے ترے ڈالی مہ و انجم پہ کمند

تو نے کی سطوتِ اسلام درخشاں پیارے

اب وہی دین محمدؐ کی قسم کھاتے ہیں

تھے جو مشہور کبھی دشمن ایماں پیارے

پہلے بخشا میرے بہکے ہوئے نغموں کو گداز

پھر میری روح پہ کی درد کی افشاں پیارے

مجھ کو بھولے گی کہاں وہ تری بھر پور نگاہ

جگمگا اٹھا تھا جب فکر کا ایواں پیارے

اب نگاہیں تجھے ڈھونڈیں بھی تو کس جا پائیں

جانے کب پائے سکوں یہ دلِ ویراں پیارے

کون افلاک پہ لے جائے یہ رودادِ الم

تیرا متوالہ ابھی تک ہے پریشاں پیارے

روح پھرتی ہے بھٹکتی ہوئی ویرانوں میں

دل ہے نیرنگیٔ افلاک پہ حیراں پیارے

شکر ایزد تیرے آغوش کا پالا آیا

اپنے دامن میں لیے دولت عرفاں پیارے

فکر میں جس کے سرایت تری تخیل کی ذوق

گفتگو میں بھی وہی حسن نمایاں پیارے

جس کی ہر ایک ادا ’’نافلۃ لک‘‘ کی دلیل

جس کی ہر ایک نوا درد کا عنواں پیارے

دیکھ کر اس کو لگی دل کی بجھا لیتا ہوں

آنے والے پہ نہ کیوں جان ہو قرباں پیارے

تیری اس شمع کا پروانہ صفت ہو گا طواف

تیرے ثاقبؔ کا ہے اب تجھ سے یہ پیماں پیارے

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *