جہاں نما

زن مرید

تحریر: ثوبیہ بشیر

 زن مرید سے مراد ہے۔وہ مردجوعورت کے کہے پر چلےاور اس کے حکم کو مانے۔ لیکن حقیقت اس کہ برعکس ہے۔ ہمارے معاشرے میں وہ مرد  جو اپنی بیوی سے بے حد محبت کرتا ہو۔ ایسا مرد جو اپنی بیوی کا گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتا ہو۔ اس کی چھوٹی چھوٹی خواہشات کا خیال رکھتا ہو۔ اورعموما اس کی ہاں میں ہاں ملاتا ہو۔ ہمارے ہاں  ایسے شوہر کو زن مرید اور اس کے ساتھ ساتھ اور بھی کئی قسم کے القابات سے جانا جاتا ہے۔جیسے بیوی کے اشاروں پر ناچنے والا، جورو کا غلام، زن پرست وغیرہ وغیرہ۔ زن عورت کو کہتے ہیں اور مرید کا مطلب ہے خواہش مند یا عقیدت مند۔

اکثر خاندانوں میں کوئی نہ کوئی زن مرید پایا جاتا ہے جس کا اس کی پیٹھ پیچھے کافی مذاق بھی اڑیا جاتا ہے۔ یہ نہیں سمجھ آ تی کہ اپنی بیوی کو اپنی ترجیحات میں اول درجے پر رکھنے والے مرد میں ایسی کیا کمزوری یا خامی پیدا ہو جاتی ہے۔جو ہر کوئی اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جاتا ہے۔

زن مرید کا لفظ لڑکے کے لیےماں بہنوں کی جانب سے ہی ودیعت کردہ ہے  ویسے حیرت کی بات ہے ناں۔ ہم میں سے ہر ایک کی یہی خواہش ہوتی ہے ۔کہ ان کی بیٹیاں اپنے سسرال جا کر حکمرانی کریں۔ اپنے گھروں میں ملکہ بن کر رہیںِ۔لیکن کبھی کسی کی یہ خواہش نہیں ہوئی کہ بہو بھی گھر کی رانی بن کر رہے۔اگر بیٹا غلطی سے بیوی کی طرف داری کر لے تو زن مرید۔ جورو کا غلام ۔مگر داماد کبھی جورو کے غلام یا زن مرید دکھائی نہیں دیتے۔ اک تلخ حقیقت یہ بھی ہے۔کہ ہم میں اتنی برداشت ہی نہیں کہ اپنے بیٹوں کو کسی اور کا فرمانبردار دیکھ سکیں ۔

اگر شوہر اپنی بیوی کے کاموں میں تھوڑی بہت مدد کرتا ہے۔تو اس میں کیا حرج ہے؟ کیا برا ہے اگر  چھوٹے چھوٹے کاموں میں عورت کا کبھی کبھی ہاتھ بٹا دیا جائے۔اس سے عورت کو تو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی شوہر کی مردانگی میں کوئی کمی آتی ہے۔ مگر اک احساس کا رشتہ ضرور پیدا ہو جاتا ہے۔جو ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی کا سبب بنتا ہے۔بیوی کے ناز نخرے اٹھانا شوہر کا فرض ہے۔ عورت سارے گھرکے ساتھ ساتھ تمام گھر والوں کا خیال رکھتی ہے۔اس کا بھی تو کوئی خیال رکھنے والا ہونا چاہیے ناں ۔بہت نایاب ہوتے ہیں ایسے شوہرجو اپنی بیوی کے حقوق اس خوش اسلوبی کے ساتھ نبھانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ورنہ اس  معاشرے میں تو مردوں کے لہجے میں سختی اور رعب ہی نظر آتا ہے۔ جو کہ صرف اور صرف اپنی جھوٹی آنا کی تسکین اور زن مریدی کے لیبل سے بچنے کا اک سہل طریقہ ہے۔

اک خام خیالی ہےکہ اچھے کپڑے، قیمتی زیورات اور اچھا کھانا پینا ہی عورت کی خواہشات اور ضروریات ہیں۔اور ان کوپورا کرنا ہی صرف مردانگی ہے۔تو جناب آپ سراسر غلط ہیں۔بیوی آپ سے صرف محبت اور عزت چاہتی ہے۔ آپ بند کمرے اور تنہائی میں جس قدر چاہیں مرضی محبتیں نثار کر لیں۔  لیکن اگر آپ نے چار لوگوں میں اپنی جھوٹی شان کے لیے اپنی بیوی پر رعب جھاڑتے ہوئے اس کی بے عزتی کی یا اسے نیچا دکھایا تو آپ نے خود کو اک ناکام شوہر ثابت کیا۔ میاں بیوی کا رشتہ دنیا میں سب سے مضبوط رشتہ ہے اس لیے میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس کہلاتے ہیں۔

مرد تو وہ ہے جو بیوی کے ہر دکھ سکھ میں اس کو یہ احساس دلاے کہ میں ہوں ناں۔ وجہ زن مریدی نہیں  بلکہ  بیوی کی حوصلہ افزائی ہے۔بیوی کی تعریف میں ادا کیے گے الفاظ اسے کئی دن خمار میں رکھتے ہیں۔بیوی کی خوبصورتی اور بدصورتی آپکے ہاتھ میں ہے ۔اسکو خوبصورت بولو گے تو وہ خوبصورت ہوتی جاےگی۔بدصورت بولو گے تو بدصورت ہوتی جاے گی۔

بیوی کی راحت کو اپنی راحت پر  ترجیح دینا زن مریدی نہیں ہے۔بلکہ صالحین کا شیوہ ہے ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے کام کاج میں ازواج مطہرات کا ہاتھ بٹاتے تھے۔کپڑے پر پیوند لگا لیتے، جوتے گانٹھ لیتے، پھٹا ہوا ڈول مرمت فرما لیتے تھے۔حضرت اسودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے اندر کیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ:آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کام کاج کرتے اور جب نماز کا وقت ہوتا تو آپ مسجد تشریف لے جاتے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر والوں کی عزت واحترام کرتے۔ایک سفر میں اپنی اہلیہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے لیے اونٹ کے قریب بیٹھے اور اپنا گھٹنا مبارک یوں رکھا کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اس پر پاؤں رکھ کر اونٹ پر سوار ہوں۔ سو آپ ﷺ کی اہلیہ امی صفیہ رضی اللہ عنہا نے مبارک زینے پر پاؤں رکھا اور اونٹ پر سوار ہوگئیں۔

اپنی بیوی کا ہاتھ بٹانا۔بیوی کے ساتھ محبت، نرمی کا برتاؤ، خوش طبعی، بے تکلفی، اس کی دلجوئی اور حقوق کی ادائیگی نبیوں کا شیوہ ہے ۔اسے زن مریدی کا  نام دینا معنی خیز ہے ۔گھر کو جنت بنانا ہےتو اس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی و عملی تعلیمات پر عمل کرنا اور سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے لیے مشعل راہ بنانا ضروری ہے۔

 میرے نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے عورت ذات کو نازک آبگینوں سے تعبیر کیا ہے۔

ایک مرد اپنی ماں کی ہاں میں ہاں ملائے تو فرمانبردار، اپنی بہنوں کی فرمائشیں پوری کرے ان کے نخرے اٹھائے تو باکمال اورعزت دار، اپنی بیٹی کے لاڈ اٹھائے تو رفیق اور بہتر ین باپ، مگر اپنی بیوی سے محبت کرے اس کا احساس کرے تو زن مرید۔ ایسا کیوں ہے؟

معاشرے میں عورت کا بیوی کے روپ میں استحصال  کیوں؟

بیوی سے حسن سلوک کا درس تو ہمارا مذہب بھی دیتا ہے۔

بیوی کو عزت دینےوالا مرد زن مرید نہیں۔بلکہ ایسی عظیم ماں کا فرمانبردار بیٹا ہوتا ہے جس نے اسے عورت کی عزت وتکریم سکھائی ہوتی ہے۔

ضرورت صرف اس امر کی ہے۔کہ ماؤں کو اپنے اندر تھوڑی برداشت پیدا کرنی چاہیے۔جیسا وہ اپنی بیٹی کے لیے چاہتی ہیں وہی  اپنی بہو کے لیے بھی چاہیں۔میں تو بس یہ چاہتی ہوں کہ جیسے دامادکا  بیٹی کے ساتھ  پیار کرنا،اس کو مان دینا، اس کے اگے پچھے گھومنا آپ کےلئے قابل فخر ہے تو اپنے بیٹے اور بہو کے لیے کیوں برداشت نہیں ۔داماد یہ سب کرے تو بہترین داماد بیٹا کرے تو زن مرید ۔اگرمرد سب کے سامنے اپنی والدہ یا بہنوں کے لیے محبت کا اظہار کر سکتا ہے۔ ان کو ساتھ بِٹھا کر، لپٹا کر، لاڈ سے چومتے ہوئے یہ کہہ سکتا ہے۔ کہ آپ مجھے بہت عزیز اور پیاری ہیں۔ تو سب ٹھیک۔ لیکن جب یہ سب کے سامنے اپنی منکوحہ، شرعی بیوی اور شریک حیات کےلیے کرےتویہ بے حیائی اور  زن مریدی کہلاتی ہے

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *