اردوجہاں نما

مرزا شاہرخ سیر و شکار کیلئے دہلی سے کجلی بن تشریف لے جاتے ہیں

قسط اول

تحریر ناصر نذیر فراق دہلوی

دلی کا اجڑا ہوا لال قلعہ

مرزا شاہرخ حضرت ابوظفر بہادر کے اولو العزم فرزند دل بند تھے۔ مولوی امام بخش صہبائی کو ان کی اتالیقی کی خدمت سپرد تھی۔ مرزا شاہرخ میں اپنے بھائیوں اور لال قلعہ کے اور بادشاہ زادوں کے خلاف ایک قسم کی بیداری اور ہشیاری تھی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ہم نے امیر تیمور کے نام کو بٹہ لگایا اور ہماری کاہلی اور بے علمی نے ہمیں یہ دن دکھایا ہے مگر سورما چنا بھاڑ کو نہیں پھوڑ سکتا۔ وہ کس کس کے جی میں جی ڈالتے اور کسے کسے سمجھاتے اور سوتے سے جگاتے۔ وہ اپنی ہمت مردانہ کو سیر و شکار میں صرف کرتے تھے اور اپنا دل بہلاتے تھے۔

(1)

ان کی قدردانی اور حوصلہ افزائی کو دیکھ کر دور دور سے ہنرمند اور اہل حاجت ان کے حضور میں حاضر ہوتے تھے اور ان سے جو کچھ بن پڑتا تھا ان کے ساتھ سلوک کرتے تھے۔ ایک دن ایک شخص ان کے درِ دولت پر حاضر ہوا اور عرض بیگی سے کہا “صاحب عالم بہادر کو خبر دو ایک سیاح آپ کے لیے عنقا پکڑ کر لایا ہے”۔ صاحب عالم نے عرض بیگی کو اشارہ کیا کہ اس سیاح کو حاضر کرو اور وہ شخص صاحب عالم کے روبرو لایا گیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا پنجرا تھا جس پر ایک ریشمی بسنتی بندھی ہوئی تھی ۔ اس نے آداب کیا اور بسنتی اتاری تو معلوم ہوا چاندی کے تاروں کا ایک چھوٹا سا پنجرا ہے اور اس میں ایک پدڑی ہلدی میں زرد رنگی ہوئی بند ہے۔

مرزا شاہرخ : (اس چڑیا کو دیکھ کر ) واہ واہ سبحان اللہ! نایاب چیز ہے۔ یہ عنقا تمھیں کہاں سے ملا؟ …وہی لانے والا : حضور میں اسے کوہ قاف سے لایا ہوں۔

مرزا شاہرخ : تم ٹھیک کہتے ہو۔ یہ تمھارا ہی کام تھا جو اتنی دور گئے اور اسے پکڑ کر لائے ۔ یہ فرما کر صاحب عالم اٹھے اور اپنے دست مبارک میں وہ پنجرا لیا اور محل سرا میں تشریف لے گئے۔ آپ کی دادی شاہ عالم بادشاہ کی والدہ ماجدہ زندہ تھیں، وہ پنجرا ان کے سامنے لے جا کر رکھ دیا اور کہا: دادی حضرت دیکھیے! ہمارے لیے ایک شخص مصیبت پیٹ کر عنقا لایا ہے۔ بیگم نے پنجرا اٹھا کر چڑیا کو غور سے دیکھا اور مسکرا کر فرمایا: نوج یہ عنقا نہیں ہے ، یہ تو موئی دو کوڑی کی پدڑی ہے۔ نگوڑی کو ہلدی میں رنگ لیا ہے ۔ جھوٹے پر خدا کی پھٹکار ۔ ہائے دلی کے شہدے تم بادشاہ زادوں کو کیا کیا جُل دیتے ہیں اور کیسے کیسے سبز باغ دکھاتے ہیں اور اماں تم ایسے مومنا چومنا ہو کہ جو کسی نے کہہ دیا وہ تمھارے لیے آیت حدیث ہوگیا۔ کیا وہ عنقا لانے والا ابھی حاضر ہے یا دفان ہوا؟

صاحب عالم : وہ حاضر ہے ۔

بیگم: اچھا تم باہر جا کر اس کی کان پکڑی کراؤ اور اس سے کہو کہ تم سلاطین کی آنکھوں میں جوتوں سمیت گھسنا چاہتے ہو اور ایسا جھوٹ بولتے ہو جو دہرا جائے نہ اٹھایا جائے۔

صاحب عالم: دادی حضرت! میں نے دیکھتے ہی جان لیا تھا کہ یہ پدڑی ہے مگر وہ بیچارہ تو کسی آس پر ہی اسے عنقا بنا کر لایا ہے۔ خدا جانے اس کے بال بچے کتنےدن کے بھوکے پیاسے ہوں گے جو اس نے یہ جال بچھایا ہے۔

بیگم: تو اسے کچھ انعام دینا چاہتے ہو؟

صاحب عالم: بے شک وہ انعام کا ضرور مستحق ہے۔ وہ کیا جانے گا کہ میں صاحب عالم کے پاس عنقا لے کر گیا تھا۔

بیگم: تمھاری خوشی۔   دردانہ (لونڈی کا نام ہے) میرا صندوقچہ تو لے آ۔

دردانہ: جناب عالی! لونڈی ابھی صندوقچہ لائی۔

یہ کہہ کر دردانہ ایک کوٹھری میں گئی اور وہاں سے ایک صندوقچہ اٹھا کر لائی۔ بیگم صاحبہ کی پٹاری میں کنجیوں کا ایک گچھا پڑا ہوا تھا، اسے انھوں نے اٹھا کر ایک کنجی سے صندوقچہ کا قفل کھولا۔ لونڈی نے صندوقچہ کا ڈھکنا اٹھایا۔ صاحب عالم نے دیکھا صندوقچہ میں کوئی خانہ نہیں گویا ایک حوض ہے جس میں منہ تک اشرفیاں بھر رہی ہیں۔

بیگم: لو شاہرخ! رومال میں اشرفیاں لے لو۔ یہ کہہ کر بیگم صاحب نے بھر بھر مٹھیاں مرزا شاہرخ کے رومال میں ڈالنی شروع کیں، یہاں تک کہ رومال اشرفیوں سے بھر گیا۔ مرزا شاہرخ رومال سنبھالتے ہوئے باہر تشریف لانے لگے تو بیگم صاحب نے فرمایا: یہ عنقا بھی انھیں کے حوالے کرو جو لائے ہیں۔ یہاں ہم لوگوں سے اس کی رکھیا ہرگز نہ ہوگی۔

دادی جان کے فرمانے سے صاحب عالم نے دوسرے ہاتھ میں عنقا کا پنجرا بھی لے لیا۔ رومال اور پنجرا دونوں سیاح صاحب کو دے دیے اور فرمایا: یہ انعام ہے اور یہ تمھاری چڑیا ہے۔ ہمارے نوکروں کو اس کا رکھ رکھاؤ نہ آئے گا، تم اسے اپنے ہی پاس رکھو۔ جب ہمارا دیکھنے کو جی چاہا کرے گا تو تمھارے ہاں سے منگا لیا کریں گے۔ عنقا والے عنقا کا پنجرا اور اشرفیاں لے کر بھاگے تو گھر آ کر آرام لیا اور اشرفیاں گنیں تو پوری آٹھ سو نکلیں؛ دلدّر پار ہوگئے۔

(٢)

حضرت ابوظفر بہادر شاہ: ولے بھی میر سنگی سنتے ہو۔

میر سنگی صاحب : کرامات پیر غلام بگوش ہوش سنتا ہے۔

حضرت ابوظفر بہادر شاہ : مرزا شاہرخ نہیں مانتا ہے، وہ شیر کا شکار کھیلنے کجلی بن جاتا ہے۔ ویسے تو اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا لشکر ہے مگر اماں مجھے کسی پر بھروسا نہیں ہے، مگر تم پر اعتبار کرتا ہوں اور اس لیے اس کے ساتھ تمھیں بھیجتا ہوں ۔ تم شاہرخ کے ساتھ اس طرح رہنا جس طرح قافیہ کے ساتھ ردیف رہتی ہے، دم بھر کو اسے اکیلا نہ چھوڑنا۔ وہ من چلا آدمی ہے، ایسا نہ ہو کسی جنگلی ہاتھی یا شیر سے بھڑجائے اور اپنی جان گنوا دے۔

میر سنگی صاحب : جہاں پناہ حافظ و ناصر خدا ہے، اس ناچیز کی کیا حقیقت ہے۔ مگر یہ جان نثار ایک آن کو بھی صاحب عالم سے الگ نہ ہوگا اور جب تک یہ نمک خوار زندہ رہے گا، ان کے دشمنوں پر آنچ نہیں آنے دے گا۔

الغرض مرزا شاہرخ بہادر نے مع اپنے رفیقوں کے دلی سے کوچ کیا اور دریائے جمنا پر جو ناؤں کا پل بندھا ہوا تھا اس پر سے گزر کر پہلی منزل غازی آباد پر کی اور اسی طرح منزل بہ منزل اور کوچ در کوچ سہارنپور اور روڑکی ہوتے ہوئے کلیر شریف پہنچے اور حضرت مخدوم علاؤالدین صابر کلیری قدس سرہ العزیز کے مزار پُر انوار پر فاتحہ پڑھتے ہوئے ہردوار اور کنکھل جابراجے اور ان مقامات کو دیکھ بھال کر گنگا کو عبور کر کے کجلی بن کی طرف مڑے۔ گنگا کے کنارے چلتے چلتے ایک روز شام کو ایک گاؤں کے پاس پہنچ کر خیمہ زن ہوئے، آفتاب غروب ہو رہا تھا اور اس کی زرد زرد کرنیں گنگا میں پڑ رہی تھیں اور مشرق کی طرف شفق اپنی بہار دکھا رہی تھی۔ صاحب عالم اپنی بارگاہ کے آگے شامیانے کے نیچے کرسی پر بیٹھے بہنڈہ نوش فرما رہے تھے ۔ جو گاؤں کے مرد اور عورتیں اور بچہ اور بوڑھے اور جوان یہ کہتے ہوئے دوڑے آئے کہ چلو رے دلی کے بادشاہ زادے کے درشن کر لیں۔ صاحب عالم کو جب ان گاؤں والوں کا یہ شوق اور یہ چاؤ معلوم ہوا تو آپ نے ایک خواص سے اشارہ کیا کہ ان لوگوں سے کہہ دو ہم نے تمھارے گاؤں کے پرلے کنارے پر گنگا کے اندر چھوٹی بڑی بٹیاں پڑی دیکھی ہیں۔ وہ ہمیں بہت پسند آئی ہیں ۔ تم میں سے جو لوگ خوبصورت اور سڈول اور چکنی بٹیاں اٹھا کر لائے گا تو جو بٹیا ہمیں پسند آئے گی اس کا مول پانچ روپیہ اور بٹیا ناپسند ہوگی تو اس کے دو روپے دیے جائیں گے۔ اس وقت تم سب جاؤ اور کل صبح بٹیاں چن کر چھانٹ کر لاؤ ۔ گاؤں والے خوش ہوتے ہوئے اپنے گاؤں کو چلے گئے اور دوسرے دن ایک چھکڑا بھر کر بٹیاں لے آئے ۔ صاحب عالم نے حکم دیا کہ ہمارے مصاحب ان بٹیوں کو ملاحظہ کریں جو بٹیہ انھیں پسند آئے اس کے بدلے انھیں پانچ روپیہ اور جو ناپسند ہو اس کے بدلے دو روپیہ ان لوگوں کو دیں۔ اور یہ قصہ شام تک ختم ہوا، رات کے وقت جب صاحب عالم خاصہ نوش فرمانے لگے تو ایک مصاحب نے دست بستہ عرض کی کہ حضور نے آج ایک خزانہ ان گنواروں کو ناحق دے دیا۔ صاحب عالم نے ایک آہ کھینچ کر کہا ہمارے پاس خزانہ کہاں سے آیا جو کسی کو دے دیں گے۔ تم نے سنا نہیں وہ بیچارے یہ کہتے ہوئے آئے تھے کہ ہم دلی کے بادشاہ زادے کے درشن کرنے آئے ہیں۔ بادشاہ زادے کو بھی کچھ غیرت کرنی چاہیے تھی یا نہیں؟ وہ خالی خولی جاتے تو کیا جانتے کہ دلی کا بادشاہ زادہ ہے۔

(3)

مرزا شاہرخ چلتے چلتے کجلی بن کے قریب پہنچ گئے اور انھوں نے دیکھا کہ زمین کا رنگ اور اس کی مٹی ہمارے ملک کی زمین اور مٹی سے الگ ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ اس سرزمین پر کبھی انسانوں کا گزر ہی نہیں ہوا ہے۔ میدان ہیں تو ویران ہیں، جھاڑیاں ہیں تو سنسان۔ جابجا ندیاں ہیں اور نالے ہیں مگر نہ کسی ندی کا گھاٹ ہے نہ اتار ہے۔ کشتی اور ناؤ کہاں سے آئی، کوئی بستی کوئی گاؤں دور دور تک نہیں ہے۔

میرسنگی صاحب نے صاحب عالم کو مشورہ دیا کہ اجنبی جگہ ہے آج دوپہر دن سے کسی جگہ ڈیرا کیا جائے اور چار سوار چار طرف بھیجے جائیں، اگر کوئی بستی پائیں تو اپنے ساتھ دو ایک آدمی اس بستی کے لائیں اور ان لوگوں سے کجلی بن کا ٹھیک رستہ معلوم کرکے آگے بڑھا جائے اور یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ کجلی بن کے اندر کوئی جا سکتا ہے یا نہیں اور شیر ہاتھی اس میں کہاں کہاں رہتے ہیں۔ ان کا شکار کس طرح کیا جائے گا۔ صاحب عالم نے میر سنگی صاحب کی رائے کو پسند فرمایا اور چار سوار چار طرف دوڑائے گئے اور چار پانچ کوس آگے بڑھ کر ایک ندی کے کنارے ڈیرا کیا گیا۔ مغرب سے کچھ پہلے تین طرف سے تین سوار ناکام پلٹ کر آئے اور انھوں نے کہا ہمیں کوئی بستی کوئی گاؤں اور کوئی آدمی نہیں ملا اور نہ ہم نے کسی سے رستہ پایا۔ ہم درختوں اور جھاڑیوں میں پھنس پھنس کر نکلے ہیں اندازاً بیس بیس میل تک کوئی آبادی نہیں ہے۔ مگر چوتھا سوار پورب کی طرف سے جو آیا تو اپنے ساتھ دو آدمیوں کو لایا۔ صاحب عالم کے حضور میں دونوں آدمی اور وہ سوار پیش کیا گیا۔ دونوں آدمی لنگوٹی باندھے ہوئے تھے، ان کی صورت پر وحشت برستی تھی۔ ان سے بات کی تو وہ عجب طرح کی بھاشا بولتے تھے اور وہ بہت کم سمجھ میں آتی تھی۔ اور جو کچھ ان کی باتیں سمجھ میں آئیں وہ یہ ہیں۔

انھوں نے کہا اس جگہ سے دس کوس پر ہمارا گاؤں ہے۔ ہم کھیتی برائے نام کرتے ہیں، اس جنگل کی جڑی بوٹیاں اور ترکاریوں سے اور شکار کے گوشت سے اپنا پیٹ پالتے ہیں۔ یہاں سے ہمارے گاؤں تک کجلی بن میں گھسنے کا کوئی راستہ نہیں ہے کیونکہ چھوٹے بڑے درخت ایسے پاس پاس ہیں اور ان کے ٹہنے نیچے نیچے سینکڑوں ہزاروں برس کی عمر کے ایسے بچھے ہوئے ہیں کہ آدمی یا گھوڑا یا بکری تو بکری گیدڑ اور خرگوش اور مور بھی اندر نہیں جا سکتا نہ اندر سے باہر آ سکتا ہے۔ ہمارے گاؤں سے پچاس کوس پر ایک گاؤں اور بستا ہے، وہ بڑا گاؤں ہے اس کے پاس ہی ایک کجلی بن کا دروازہ ہے۔ دروازے سے  یہ مراد ہے کہ وہاں جا کر بَن کچھ چھدرا چھدرا ہوگیا ہے۔ اس گاؤں کا نام پلا ہے اور پلا میں ایک راجپوت رہتا ہے۔ وہ شیر کا شکار کھیلتا ہے اور کجلی بن کے اندر جایا کرتا ہے۔ آپ یہاں سے پلا جائیے اور اس راجپوت کو بلائیے اور اسے ساتھ لے کر کجلی بن جائیے اور شیر کا شکار کیجیے۔ مگر حضور آپ رات کو یہاں نہ ٹھہریں کیونکہ یہاں رات بجتی ہے۔صاحب عالم نے فرمایا رات کیونکر بجا کرتی ہے۔ گنواروں نے رات کا بجنا سمجھایا بھی مگر ان کی بولی ایسی اکھڑ تھی کہ رات بجنے کا مطلب کوئی نہ سمجھ سکا ۔ ان سے کہا گیا تم رات کو اردوئے معلی میں رہو ۔ صبح ہم بھی تمھارے ساتھ گاؤں کو چلیں گے اور وہاں سے پلا کو جائیں گے ۔ مگر وہ کسی طرح نہ ٹھہرے اور یہی کہتے رہے ہم یہاں ہرگز نہ ٹھہریں گے یہاں تو رات بجتی ہے اور سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے۔

میر سنگی صاحب نے جمعدار کو بلا کر سمجھا دیا کہ آج رات کو معمول سے زیادہ پہرا رہے، گنوار کہہ گئے ہیں کہ رات بجتی ہے اس سے زیادہ ان کا کہنا سمجھ میں نہیں آیا۔ مگر وہ جو پتہ توڑ کر بھاگے ہیں اس سے خیال ہوتا ہے کہ رات کو یہاں کوئی جوکھوں ضرور ہے۔ جمعدار نے کہا، حضور! جہاں ڈر ہے وہاں سپاہی کا گھر ہے۔ پہرا بھی دوہرا کیے دیتا ہوں اور رات بھر خود بھی کمر باندھے کھڑا رہوں گا۔ مجھے دیکھنا ہے کہ رات مردار کیونکر بجتی ہے، صاحب عالم کے اقبال سے ہم تو اپنے آگے فلک کی ہستی نہیں سمجھتے۔ البتہ کجلی بن کا پاس ہے، شیر لگتے ہوں گے یا ہاتھی ستاتے ہوں گے تو ہماری تلوار کے آگے وہ کیا ٹھہریں گے ۔ غرض جمعدار یہ کہہ کر سپاہیوں کو وردی پہنانے چلا، اس میں آفتاب غروب ہو گیا اور آس پاس کے درختوں پر ایسے پرند اور چڑیوں نے بسیرا لیا جو اس سے پہلے مرزا شاہرخ اور ان کے ساتھیوں نے نہ دیکھے تھے، ان کی آوازیں بھی کانوں کو الگ معلوم ہوتی تھیں۔ تھوڑی دیر میں چاروں طرف اندھیرا چھا گیا ۔ رات عشا کی نماز پڑھ کر چھپر کھٹ میں جا کر لیٹ گئے۔ پاچپی کرنے والا پاچپی کرنے لگا ۔ داستان کہنے والے نے داستان شروع کر دی اور گھڑیالی نے رات کے دس بجائے جو یکایک ان کے کان میں جھانجھ بجنے کی آواز آئی جو بہت سریلی اور دل کش تھی۔ اس اجاڑ جنگل میں جھانجھ کی آواز بڑھی اور دم بدم بڑھنے لگی اور صاحب عالم چھپر کھٹ پر اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا میر سنگی صاحب ہم سمجھے ان گنواروں نے جو کہا تھا کہ رات بجتی ہے ۔ وہ اسی آواز سے مراد تھی۔ میر سنگی صاحب اور سب مصاحبوں نے کہا حضور نے بجا فرمایا، رات بجنے کا ان کا اسی آواز سے مدعا تھا اور ایک گھنٹے میں تو یہ معلوم ہونے لگا کہ جنگل ہزاروں اور لاکھوں جھانجھوں سے بھرا ہوا ہے اور ان کے شور سے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ صاحب عالم گھبرا کر خیمے سے نکل کر باہر آ گئے ہیں اور حیرت میں مبتلا ہیں۔ رات کے بارہ بجے تو یہ آواز اس قدر بڑھی کہ صور قیامت کی تصدیق ہو گئی۔ آواز کی رفتار اس طرح تھی کہ ایک بار معلوم ہوتا تھا کہ جھانجھ آسمان پر سے بجتے چلے آتے ہیں اور آتے آتے سر پر آئے اور پھر کانوں کے اندر گھس گئے۔ پھر کانوں سے نکلے، سر پر پہنچے اور سر پر سے اونچے ہوکر آسمان کو اڑ گئے۔ جب وہ صدا اوپر جاتی تھی تو کچھ دھیمی معلوم ہوتی تھی اور جب نیچے آتی تھی تو کان کے پردوں کو پھاڑتی معلوم ہوتی تھی۔ اب کوئی آدمی ایک دوسرے کی بات بالکل نہ سن سکتا تھا۔ صاحب عالم میر سنگی صاحب کے کان میں بات کہتے تھے اور میر صاحب صاحب عالم کے کان میں مگر پھر سمجھ میں نہ آتی تھی اور اس شور اور ہولناک آواز نے دلوں میں دھڑکن پیدا کردی۔ ہر شخص کو یہ معلوم ہوتا تھا کہ گھڑی دو گھڑی میں دم نکل جائے گا ۔ گھوڑوں نے اگاڑیاں پچھاڑیاں توڑ ڈالیں اور اردوئے معلی سے نکل کر بھاگ گئے۔ ایک ہاتھی اور ہتھنی ساتھ تھی وہ دونوں تھر تھر کانپ رہے تھے، دو ایک گھوڑے زمین پر گرپڑے اور مرغ بسمل کی طرح تڑپنے لگے۔ ان مسافروں کے لیے یہ رات قیامت کی رات بن گئی۔ صاحب عالم نے حکم دیا کہ تمام لشکر میں خوب روشنی کی جائے تاکہ ایک دوسرے کی صورت تو دیکھتا رہے مگر یہ حکم اشاروں میں دیا گیا۔ رات کے دس بجے سے رات کے دو بجے تک رات اسی دھوم دھام سے بجتی رہی اور انسانوں کے حواس خمسہ کھوتی رہی۔ صاحب عالم اور میر سنگی صاحب دوات قلم لے کر بیٹھ گئے اور لکھ لکھ کر آپس میں باتیں کرنے لگے۔ رات ڈھلنے کے ساتھ رات بجنے کی صدا بھی دھیمی ہونے لگی یہاں تک کہ صبح کے وقت بالکل موقوف ہو گئی۔

شاہ خاور مشرقستان سے نکل کر صاحب عالم کے لیے اردوئے معلی میں حاضر ہوا تو خاص و عام نے ایک دوسرے کی صورت دیکھ کر کہا تمھاری صورت بالکل زرد ہوگئی ہے۔ صاحب عالم نے اور میر سنگی صاحب نے جو آئینہ دیکھا تو فی الحقیقت اپنے اپنے منہ یرقان زدہ پائے یا ہلدی کا اوبٹنا ملا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ رات بھر کوئی انسان حیوان سویا نہ تھا اور نہ کسی نے آرام پایا تھا، اس واسطے سب پر سستی کاہلی چھائی ہوئی تھی۔ میر سنگی صاحب نے صاحب عالم سے کہا کہ فورا کوچ کا حکم دیا جائے کیونکہ یہ مقام زہر ہے، ایک رات رہنے سے آدمی اور جانور مردہ ہو گئے ہیں اگر دو ایک دن یہاں اور رہے تو شاید سب کا کام تمام ہوجائے۔ صاحب عالم نے فرمایا آپ درست فرماتے ہیں اور اسی وقت روانگی کا حکم دے دیا۔ اردوئے معلی پہلے سے چلنے کا بندوبست کر چکا تھا، صاحب عالم کے حکم کے ساتھ ہی سب وہاں سے چل دیے اور بھاگا بھاگ اس گاؤں پر پہنچ کر ڈیرے ڈال دیے جس سے کل دو گنوار پکڑے آئے تھے ۔ گاؤں والوں نے کہا بہت اچھا ہوا آپ وہاں سے اٹھ آئے، اس جگہ کا خاصہ ہے کہ باہر کا جو چرند پرند یا کوئی آدمی وہاں آ کر ٹھہر جاتا ہے تو اس آواز کو سن کر تین دن میں اس کا خون خشک ہو جاتا ہے اور تڑپ تڑپ کر مر جاتا ہے۔ میر سنگی صاحب نے ان سے کہا تم آخر پاس کے رہنے والے ہو تم نے بھی سمجھا کہ یہ آواز کیسی ہے اور کہاں سے آتی ہے؟ ان لوگوں نے کہا ہم کیا ہمارے بڑے ہزاروں برس سے اس گاؤں میں رہتے چلے آئے ہیں مگر یہ بھید کسی کو نہ معلوم ہوا کہ رات کیوں بجتی ہے اور رات ڈھلنے کے ساتھ اس کی آواز کیوں کم ہوتی جاتی ہے، اسی وجہ سے ہم لوگوں نے اس کا نام رات بجنا رکھ لیا ہے کہ باجن بجتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔

(4)

اس گاؤں میں جس کا نام یاد نہیں رہا پھر صاحب عالم نے کوچ کیا اور بہت زحمت اور تکلیف اٹھا کر پلا گاؤں تک پہنچے کیونکہ اس سے پہلے گاؤں سے پلا تک نہ کوئی لیکھ تھی نہ کوئی بٹیہ تھی، نہ پگ ڈنڈی تھی۔ جب آدمی ہی نہ ہوں تو لیکھ اور پگ ڈنڈی کس طرح بنتی ۔ صاحب عالم نے پلا کے کنارے پر قیام فرمایا اور اس شکاری راجپوت سنگھ کو بلوایا۔ اس راجپوت کا نام یاد نہیں رہا، اس لیے میں ضرورت کے لیے راجپوت سنگھ لکھوں گا کیونکہ اس کا جابجا ذکر آئے گا۔ راجپوت سنگھ حکم پہنچتے ہی حاضر ہوا۔ وہ بھی جنگلی بھاشا بولتا تھا۔ صاحب عالم نے اس سے کجلی بن کا حال اور شیر کے متعلق جو اس سے پوچھا تھا اس کا یہ جواب دیا۔

راجپوت سنگھ: جناب عالی بن کا نام کجلی بن نہیں ہے بلکہ گجلی بن ہے کیونکہ گج سنسکرت زبان میں ہاتھی کو کہتے ہیں۔ اس بن میں جو ہاتھی رہتے ہیں اس کا نام گجلی بن رکھا گیا تھا مگر بگڑ کر گجلی بن سے کجلی بن ہوگیا۔ ہمارا گاؤں ایک راجا کی حکومت میں ہے۔ ہم اپنے گاؤں کی پیداوار میں سے تھوڑی سی جنس دھان کی اس راجا کو اُگاہی کے طور پر دیتے ہیں سنا ہے وہ راجا تھوڑا سا روپیہ بادشاہ کو دیتا ہے۔

کجلی بن ہمارے اس گاؤں سے سات کوس دور ہے اور سینکڑوں کوس تک چلا گیا ہے۔ اس کے اندر بعض درخت دو دو ہزار برس کی عمر کے ہیں اور سال، ساگوان، ابنوس،ہلدو اور قسم قسم کے درخت جن کے تنے ہاتھیوں کے کمر برابر اور ان سے زیادہ گولائی کے ہیں جن کے نام ہمیں معلوم نہیں ہیں۔ اور ان کی اونچائی لمبائی اتنی ہے کہ دیکھنے والا گمان کرتا ہے کہ ان کی پھننگیں اور چوٹیاں آسمان سے جا لگی ہیں۔ شیر، ریچھ، بندر، لنگور، ہاتھی، ساردھول، بھیڑیے، گیدڑ، لومڑی، ہرن، پاڑھے، چیتل،نیل گائے، بارہ سنگے، سور اور ہزاروں قسم کے چرند اس میں رہتے ہیں کہ راجا ہیر بکرماجیت کے زمانے سے لے کر اور مسلمان بادشاہوں کی عملداری سے اب تک عمارت کے کام کی لکڑی اس بن میں سے ٹھیکہ دار لوگ کاٹ کر بھیجتے رہے اور اب بھی بھیجتے رہتے ہیں مگر اس کا ایک کونا بھی خالی نہیں ہوا ہے۔ اس بن کے اندر جانا خطرے سے خالی نہیں ہے، آدمی اس کی سیر کرتا ہوا یا شکار پر داؤ کرتا ہوا چلا جاتا ہے اور شام ہو جاتی ہے اور پھر اسے پلٹنے کا موقع نہیں ملتا ہے۔ رستہ کا تو کوئی نشان ہوتا ہی نہیں ہے، اس لیے پھر کر کیونکر آئے۔ اندھیرا ہوتے ہی شیر اس کا شکار کرلیتے ہیں یا بھیڑیے اس کی تکا بوٹی کر ڈالتے ہیں۔ یا ریچھ بندر اس کے ٹکڑے اڑا دیتے ہیں یا ہاتھی اسے کچل ڈالتے ہیں۔ لکڑی کاٹنے والے مزدور سو سو دو دو سو اکٹھے ہو کر کام کرتے ہیں، ایک جگہ ٹھیکیدار اپنا ڈیرا ڈالتا ہے اور ڈیرے کے آس پاس ایندھن انبار کرکے شام کے وقت اس میں آگ لگا دیتا ہے۔ بن کے جانور کیا ہاتھی کیا شیر سب آگ سے ڈرتے ہیں اور آگ دیکھ کر بھاگ جاتے ہیں۔ ٹھیکیدار کے ساتھ ایسے بڑے بڑے مضبوط چھکڑہ ہوتے ہیں جن میں پچاس پچاس اور سو سو بیل جوتے جاتے ہیں اور ان چھکڑوں پر شہتیر اور موٹے موٹے لٹھے لاد کر دور دور لے جاتے ہیں۔ اس محنت سے بہت سے بیل مر جاتے ہیں۔ میں سو پچاس بار شکار کی وجہ سے بن میں داخل ہوا ہوں اور چالیس چالیس پچاس پچاس کوس تک اس کے اندر چلا گیا ہوں تو میں نے اس میں میدان بھی کف دست پائے ہیں۔ ندی نالے بھی زور شور سے بہتے دیکھے ہیں۔ چشمہ جھیلیں اور قدرتی تالاب بھی بہتے ہیں اور ان ندی نالوں پر مختلف قسم کے پرندے دکھائی دیے ہیں۔ یہ بھی میں نے جانچ کی کہ بن کی بسنے والی مخلوق نے بن کو اپنے لیے بانٹ لیا ہے۔ کہیں خصوصیت کے ساتھ ریچھ، کسی ٹکڑے میں بندر، کسی میں ہرن، کسی میں ہاتھی اور کہیں شیر رہتے ہیں ۔ تجربہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ جانور اپنی سرحد سے دوسرے جانوروں کی سرحد میں مصیبت پڑنے پر جا کر گھستے ہیں۔ مگر شیر ہر حصہ میں بن کے اور جانوروں کے ہر سرحد میں چلا جاتا ہے ۔ اس سے سمجھا جاتا ہے کہ وہ سب جانوروں کا مہاراجا ہے اور سب جانور اس کی رعیت ہیں۔ جن علاقوں میں خاص کر شیرنیاں رہتی ہیں اور بچہ دیتی ہیں اور شیروں کے گرمی اور سردی کے رہنے کے جنگل مجھے اور میرے عزیزوں کو معلوم ہیں۔ ان اپنے عزیزوں میں سے فدوی ایک دو آدمیوں کو حضور کے ساتھ بھیج دے گا اور جب تک حضور شکار کھیلیں گے وہ حضور کے ساتھ رہیں گے۔ شیر کا شکار یہ غلام بھی کرتا ہے اگر حضور فرمائیں تو پہلے میں شکار کرکے اپنے کرتب دکھاؤں یا جب حضور اپنے قاعدے سے شیر کا شکار کر لیں تو غلام کو یاد فرمائیں غلام حاضر ہو کر اپنے شکار دکھائے۔ صاحب عالم نے خیال کیا کہ میں راجپوت سنگھ سے اگر یہ کہوں گا کہ تم شیر کا شکار دکھاؤ تو سمجھے گا کہ بادشاہ زادے کو شیر کا شکار نہیں آتا ہے، اس لیے کہا ہم اپنے طور پر شکار کھیلنا چاہتے ہیں، جب ہم شیروں کا شکار کر کے اپنا جی بھر لیں گے تو تمھیں بلا کر تمھاری ہنرمندی دیکھیں گے۔ البتہ تم اپنے دو تین آدمی رہبری کے لیے ہمارے ساتھ کردو۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *