اردومذہب

درس القرآن

كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ وَأَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ وَمَا اخْتَلَفَ فِيهِ إِلَّا الَّذِينَ أُوتُوهُ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِهِ وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ   ۔

(سورہ البقرہ: 214)

ترجمہ:

تمام انسان ایک ہی امت تھے۔ پس اللہ نے نبی مبعوث کئے اس حال میں کہ وہ بشارت دینے والے تھے اور انذار کرنے والے تھے۔ اور ان کے ساتھ حق پر مبنی کتاب بھی نازل کی تاکہ وہ لوگوں کے درمیان ان امور میں فیصلہ کرے جن میں انہوں نے اختلاف کیا۔ اور اس (کتاب) میں اختلاف نہیں کیا مگر باہم بغاوت کی بنا پر انہی لوگوں نے، جنہیں وہ دی گئی تھی، بعد اس کے کہ کھلی کھلی نشانیاں ان کے پاس آچکی تھیں۔ پس اللہ نے ان لوگوں کو اپنے اِذن سے ہدایت دیدی جو ایمان لائے تھے بسبب اس کے کہ انہوں نے اس میں حق کے باعث اختلاف کیا تھا اور اللہ جسے چاہے صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت دیتاہے۔(1)

(1)کسی نبی کے آنے سے پہلے سب لوگ ایک ہی جیسے ہوجاتے ہیں۔ خواہ بظاہر پہلے انبیاء پر ایمان بھی لاتے ہوں لیکن فسق و فجور اور بداعمالی میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ پس یہ ایک قاعدہ کلیہ ہے کہ نبی کے آنے سے پہلے امتیں ایک ہی حال پر ہوتی ہیں خواہ بظاہر مومن یا غیر مومن ہوں۔ جب نبی کی طرف سے کتاب اور امرونواہی کی کھلی کھلی وضاحت ہوجائے پھر اس کا نبی سے اختلاف انسانوں کو دو حصوں میں الگ الگ کردیتا ہے۔ ایک وہ جو نبی پر ایمان لاتے ہیں اور ایک وہ جو نبی کا انکار کرتے ہیں۔

تفسیر:

لوگوں کا دین ایک تھا۔ پھر بھیجے اللہ نے نبی خوشی اور ڈر سنانے والے اور اُتاری ان کے ساتھ کتاب سچی کہ فیصل کرے لوگوں میں جس بات میں وہ جھگڑا کریں۔  كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً : : نیک و بَد تو دنیا میں ہوتے ہیں مگر ایک وقت لوگوں پر ایسا آتا ہے کہ ان میں سے غیرتِ ایمانی اُٹھ جاتی ہے اور وہ مذہبی بحثوں کو فساد جاننے لگتے ہیں۔ ایک مصنف فخر کے طور پر کہتا ہے کہ میرا ایک دوست بڑا پیارا تھا تیس برس سے ملاقات چلی آتی ہے اور میں نے کبھی اس کے سامنے خدا کا نام نہیں لیا۔ أُمَّةً وَاحِدَةً کےمیرے نزدیک یہی معنی ہیں کہ بےغیرت ہوکر ایک رنگ میں رنگین ہوجانا۔ ایسے وقت میں اللہ کے مامور آتے ہیں۔

چنانچہ فرماتا ہے

فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ: نبیوں کو مبعوث کرتا ہے۔ بَغْيًا بَيْنَهُمْ: یعنی محض ضد کی وجہ سے نہیں مانتے۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے کچھ دن پہلے مسیلمہ کذّاب نے پیغمبری کا دعوٰی کیا۔ ایک صحابہؓ کا آشنا مسیلمہ کا مرید تھا۔ اس سے پوچھا گیا تم نے مسیلمہ کو کیوں مان لیا اور محمد رسول اللہ ﷺ میں کیا نقص دیکھا تو وہ کہنے لگا اَکْذَبُ بَنِیْ یَمَامَةُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَصْدَقِ قُرَیْشٍ۔قریش خواہ کیسا راست باز ہو آخر قریشی ہے اس سے مجھے اپنی قوم کا اَکْذَبْ اچھا۔ پس یہ وجہ ہوتی ہے اختلاف کی۔

میں کل بتلا چکا ہوں کہ جس حصہ میں انسان کا دخل نہیں اس میں شریعت نازل نہیں ہوتی اور جس میں دخل اور اختیار ہے اس میں شریعت ہے۔قانونِ سرکاری اور شریعت میں یہ فرق ہے کہ قانونِ گورنمنٹ اس وقت گرفتار کرسکتا ہے جب گناہ کا اثر کسی دوسرے پر عملی رنگ میں پڑے مگر شریعت گناہ کے مبدء کو پکڑتی ہے مثلاً بدنظری ہے۔ اب پولیس اسے نہیں پکڑتی لیکن شریعت نے یہ برکت کاکام دنیا میں کیا ہے کہ جو شخص شریعت پر عمل پیرا ہو وہ پولیس کے ہاتھ میں آتا ہی نہیں۔

كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً :اس کی تفسیر سورہ یونس (آیت:20)  مَا كَانَ النَّاسُ إِلَّا أُمَّةً وَاحِدَةً فَاخْتَلَفُوا میں ہے۔ کَانَ حرف ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ سب کافر تھے یا سب مومن بلکہ یہ کہ انسان بحیثیت انسان ایک گروہ ہے جیسے کُتّے الگ گھوڑے الگ۔

(حقائق الفرقان جلد اوّل صفحہ نمبر 348)

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *