Views: 208
شاعر: راج کھیتی
آنکھ کسی کی گیلی تھی
رات بڑی دردیلی تھی
پریم کا جس نے زہر پیا
رنگت اس کی نیلی تھی
دفن تھے میرے خواب جہاں
وہ دھرتی چمکیلی تھی
پتھر گیت بنے جس سے
میری سوچ سریلی تھی
رات کا درد لیے دل میں
اوشا کتنی پیلی تھی
راجؔ کی مستی کیا کہئے
سب کی آنکھ نشیلی تھی