انورمسعودمزاحیہ شاعری میں تہذیب کی علامت
تحریر: سید واثق
بڑی سے بڑی بات یوں کہتے ہیں کہ سننے والا پہلے مسکراتا ہے، پھر سوچ میں پڑ جاتا ہے
اُس کے در پر وہ جو اک دربان پایا جائے ہے
کتنے نقصانات کا امکان پایا جائے ہے
صرف دریا پر نہیں موقوف ایسی کھلبلی
چائے کی پیالی میں بھی طوفان پایا جائے ہے
انور مسعود جیسے شاعر کی نعمت سے کم نہیں جو سالوں سے لبوں پہ قہقہے بکھیرتے آ رہے ہیں۔ تہذیب اور شائستگی ان کا وہ اسلوب ہے جسے مد نظر رکھتے ہوئے وہ بڑی سے بڑی بات کہہ جاتے ہیں۔نظر آ نے میں اتنے ’’معصوم ‘‘کہ ان پہ کسی بچے کی طرح پیار آ ئے مگرشعر کہنے میں اتنے ’’چالاک‘‘ کہ دریا کو کوزے میں بند کرنا کوئی ان سے سیکھے۔اللہ انہیں سلامت رکھے خیر سے نوے سال کے ہو چکے مگر اشعار میں تازگی آ ج بھی برقرار ہے۔ان کی کتاب ’’دیوار گریہ،اشعار پیچھے ‘‘میں ’’سادگی و پرکاری‘‘ کے نام سے مشتاق احمد یوسفی اپنے مضمون میں لکھتے ہیں۔’’عمدہ مزاح کا انحصار بڑی حد تک Element of Surprise(عنصر استعجاب)پر ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے انور مسعود کو مشاعرے لوٹتے دیکھا ہے، وہ جانتے ہیں کہ ان کے قطعات کے پہلے تین مصرعے، انہی کی طرح، بظاہر بالکل گھریلو اور بے ضر سے نظر آتے ہیں، لیکن چوتھے چلبلے مصرعے میں اچانک ان کی آنکھوں کی ساری شوخی معصوم شرارت پر اتر آتی ہے۔ بڑی سے بڑی اور گھمبیر سے گھمبیر بات کو ایسے ہلکے پھلکے اور دھیمے لہجے میں کہنے کا ہنر جانتے ہیں کہ سننے والا پہلے مسکراتا ہے، پھر سوچ میں پڑ جاتا ہے۔
سادگی ان کی دلآویز شخصیت، انداز نظر اور پیرایۂ اظہار کا جوہر ہے۔ ان کی تحت اللفظ پڑھنت بھی بظاہر بہت سادہ لگتی ہے۔ لیکن ’’کوئی سادہ ہی اس کو سادہ کہے‘‘ وہ اپنے لفظ اور سامعین، دونوں کے مزاج داں ہیں۔ ان کی ساری صناعی کا رازان کی سی سادہ وضعی میں مضمر ہے۔ بہترین ریاض اور اثر انگیز مزاولت وہ ہے جس کی چھاپ ضاعی پر نظر نہ آئے۔ انور مسعود نے ایک عمر ایسا ہی ریاض کیا ہے لفظ میں ایسی کاٹ سان پر چڑھے بغیر نہیں آتی۔
ان کا مطالعہ وسیع اور مشاہدہ گہرا ہے۔ ان کی نگاہ سے حالات حاضرہ کا کوئی مضحک پہلو نہیں بچتا۔ ان کا شائستہ مزاح، ان کے تبحر علمی، تازہ کاری اور رعایت لفظی پر حیرت انگیز قدرت سے عبارت ہے۔ تحریف، تضمین اور پیروڈی اس برجستگی سے کرتے ہیں کہ اصل کو بھی اپنا ہی کرشمہ کلام بنا کر دکھا دیتے ہیں۔ انہوں نے طنز و ایجاز کے جو گل کھلائے ہیں وہ ان کی فنکارانہ مہارت کا اعجاز ہے۔
عوام میں مقبولیت، مسائل کے تنوع اور عوامی آہنگ کے پیش نظر امجد اسلام امجد نے انور مسعود کو ہمارے عہد کا نظیر اکبر آبادی کہا ۔ اس میں ہم صرف اتنا اضافہ کریں گے کہ نظیر اکبر آبادی تو گلی گلی ایک ٹٹوانی (مادہ ٹٹو) پر سوار گھوما کرتے تھے۔ روایت ہے کہ اسے سدھا رکھا تھا کہ راستے میں جہاں کسی نے ان کو سلام کیا اور وہ ٹھہر گئی تاکہ وہ ارتجالاً کچھ اشعار کہہ کر سلام یا فرمائش کرنے والے / والی کو بخش دیں۔ انور مسعود جیٹ طیارے سے کم کسی سواری میں نہیں دیکھے گئے۔ غریب نظیر اکبر آبادی تو اپنے عہد کے رئوسا اور معززین شہر کے مشاعروں میں بار نہیں پاتا تھا، جب کہ اندرون و بیرون ملک کوئی مشاعرہ انور مسعود کے بغیر مکمل تصور نہیں کیا جاتا۔ ان کے کلام کی مقبولیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مشاعروں میں بڑے بڑے استادان سے پہلے پڑھنے میں ہی عافیت محسوس کرتے ہیں۔
عید کے حوالے سے مختلف موضوعات پہ ان کا کلام نذر قارئین ہے۔
………………
گولی یہ بڑی زود اثر ہے
سر درد میں گولی یہ بڑی زود اثر ہے
پر تھوڑا سا نقصان بھی ہو سکتا ہے اس سے
ہو سکتی ہے پیدا کوئی تبخیر کی صورت
دل تنگ و پریشان بھی ہو سکتا ہے اس سے
ہو سکتی ہے کچھ ثقلِ سماعت کی شکایت
بیکان کوئی کان بھی ہو سکتا ہے اس سے
ممکن ہے خرابی کوئی ہو جائے جگر میں
ہاں آپ کو یرقان بھی ہو سکتا ہے اس سے
پڑ سکتی ہے کچھ جلد خراشی کی ضرورت
خارش کا کچھ امکان بھی ہو سکتا ہے اس سے
ہو سکتی ہے یادیں بھی ذرا سی متاثر
معمولی سا نسیان بھی ہو سکتا ہے اس سے
بینائی کے حق میں بھی یہ گولی نہیں اچھی
دیدہ کوئی حیران بھی ہو سکتا ہے اس سے
ہو سکتا ہے لاحق کوئی پیچیدہ مرض بھی
گردہ کوئی ویران بھی ہو سکتا ہے اس سے
ممکن ہے کہ ہو جائے نشہ اس سے ذرا سا
پھر آپ کا چالان بھی ہو سکتا ہے اس سے
………………
نہ تجھے قرار ہوتا
تجھے مجھ سے مجھ کو تجھ سے جو بہت ہی پیار ہوتا
نہ تجھے قرار ہوتا نہ مجھے قرار ہوتا
ترا ہر مرض الجھتا مری جانِ ناتواں سے
جو تجھے زکام ہوتا تو مجھے بخار ہوتا
جو میں تجھ کو یاد کرتا تجھے چھینکنا بھی پڑتا
مرے ساتھ بھی یقیناً یہی بار بار ہوتا
کسی چوک میں لگاتے کوئی چوڑیوں کا کھوکھا
ترے شہر میں بھی اپنا کوئی کاروبار ہوتا
غم و رنج عاشقانہ نہیں کیکولیٹرانہ
اسے میں شمار کرتا جو نہ بے شمار ہوتا
وہاں زیر بحث آتے خط و خال و خوئے خوہاں
غم عشق پر جو انورؔ کوئی سیمینار ہوتا
………………
طوفان پایا جائے ہے
اس کے در پر وہ جو اک دربان پایا جائے ہے
کتنے نقصانات کا امکان پایا جائے ہے
صرف دریا پر نہیں موقوف ایسی کھلبلی
چائے کی پیالی میں بھی طوفان پایا جائے ہے
تیسری دنیا میں کچھ بھی تو نہیں ہے پائیدار
ہاں مگر اک مستقل بحران پایا جائے ہے
گرم ویسا ہی پشاور بھی ہے اور لاہور بھی
ان دنوں ہر شہر میں ملتان پایا جائے ہے
گھر میں ہو سکتی ہے یہ بھی صورت غیب و حضور
میزبان غائب اور مہمان پایا جائے ہے
ہے تکبر آفریں مال و متاع دنیوی
مان تو ہوگا جہاں سامان پایا جائے ہے
تو نے انورؔ کوئی ایکشن فلم دیکھی ہے ضرور
تیری باتوں میں بڑا ہیجان پایا جائے ہے
………………
رویت ہلال
نکلتا ہے کہ آدھی رات تک روپوش رہتا ہے
ہمیں معلوم ہو کیسے کہ اس کا مدعا کیا ہے
مناسب ہے یہی اب تو ہر اک عید سے پہلے
کمیٹی چاند سے پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے؟
………………
کوئی گلزار پھرتا ہے
پجیرو بھی کھڑی ہے اب تو ان کی کار کے پیچھے
عظیم الشان بنگلہ بھی ہے سبزہ زار کے پیچھے
کہاں جچتی ہے دیسی گھاس اب گھوڑوں کی نظروں میں
کہ سرپٹ دوڑتے پھرتے ہیں وہ معیار کے پیچھے
عجب دیوار اک دیکھی ہے میں نے آج رستے میں
نہ کچھ دیوار کے آگے نہ کچھ دیوار کے پیچھے
تعاقب یا پولس کرتی ہے یا از راہِ مجبوری
کوئی گلزار پھرتا ہے کسی گلنار کے پیچھے
سرہانے سے یہ کیوں اٹھے، وہ دنیا سے نہیں اٹھتا
مسیحا ہاتھ دھو کر پڑ گیا بیمار کے پیچھے
ہوا خواہان سرکاری تو بس پھرتے ہی رہتے ہیں
کوئی سرکار کے آگے کوئی سرکار کے پیچھے
بڑے نمناک سے ہوتے ہیں انورؔ قہقہے تیرے
کوئی دیوار گریہ ہے ترے اشعار کے پیچھے
………………
دل و جان وغیرہ
ہے آپ کے ہونٹوں پہ جو مسکان وغیرہ
قربان گئے اس پہ دل و جان وغیرہ
بلی تو یونہی مفت میں بدنام ہوئی ہے
تھیلے میں تو کچھ اور تھا سامان وغیرہ
بے حرص و غرض فرض ادا کیجئے اپنا
جس طرح پولیس کرتی ہے چالان وغیرہ
اب ہوش نہیں کوئی کہ بادام کہاں ہے
اب اپنی ہتھیلی پہ ہیں دندان وغیرہ
کس ناز سے وہ نظم کو کہہ دیتے ہیں نثری
جب اس کے خطا ہوتے اوزان وغیرہ
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
گھوڑوں کی طرح بکتے ہیں انسان وغیرہ
ہر شرٹ کی بشرٹ بنا ڈالی ہے انورؔ
یوں چاک کیا ہم نے گریبان وغیرہ
………………
جوہر اور جواہر
اگر ہیں تیغ میں جوہر، جواہر ہیں خمیرے میں
ادھر زور آزمائی ہے، ادھر طاقت کے نسخے ہیں
مطب میں اور میدان دغا میں فرق اتنا ہے
وہاں کشتوں کے پشتے ہیں، یہاں پشتوں کے کشتے ہیں
………………
مزاحیہ غزل
بجٹ میں دیکھے ہیں سارے ترے
انوکھے انوکھے خسارے ترے
اللے تللے ادھار ترے
بھلا کون قرضے اتارے ترے
گرانی کی سوغات حاصل مرا
محاصل ترے، گوشوارے ترے
مشیروں کا جمگھٹ سلامت رہے
بہت کام جس نے سنوارے ترے
مری سادہ لوحی سمجھتی نہیں
حسابی کتابی اشارے ترے
کئی اصطلاحوں میں گوندھے ہوئے
کنائے ترے، استعارے ترے
تو اربوں کی، کھربوں کی باتیں کرے
عدد کون اتنے شمارے ترے
تجھے کچھ غریبوں کی پروا نہیں
وڈیرے ہیں پیارے، دلارے ترے
ادھرک سے لیا کچھ ادھر سے لیا
یونہی چل رہے ہیں ادارے ترے
………………
سپرمین
میں نے کہا کہ آپ نے روک لیا ہے کیوں ہمیں
اس نے کہا تم ایسی بات اپنی زباں پہ لائے کیوں؟
تم تو ہو صرف آدمی، ہم ہیں پولیس کے آدمی
بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم، کوئی گزر کے جائے کیوں
………………
ماہر خصوصی
سن کر بات معالج کی
کیوں نہ میں اس پر کر دوں رٹ
کھجلی پر یہ رائے دی
یو ول ہیو ٹو لو ود اِٹ
(you will have to love with it)
………………
اردوئے محلہ
بہت لا ضروری ہے معلوم کرنا
وہ رسا تڑا کر کدھر کو گئی ہے
ادھر چین سے آپ بیٹھے ہوئے ہیں
ادھر بھینس مدنظر ہو گئی ہے
………………
تمت بالخیر
ہے اب بچوں کی قلت پر پریشاں مغربی دنیا
وہاں بوڑھوں کی کثرت ہو گئی ہے پیر خانوں میں
عمل بہبودِ آبادی پہ کرکے دیکھ لو تم بھی
’’تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں‘
………………
ہوئی تاخیر تو …
اپنے لشکر لے کے اب تک وہ یہاں پہنچا نہیں
کچھ سبب ہوگا نا انکل سام کی تاخیر کا
انور اس وادی میں کوئی تیل کا چشمہ نہیں
اس لئے لٹکا ہوا ہے مسئلہ کشمیر کا
………………
ہکلی غزل
کَ کَ کیا گلہ زَ زَ زندگی جو صعوبتوں کا سفر ہوئی
غَ غَ غم نہیں یہ تہ آسماں جَ جَ جس طرح بھی بسر ہوئی
دَ دَ درد ناک غضب کی تھی دَ دَ داستانِ الم مری
کَ کَ کوئی بھی تو نہ تھی وہاں جَ جَ جس کی آنکھ نہ تر ہوئی
چ چ چپکے چپکے چلا کیا چ چ چشم ناز سے سلسلہ
نہ کسی کو بھی کسی بات کی ک ک کانو کان خبر ہوئی
ر ر روشنی بھی ذرا ذرا ت ت تیرگی بھی ذرا ذرا
ک ک کچھ بھی مجھ کو خبر نہیں ش ش شام ہے کہ سحر ہوئی
ہے نمود فصل بہار کی ج ج جا بجا م م مختلف
ل ل لال چہرہ گل ہوا س س سبز شاخ شجر ہوئی
غ غ غیر کو بھی وہی ملا جو ترا نصیب تھا انورؔ
ی ی یار کی نظر کرم نہ ادھر ہوئی نہ اُدھر ہوئی
………
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

