Latestاردوتاریخجہاں نمامذہب

برصغیر میں مساجد کی تعمیر و تاریخ

Share your Love

تحریر: فیضان عباس نقوی

بر صغیر میں مساجد کی تعمیر کی سب سے قدیم اور معتبر تاریخ تیرہویں صدی عیسوی کے آخری عشرہ میں ملتی ہے، اس سے قبل کا حال زیادہ معلوم نہیں اگرچہ تاریخی مآخذ سے اندازہ ہوتا ہے کہ آٹھویں صدی عیسوی میں جب مسلمانوں نے ہندوستان کے ساحل پر قدم رکھا تو یہاں عام مسجدیں ہی نہیں بلکہ جامع مسجدیں بھی بنوائیں لیکن ان میں سے کسی مسجد کے آثار نہیں ملتے یہاں تک کہ سلطان محمود غزنوی کے زمانے کی مسجد تو درکنار کوئی مسلم عمارت بھی موجود نہیں ہے حالانکہ وہ اور ان کے جانشیں گیارہویں اور بارہویں صدی عیسوی میں مدتوں پنجاب پر حکمرانی کرتے رہے۔  

 بھارت سے تعلق رکھنے والے محقق عارف عزیز کے مطابق ہندوستان میں سب سے پرانی مسلم عمارتیں بارہویں صدی کے آخر کی ملتی ہیں جب محمد غوری یہاں حکمراں تھا، یہ وہ زمانہ ہے جب دوسرے ملکوں میں مسلم فن تعمیر اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا، دیگر ممالک کی طرح ہندوستان میں بھی مسلم معمار اپنے فن کے جوہر دکھانے لگے تھے لیکن ان کے سامنے سب سے بڑی دشواری یہ تھی مقامی فن تعمیر کا کوئی خاص نقشہ موجود نہیں تھا لہٰذا روایتی مسلم فن تعمیر کے اسلوب سے واقف ہونے میں انہیں تاخیر ہوئی۔ پھر بھی ان کی کاریگری کے مختلف نمونے مساجد کی شکل میں وجود میں آئے اور ان کی سب سے پرانی مثالیں دہلی کی ’’مسجد قوت الاسلام‘‘ اور اجمیر کی ’’ڈھائی دن کا جھونپڑا مسجد‘‘ کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہ بارہویں صدی عیسوی کے آخر میں تعمیر ہوئی ہیں اور ان میں مقامی رنگ کے ساتھ مسلم فن تعمیر کو شیروشکر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سلطان شمس الدین التمش کی تعمیرکردہ مسجد قوت الاسلام کے بارے میں تو یہ بھی کہا جاتا ہے۔

کہ قطب صاحب کی لاٹھ حقیقت میں مسجد کا بے نظیر مینارہ ہے جو انسانوں کو محو حیرت کر دیتا ہے، لیکن مسجد کے منبر و گنبد میں کوئی خاص صناعی و فنکاری نہیں ملتی بلکہ محراب میں بجر کا پتھر نہیں رکھا گیا اور نہ گنبد کے پتھر کنارے سے کنارہ ملا کر جوڑے گئے جو بعد کے فنی نقطہ نظر سے ایک صحیح طریقہ تھا۔ اس کے بجائے توڑے کے طرز میں وہ بنے ہوئے ہیں۔ جو طریقہ اس وقت ہندوستان میں رائج تھا، اسی طرح کسی عمارت پر مدون گنبد کی چھت ڈالنا جس کے نیچے سہارے کے لئے اندرون زاویے پر ڈاٹ یا محرابوں کا (تقاطع) ہو، مقامی کاریگروں کے لئے قطعی نیا طریقہ تھا۔ دہلی اور اجمیر کی مذکورہ مساجد کی اسی عارضی اور غیر یقینی شکل سے واضح ہوتا ہے کہ اس وقت تک ملکی اور بیرونی فن تعمیر میں مماثلت پیدا نہیں ہو سکی تھی اسی لئے ان مساجد کی عمارتوں میں مقامی رنگ و آہنگ چھایا ہوا ہے۔

یہ شمالی ہند کا حال ہے لیکن جنوبی ہندوستان میں کیونکہ عربوں کی آمد اشاعت اسلام سے کافی پہلے ہو گئی تھی اور دنیا کے دیگر علاقوں کے تاجروں کی طرح عرب بھی اپنا مال لا کر فروخت کرنے لگے تھے اس لئے قبول اسلام کے بعد مقامی آبادی سے ان کے تعلقات میں ایک نیا اضافہ یہ ہوا کہ وہ تجارتی مال کے ساتھ اسلامی تعلیمات بھی ہندوستان لانے لگے اور ان کو ہندوستان کی قدیم قومیں متاثر ہو کر اسلام قبول کرنے لگیں۔

عربوں کی تجارتی سرگرمیوں کا پہلا مرکز جنوبی ہند کا مالا بار علاقہ بنا لہٰذا فطری طور پر اسلام کی اشاعت بھی وہاں سب سے پہلے ہوئی۔ہندوستان کی قدیم قوموں سے عربوں کا ربط و تعلق بڑھا تو انہوں نے اسلام بھی قبول کیا۔ پھرعرب تاجروں کی ایک خاص تعداد یہاں آباد ہو گئی، اسی زمانے میں مسجدوں کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہوا۔ چنانچہ مالا بار کے ساحل پر گیارہ مساجد کی تعمیر کا ذکر تاریخی کتب میں ملتا ہے اور ان میں کدانگلور(کرینگانور) کی مسجد کو اولیت حاصل ہے جو ہندوستان میں پہلی مسجد شمارہوتی ہے، بعد میں کولم(کوٹلان) بیوبائی، مورادی گندہ رید، چالیٹ( کالی کٹ)، ہاگنور(منگلور) اور کانجر کوٹ( کاسرکوڈ) میں مساجد بنائی گئیں ’’تاریخ فرشتہ‘‘ کے حوالے سے خواجہ حسن نظامی نے اپنی مشہور کتاب ’’ہندوستان میں اسلام کیونکر پھیلا‘‘ میں اس کی تفصیل نقل کی ہے۔ یہ چھٹی صدی ہجری کے وسط کا دور ہے۔

دوسری طرف شمالی ہند میں تیرھویں صدی کے آغاز پر جو مساجد تعمیر ہوئیں ان میں مسلم فن تعمیر کا حصہ نمایاں نظر آتا ہے، نہ صرف عمارت سازی بلکہ نقش و نگار میں بھی حیرت انگیز تبدیلی ملتی ہے۔اس کی ایک ترقی یافتہ شکل دہلی کی جماعت خانہ مسجد ہے۔ بعد کے دو سو برسوں میں جہاں تعمیری سرگرمیوں میں اضافہ ہوا وہیں مساجد کی ساخت اور ہیئت میں بھی تبدیلی رونما ہوئی، خاندان تغلق بالخصوص فیروز شاہ تغلق کے عہد (1351-1388ء) میں مساجد کی تعمیر کا فن جس سادگی کی طرف مائل ہوا آنے والے ڈیڑھ سو سال میں سیدوں، لودھیوں اور سوریوں نے اس میں کافی تنوع پیدا کردیا یہاں تک کہ 1526ء میں خاندان مغلیہ کا عہد شروع ہوا جو ہندوستان کے فن تعمیر کی تاریخ کا سنہرا دور ہے۔ حالانکہ اس کے نمایاں اثرات اکبر کے عہد تک نہیں ملتے، وجہ ظاہر ہے کہ ہمایوں ہوں یا بابر اور اکبر، ان کی توجہ اپنے زمانے کے سیاسی جھگڑوں اور حریفوں سے مقابلہ آرائی پہ مرکوز رہی لہٰذا اس عہد کی ایسی کوئی مسجد( سوائے بابری مسجدکے )نہیں ملتی جو فنی لحاظ سے قابل ذکر ہو۔ سوائے فتح پوری سیکری کی جامع مسجد کے جو اگرچہ روایتی نمونے پر تعمیر ہوئی ہے لیکن اس کا گنبد ایک امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے بعد دور جہانگیری اور شاہجہانی کی مساجد میں فن کی جو باریکی اور دلکشی ملتی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے، اس کا سب سے روشن نمونہ جامع مسجد دہلی ہے۔

جو شاہجہاں نے بنوائی اور دنیا کی منتخب مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ تاج محل کے بعد لال قلعہ اور جامع مسجد دہلی وہ عمارتیں ہیں جو تعمیر کے تعلق سے شاہجہاں کے ذوق کو یاد دلاتی رہیں گی۔ جب کہ اورنگ زیب کے زمانے کی ایک پرشکوہ مسجد لاہور کی بادشاہی مسجد ہے، اس کی کئی علامتیں دہلی کی جامع مسجد سے ملتی جلتی ہیں۔ مسلم فنکاروں اور عمارت سازوں نے مسجد قوت الاسلام، مسجد پانڈوا(بنگال) دولکا، بھروچ، کیمبے اور دولت آباد کی مساجد، دھار میں لاڈ کی مسجد اور جونپور کی لال دروازہ مسجد میں جو نازک پتھر کی جالیاں بنائی گئیں، ان میں پتھر کی موم کی طرح ڈھال دینے کا کمال نظر آتا ہے، اسی کے ساتھ مساجد کی دیواروں، محرابوں اور چھتوں پر قرآنی آیات کی کندہ کاری مذہبی جمالیات کے ناقابل فراموش شاہکار ہیں۔

اسی طرح جنوبی ہند(دکن) میں سلطان صلاح الدین خلجی اور محمد تغلق کے زمانے سے اسلامی فن تعمیر کا آغاز ہو گیا تھا۔ گلبرگہ کے بہمنی بادشاہوں نے اس کو فروغ دے کر قلعے اور محلات کے ساتھ ساتھ جہاں شاندار مقبرے اور مدرسے تعمیر کرائے، وہیں عادل شاہی حکمرانوں اور سلاطین نے بیجاپور میں خوبصورت مساجد کے علاوہ حیدر آباد کی مکہ مسجد سے بڑی شاہی جامع مسجد بنوائی، پھر بھی دکن کی مساجد میں مکہ مسجد کو جو مقام حاصل ہے وہ قطب شاہی فرمانروائوں کا امتیاز ہی کہا جائے گا۔300 برس گزر جانے کے باوجود چونے اور پتھر کی یہ مسجد اپنے بنانے والوں کے نفاست ذوق اور صنعتی عزائم کی آئینہ دار ہے، علاوہ ازیں دکن کی ہی جامع مسجد اورنگ آباد، گجرات کی جامع مسجد احمد آباد، برہان پور کی عادل شاہ فاروقی مسجد اور رائچور کی ایک مینار مسجد جسے ملک عنبر نے 1514ء میں تعمیرکرایا تھا، اپنے خاص طرز تعمیر کے باعث اس قابل ہیں کہ انہیں ہندوستان کی اہم مساجد میں شمار کیا جائے۔

ہندوستان میں انیسویں صدی کے اختتام پر تعمیری امور کا آغاز اور بیسویں صدی کی تین چوتھائی میں پائۂ تکمیل تک پہنچنے والی ایک مسجد بھوپال کی تاج المساجد ہے جس کا ایشیاکی مایہ ناز مساجد میں شمار ہوتا ہے۔اس مسجد کے علاوہ کلکتہ کی مسجد ناخدا، بھوپال کی صوفیہ مسجد اور بنگلور کی جامع مسجد بھی وہ عبادت گاہیں ہیں جو اپنی شان اور تعمیری خصوصیات کے باعث یاد رکھی جائیں گی۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *