تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی
شاعر: پرنم الہ آبادی
اصل نام محمد موسیٰ ہاشمی ، تخلص پرنم تھا۔ والد کا نام حاجی محمد اسحاق تھا۔
پرنم الہ آبادی 1940ء میں بھارت کے شہر الٰہ آباد میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے وقت ہجرت کرکے کراچی آ بسے لیکن بعد میں ذاتی مسلئے کی وجہ سے لاہور چلے گئے۔ لاہور کےانارکلی میں مستقل قیام پزیر ہو گئے۔ 1958ء میں استاد قمر جلالوی کی شاگردی اختیار کی اور شاعری میں جداگانہ اسلوب اپنایا۔
بھارتی اور پاکستانی فلموں کے لیے بول لکھنے کے علاوہ انہوں نے معروف قوالی “بھر دو جولی میری یا محمد” بھی لکھی جس کو صابری برادران نے پیش کیا۔ پرنم الہ آبادی نے شاہکار غزل “تمہیں دلگی بھول جانی پڑے گی” بھی لکھی ہے جس کو نصرت فتح علی خان نے گایا تھا۔
پرنم الہ آبادی نے 29جون2009ء کو وفات پائی لاہور میں سپرد خاک ہوئے۔
پرنم الہ آبادی درویش صف انسان تھے جو تمام عمر شہرت اور خود نمائی سے دور بھاگتے رہے، انہوں نے گوشہ نشینی کی زندگی بسر کی اور درویشی میں سلطانی کرتے رہے ، جو شہرت ان کے نعتیہ اور عارفانہ کلام کو ملی وہ بہت کم شعراء کے حصے میں آئی ہے۔
استاد پرنم الہ آبادی نے جو مشہور زمانہ قوالیاں، حمدیہ، نعتیہ اور صوفیانہ کلام لکھا، اسے برصغیر کے نام ور قوالوں اور گلوکاروں نے گایا. کچھ یہ ہیں.
(حمد) اللہ ہواللہ ہو، عارف لوہار،
بھردو جھولی مری یامحمد، سلطان حرم ہوجائے کرم، غلام فرید صابری ،
رسولوں کے سردار تشریف لائے۔ راحت فتح علی خان،
پروردگار موت نہ میری حرام ہو۔عزیز میاں قوال،
جلوؤں سے محمد روشن میرا سینہ ہے، عزیز میاں قوال،
کتنا خدا کو میرے محمد سے پیار ہے، چھوٹے صالح محمد قوال،
بن کے آیا ہوں سوالی تم ہو دُکھیوں کے والی۔ استادنصرت فتح علی خان،
داتا تیرا دربار ہے رحمت کا خزانہ، استاد نصرت فتح علی خان،
کربلا میں کیا قیامت کی گھڑی ہوگی، استاد نصرت فتح علی خان،
لال مری پت رکھیو بھلا، رونا لیلٰی، میڈم نور جہاں، استاد نصرت فتح علی خان،
تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی، استاد نصرت فتح علی خان۔
کچھ منتخب کلام
ہم نے پھولوں کو جو دیکھا لب و رخسار کے بعد
پھول دیکھے نہ گئے حسنِ رخِ یار کے بعد
——
درد و غم اور اُداسی کے سوا کون آتا
جن کو بھیجا تھا مرے گھر میں خدا نے ، آئے
——
اب موت ہی لے جائے تو لے جائے یہاں سے
کُوچے سے ترے ہم سے تو جایا نہیں جاتا
——
گیسو رُخِ روشن سے وہ ٹلنے نہیں دیتے
دن ہوتے ہوئے دھوپ نکلنے نہیں دیتے

