ادیبات و شخصیات: ڈاکٹر فرمان فتح پوری
ڈاکٹر فرمان فتح پوری صف اول کے محقق و نقاد ہیں، دو سو سے زائد قیمتی مقالات اور دو درجن سے زائد بلند پایہ کتابوں کے مصنف ہیں۔
غالب، اقبال، انیس، حسرت موہانی، محمد علی جوہر اور نیاز فتح پوری پر ان کی فکر انگیز مستند کتابیں ہیں۔قومی زبان اور تحریک پاکستان کے تعلق سے سرسید، قائداعظم اور ہندی اردو تنازع کے زیر عنوان، اردو اور نگریزی میں ان کی دستاویزی مطبوعات، سیاسی و ادبی تاریخ میں حوالہ بن گئی ہیں۔

زبان و مسائل زبان، شاعری و اصناف شاعری، ادبی تاریخ و تذکرہ نگاری اور اردو فکشن، ان کی تحقیق و تنقید کے خاص موضوعات اور ان کی وسعت مطالعہ کے امتیازی نشانات ہیں۔ڈاکٹر فرمان فتح پوری پاکستانی جامعات کے پہلے استاد ہیں جو اردو زبان و ادب میں بیک وقت پی ایچ ڈی اور ڈی، لٹ کی اعلیٰ اسناد رکھتے ہیں۔ متعدد قومی اور بین الاقوامی اجتماعات میں شرکت کر چکے ہیں۔ ان کی گراں قدر علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں سب سے بڑے سول اعزاز ستارۂ امتیازسے سرفراز کیا ہے۔ دیگر اداروں کے علاوہ کراچی یونیورسٹی سنڈیکیٹ بھی انہیں متعدد بار نقد انعام اور طلائی تمغہ دے چکی ہے۔
ڈاکٹر فرمان فتح پوری 1958ء میں شعبۂ اردو جامعہ کراچی سے منسلک ہو کر پروفیسر اور چیئرمین کے منصب تک پہنچے۔1985ء میں وفاقی حکومت کی جانب سے ڈپوٹیشن پر اردو ڈکشنری بورڈ کے سیکرٹری اور چیف ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ پاکستان کی بیشتر جامعات اور علمی و ادبی اداروں کی مختلف کمیٹیوں کے رکن اور پی ایچ ڈی کے طلبہ کے نگراں ہیں۔
زیر تبصرہ کتاب ’’ادبیات و شخصیات‘‘ میں جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے چند ایسی اہم و عظیم شخصیات کے سوانح اور علمی و ادبی خدمات کو موضوع گفتگو بنایا گیا ہے، جنہوں نے اردو کے تعلیمی و ادبی، علمی و فکری اور ثقافتی و تہذیبی افق پر لازوال نشانات، یادگار چھوڑے ہیں، ان کی زندگی اور ان کے چھوڑے ہوئے قلمی سرمایہ نے بیسویں صدی کے اردو ادب اور ادیبوں پر بہت گہرا اثر ڈالا ہے اتنا گہراکہ آج ہم، اردو زبان و ادب کے خواہ کسی پہلو پر بھی، قلم اٹھائیں یا بحث کریں، کسی نہ کسی نہج سے، ان شخصیات کا تذکرہ ناگزیر ہو جائے گا۔ ان کی رہنمائیاں وقتی نہیں دائمی ہیں اور ان کے فیضان سے صرف، ہم اور آپ نہیں بلکہ آئندہ نسلیں بھی تادیر مستفیض ہوتی رہیں گی۔
بقول مصنف ادبیات و شخصیات کی ساری تحریریں تحقیقی و تنقیدی نوعیت کی ہیں۔ پھر بھی مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ ان کی نوعیت، معروضی سے زیادہ موضوعی اور تاثراتی ہے، یوں بھی میرے زاویہ نظر سے ادب سے متعلق کوئی تحریر، صد فیصد معروضی نہیں ہو سکتی۔ البتہ تاثراتی تحریروں کیلئے ضروری ہے کہ وہ حقائق سے اپنا رشتہ جوڑے رکھیں اور ایسی مبالغہ آرائیوں سے اپنے دامن کو آلودہ نہ کریں جوادب اور ادبی شخصیات، دونوں کو مجروح کرتی ہیں، اس کتاب کی تحریریں، اسی نوعیت کی ہیں، ان میں جو کچھ کہا گیا ہے سچ کہا گیا ہے، وہی کہا گیا ہے جو کچھ دیکھا اور سنا گیا ہے اور وہی لکھا گیا ہے جو کچھ حقیقتاً محسوس کیا گیا ہے۔
اس کتاب کے مضامین کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ان میں مذکورہ شخصیات میں سے ہر ایک کا قدو قامت بہ اعتبار فکر و نظر اور علم و فن اتنا بڑا ہے کہ میں ان کی ہمسری و ہم عصری کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ عمر میں بھی یہ سب، مجھ سے اتنے بڑے تھے کہ میرا شمار، ان کے بعد کی دوسری، تیسری نسل میں ہونا چاہئے پھر بھی یہ بات میرے لئے محض یادگار نہیں بلکہ باعث مسرت و افتخار ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو میں نے دیکھا ہے، ہر ایک سے ملا ہوں، ہر ایک سے باتیں کی ہیں، ہر ایک کی باتیں اپنے کانوں سے سنی ہیں، ہر ایک سے میرے نیاز مندانہ روابط رہے ہیں اور ہر ایک نے صرف میرے ذہن پر ہی نہیں بلکہ میری عمر کے سارے ذہنوں پر، زبان و ادب، تعلیم و تاریخ، ثقافت و تہذیب اور علم و فن کے حوالے سے بہت گہرے نقوش یادگار چھوڑے ہیں اتنے گہرے کہ اگر ہم انہیں بھلانا بھی چاہیں تو بھلا نہیں سکتے۔
ڈاکٹر فرمان فتح پوری کہتے ہیں مولوی عبدالحق، اردو زبان کے جاں باز سپاہی، اور کلاسیکی ادب کے بلند پایہ مدون و محقق کے رشتے سے، مولانا حسرت موہانی اپنی سیرت و کردار کی پختگی، حق گوئی و بے باکی اور اردو غزل میں تہذیب رسم عاشقی، کو معتبر بنانے کے حوالے سے، علامہ نیاز فتح پوری حریت فکر و آزادی قلم کے علمبردار ہونے کی حیثیت سے، مولانا حامد حسن قادری، ماہر فن تاریخ گوئی اور داستان تاریخ نثر اردو کے مصنف ہونے کے توسط سے، ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی سائنس اور سائنسی ایجادات میں مشرق کا نام اونچا کرنے کے حوالے سے پروفیسر حمید احمد خاں تعلیم و ادب کے رشتے سے، پروفیسر مجنوں گورکھپوری اور ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری جدید تنقید و ترقی پسند تحریک کے حوالے سے، سید عابد علی عابد مشرقی شعریات کی تفہیم و تنقید کی نسبت سے اور ڈاکٹر محمود حسین مشرقی تہذیب و روایات کے امین اور ماہر تاریخ و تعلیم کی حیثیت سے، نہ صرف یہ کہ ہماری نگاہوں میں معزز و محترم ہیں بلکہ اپنے اپنے میدانوں میں نہایت ممتازو منفرد مقام کے مالک ہیں اور پاکستان کے باہر کی دنیا میں بھی پہچانے جاتے ہیں ۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے سر سید احمد خاں، مولانا حالی، مولانا شبلی، ڈپٹی نذیر احمد، مولوی چراغ علی اور محمد حسین آزاد وغیرہ جیسے جید علمائے علم و ادب کی آنکھیں دیکھی ہیں، براہ راست ان سے کسب فیض کیا ہے اور زبان و ادب کے حوالے سے ان کے تحقیقی وارث و جانشین کہلانے کے مستحق ہیں۔
ڈاکٹر فرمان فتح پوری لکھتے ہیں ’’ادبیات و شخصیات‘‘کے مضامین قتاً فوقتاً لکھے گئے ہیں اس لئے ان میں کہیں کہیں پیوندکاری اور شترگربگی کے نشانات بھی ملیں گے۔ ان نشانات کو دور کرنے کیلئے، ان مضامین پر از سر نو ایک نگاہ ڈالی گئی ہے۔ حک و اصلاح اور ضروری ترمیم و اضافہ کے ذریعے انہیں تازہ کاری سے ہمکنار کرنے کی کوشش کی گئی ہے، ویسے بھی، یہ مضامین ہمیشہ تازہ بہ تازہ شمار کئے جائیں گے، اس لئے کہ ان میں جو کچھ کہا گیا ہے اور جن شخصیات کے بارے میں کہا گیا ہے وہ سب کے سب اتنی معزز و موقر اور مستند و مستحکم ہیں کہ میرے ہم عصروں ہی کو نہیں، بلکہ میرے بعد کی نسلوں کو بھی اپنی ذہنی و فکری بقا و ارتقا کیلئے اور اپنی تہذیبی و ثقافتی اور تعلیمی اور تہذیبی ورثے کے تحفظ کیلئے، ان کو پڑھنا پڑے گا اور ان کے خیالات و افکار سے خود کو ہم رشتہ رکھنا ہوگا۔
’’ادبیات و شخصیات‘‘ میں شامل مضامین کی ایک بہت نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ان میں جن شخصیات کا ذکر آیا ہے وہ اپنی سیرت کی پختگی، کردار کی استقامت، علم و فضل کی وسعت، ملک و ملت سے وابستگی اور اپنی تہذیبی تاریخ سے غیر معمولی لگائو کی بنا پر حد درجہ متنوع ہیں۔
سائبان
ایک دور تھا جب ادبی جرائد کو ایک اعلی مقام حاصل تھا ۔خاص طور پر ستر اور اسی کی دہائی میں ان کے قارئین کا حلقہ بہت وسیع تھا تاہم وقت کے ساتھ ادبی جرائد ہی نہیں کتاب کے پڑھنے والے بھی سکڑ کر رہ گئے اوربد قسمتی کی بات ہے کہ معاشرے میں سنجیدہ ادب کی جگہ گھریلو مسائل پہ مبنی سطحی نوعیت کے ڈراموں نے لے لی اور خواتین نے اپنے پسندیدہ رسائل تک پڑھنا ترک کر دیے۔ معروف ادیب اور شاعر حسین مجروح نے کمال محنت سے سہ ماہی ’’سائبان‘‘ کی اشاعت کا بیڑہ اٹھا یا ہے جس پہ انہوں نے وہی محنت کی ہے جو ایک زمانے میں ’’فنون‘‘ اور’’ ادب لطیف ‘‘جیسے جرائد پہ ہوتی تھی۔کتابی سلسلے’’ سائبان‘‘ کا یہ شمارہ سوئم ہے جسے واقعتاً ادب و جمالیات کا آ ئینہ کہا جا سکتا ہے۔سرورق اور اس کا گیٹ اپ دیکھ کربھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس کی تخلیق پر بہت محنت کی گئی ہے۔یہ سہ ماہی پرچہ دراصل سائبان تحریک کا وکیل ہے۔ سرورق سے اگلے صفحے پر اس تحریک کے مقاصد و ترجیحات درج ہیں جو بہت جائز اور ضروری ہیں لیکن جو ترجیح سر فہرست ہے، وہ ہے،’’ کتاب پڑھیں اور خرید کر پڑھیں۔ ‘‘ اور ایسے رویوں کو اپنا کر ہی کوئی معاشرہ سدھار کی جانب گامزن ہو سکتا ہے۔’’ من و تو‘‘ کے تحت ’’ہر کد کہ خدمت کرد۔‘‘ کے عنوان سے حسین مجروح نے جو اداریہ تحریر کیا ہے وہ نہایت قابل غور و عمل ہے۔
یہ کوئی روایتی قسم کا عام سا اداریہ نہیں بلکہ ادب کے ایک تخلیق کار کی ہم سب سے ایک پر خلوص اپیل ہے۔ہر جریدے کی طرح اس کا آغاز بھی حمد سے ہوا ہے۔اس شمارے میں ریاض مجید کی حمد شامل ہے جبکہ عنایت عظمٰی کے نام سے نعتیہ نظم ہے جس کے خالق علی محمد فرشی ہیں اس حصے کو’’ سپردگی‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ’’فسانے صد گمانے‘‘ کا حصہ افسانوں پہ مشتمل ہے اس میں نو کربچہ (طاہرہ اقبال)، دریائے درد کے پار (خالد فتح محمد)، گھاس (محمود احمد قاضی) اوردھرتی کی خوشبو(آغا گل) کے افسانے شامل ہیں۔’’کیچڑ میں کنول ‘‘کے عنوان سے شامل حصے میں ’’گاما مند ریاں والا‘‘(عرفان جاوید) بھی کمال کی تحریر ہے۔’’وحشت کے پھول‘‘ کے نام سے غزلیات کا حصہ ہے جس میں انور شعور، سحر انصاری، خورشید رضوی، جلیل عالی، غلام حسین ساجد، نسیم سحر، شاہدہ حسن، علی اکبر عباس، مسعود احمد، کبیر اطہر، شناور اسحاق، اویس ملک، نبیل احمدنبیل، حماد نیازی اور نیلم ملک کی شاعری پڑھنے کے لائق ہے۔’’تلاش کا حاصل‘‘ کے نام سے مصور رے برن اور اکبر الٰہ آبادی( ایک نایاب کتابچہ کی کہانی) انتہائی دلچسپ ہے جس میں تحقیق کی ذمہ داری احمد صفی نے نبھائی ہے۔’’یادوں کے ہچکولے‘‘ کے سلسلے میں سرفراز سید کا مضمون ’’نیرہ نور، چلی گئی ،بہت دور‘‘ بھی شامل ہے۔دیگر سلسلوں کی بات کریں تو ان میں ’’رنگ باتیں کریں‘‘ میں منور محی الدین ’’چغتائی کا فن اور مینرازم جبکہ’’توشہ خاص‘‘ محمد خالد اختر کے نادر مکاتیب مع حواشی (ڈاکٹر خالق تنویر) بہت عمدہ ہیں ۔انہی کے ساتھ’’سوانیزے پہ حیرت‘‘ کے عنوان سے شامل کی گئی نظمیں انتہائی شاندار ہیں ۔
کشور ناہید،سرمد صہبائی، علی محمد فرشی، نسیم سید، پروین طاہر، ارشد نعیم، اویس ملک اور ناہید قمرکا کلام متاثر کن ہے۔’’ لو دیتی روشنائی‘‘میں فکر انگیز مضامین شامل ہیں ۔’’سر، تال اور انسان (ڈاکٹر جواز جعفری)،پاکستان میں فن تعمیر کا ارتقاء(ڈاکٹر غافر شہزاد) اورجمال فلسفہ (ظفر سپل) بھی عمدہ مضامیں ہیں۔’’کان نمک کے ‘‘عنوان سے خالد عرفان کی منظومات بھی پڑھنے کے لائق ہیں۔’’مٹی کی مہک‘‘ کے نام سے سندھی،پنجابی،سرائیکی اور براہوی کہانیوں کے تراجم بھی بہت محنت سے کئے گئے ہیں جبکہ غیر ملکی تخلیقات کے تراجم بھی با کمال ہیں ۔یوں اس ادبی جریدے میں شامل ہر تحریر معیار کے اعتبار سے دوسری تحریر سے بڑھ کر ہے۔
دوسرا عشق
’’دوسرا عشق ’’ قیصر عباس صابر کا پہلا ناول ہے قبل ازیں وہ مختلف موضوعات پہ متعدد کتب تحریر کر چکے ہیں ۔رضی الدین رضی کتاب میں موجود اپنے تفصیلی مضمون میں لکھتے ہیں کہ قیصرعباس صابر کو پہلے عشق سے دوسرے عشق کے مراحل طے کرنے میں کتنا عرصہ لگا یہ تو ہمیں معلوم نہیں لیکن اس کے ناول کو میں نے ایک ہی روز میں بغیر سانس لیے پڑھ ڈالے۔اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مدتوں بعد کسی کتاب نے مجھے اس طرح اپنے حصار میں لیا۔ ناول کی خوبی یہ ہے کہ قیصر عباس صابرکی طرح خود اس کی رواں دواں تحریر نے میرا ہاتھ تھام لیا۔ ناول میں قیصر عباس ایک جیتے جاگتے کردار کی طرح خود موجود ہے۔ وہ ملتان کا رہنے سوالا ہے اس لئے ملتان کی سڑکیں ،اخبارات کے دفاتر، یہاں کی سیاست، سب کچھ اس ناول میں دکھائی دیتا ہے۔کہیں وہ کلیمنٹ جونز کا تذکرہ کرتاہے، توکہیں اسے اپنے دیگر اساتذہ یاد آتے ہیں۔ وہ بسوں اورویگنوں میں کبیروالاسے موہری پور تک کا سفر کرتا دکھائی دیتاہے۔ تانگوں، رکشوں اور ویگنوں میں چونگی نمبر9اور بوسن روڈ آتا ہے۔
گھنٹوں گول باغ میں بیٹھتا ہے۔ مزارات پر جاتا ہے۔قلعہ پر بیٹھ کرشہر ملتان کی وسعت کودیکھتا ہے، نوگزی قبروں کی تفصیل بیان کرتا ہے اور اپنے عہد کے بہت سے واقعات کو کہیں سرسری اورکہیں تفصیل کے ساتھ اس ناول کاحصہ بناتا چلا جاتا ہے۔ کہیں وہ حقیقی کرداروں کو کیموفلاج کردیتا ہے اورکہیں چھپے ہوئے کرداروں کو بے نقاب کرتا دکھائی دیتا ہے۔کمال یہ ہے کہ وہ خود کوبھی مکمل آشکارہونے نہیں دیتا۔قاری کو اسی شش وپنج میں رکھتا ہے کہ قیصر عباس جہاں خود کو موجودبتارہا ہے وہ وہاں خود بھی ہے یا تخیل کے زور پرہی ساری کہانی تحریر کررہاہے۔شاہ شمس کامزاراوراس کی دھمال اس ناول کو شاہ شمس کے اس شہر سے جوڑتی ہے جس کے ساتھ سورج سوا نیزے پر آنے کی روایات پڑھنے اور سننے کو ملتی ہیں۔لیکن شاہ شمس سے وابستہ اس ناول میں مصنف کا اپنا کردارتبریز کے نام سے موجودہے۔وہ بہت ہنرمندی کے ساتھ بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کی کہانیاں ہمیں سناتا ہے۔ من وتو کی کیفیات کہیں ختم ہوتی دکھائی دیتی ہیں تو کہیں ہمیں دھمال ڈالتے ہوئے کردار وجد میں نظرآتے ہیں۔
اس کتاب میں ہمیں راشد رحمان کا نام توانسانی حقوق کے رہنما اورکارکن کے طورپر دکھائی دیتا ہے لیکن جس جنید حفیظ کے لیے راشدرحمان نے موت کوگلے لگایااس کانام اس کتاب میں ’’ جیل میں قید پروفیسر‘‘ کے طورپرہی درج کیاگیا ہے۔شاہ شمس سے عبداللہ شاہ غازی کے مزار تک اس ناول میں بہت سی کہانیاں اور بہت سے کردارموجود ہیں۔سیاست وغیرہ کے نام پر لوگوں کوکس طرح غلام بنایا جاتا ہے، کس طرح بہت سے کردار کسی دوسرے روپ میں کسی اورشہر اور کسی اورمقام پر موجودہوتے ہیں اورکس طرح محبت اپنے وجود کو تسلیم کرواتی ہے۔قیصر عباس نے دیہی زندگی اور کچی عمر کے پکے خوابوں کا پورا نقشہ اس ناول میں کھینچ دیاہے۔
فضہ اس ناول کی مرکزی کردار ہے جوکہتی ہے کہ عہد شباب بذات خود بغاوت کا دوسرا نام ہے۔ ایک پروفیسر بخاری ہیں جو فضہ میں کسی اورکو تلاش کرتے دکھائی دیتے ہیں اور فضہ کا والدمخدوم زوار ہے جو اس کی شادی سنان سے کرنا چاہتا ہے اورفضہ کی ماں عارفہ ہے جس نے ہمیشہ بہادری کے ساتھ حالات کامقابلہ کیا۔اورپھر فضہ کا نانا عبدالرحمن میمن ہے جو اس مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا ہے جن کے نزدیک مخدوم زوار جیسوں کوقتل کرنا کارثواب سمجھا جاتا ہے۔ یہیں کہیں باوا نیازی کا ایک کردار بھی ہے جو ناموں کے اعداد تلاش کرنے کا ہنر جانتاہے۔کسی معاشرے میں انتہا پسندی کس طرح فروغ پاتی ہے اس کا سارااحوال اس ناول میں موجودہے لیکن یہ کہانی کا صرف ایک رخ ہے۔مجموعی طور پر یہ ایک بھرپور ناول ہے جسے پڑھ کر قاری زندگی کی تلخ و شیریں حقیقتوں سے آ شنا ہوتا ہے۔
پاتال کی شام
’’پاتال کی شام‘‘ شاذیہ اکرم نایاب کا پہلا شعری مجموعہ ہے۔وہ عرصہ ذراز تک ریڈیو سے وابستہ رہیں۔ اخبارات و رسائل میں لکھتی رہی ہیں۔ ان کا تعلق شعبہ قانون اور قانون کی درس و تدریس سے بھی ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ ادبی ذوق بھی بہت بلند ہے۔
منصور آ فاق کتاب کے فلیپ پہ لکھتے ہیں کہ شاذیہ اکرم نایاب ایک خوبصورت شاعرہ ہیں۔ انہوں نے اپنے سچے جذبوں کا اظہار پوری سچائی سے کیا ہے۔ اپنی باطنی کیفیات کو زمانے کے مروجہ قواعد سے بلند ہو کر بیان کیا ہے۔ یادوں کے دریچے وا کئے ہیں اور ان کی خوشبو لہو میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی ہے۔
انہوں نے بے ترتیب دھڑکنوں سے نئے ردھم نکالے ہیں۔ مظہر ساہی رقمطراز ہیں کہ برصغیر میں بہت سی شاعرات گزری ہیں لیکن کسی شاعرہ کے پہلے مجموعے میں اتنی گہرائی، شستگی ، ترتیب، وزن، لفظی رکھ رکھائو، منجھا پن، نئے کلیے، نئے زاویے، مختلف زبانوں کے رنگین، لفظوں کا چنائو بیک وقت بہت کم نظر آیا ہے۔ شاعرہ کے اشعار، قطعات، چھوٹی بحر اور طویل بحر غزلیات، منظوم، آزاد نظموں نے ان کے مجموعے کو مزید چار چاند لگا دیئے ہیں۔ انہوں نے مشکل الفاظ کو بڑی آسانی اور ردھم سے استعمال کیا ہے۔
شاذیہ اکرم نایاب کی شاعری نہ صرف پاکستان بلکہ جہاں جہاں اردو زبان پڑھی اور سمجھی جاتی ہے ایک خوبصورت ترین اضافہ ہے ۔شاذیہ اکرم نایاب اپنے مختصر مضمون میں لکھتی ہیں کہ کبھی کبھی انسان کی خاموشی اسکے الفاظ بن جاتے ہیں اور کبھی الفاظ بھی خاموش ہو جاتے ہیں لکھنے کا سفر ختم نہیں ہوا لیکن وقت کے ذرد موسموں کی آڑ میں کہیں تھم سا گیا ہے، درد و انبساط ساتھ ساتھ چلتے ہیں کہیں حوصلہ شکستہ کہیں شانت سا لگتا ہے شاعری پسینے کی طرح جسم کو ہلکا اور دل و دماغ کی گھٹن میں تخفیف کر دیتی ہے شکوے سے بہتر ہے غبارِروح کو صفحہ قرطاس پر منتقل کر دیا جائے۔
وقت کا دھارا جتنا چاہے بہہ جائے کبھی محبتوں کے سفر میں بچھڑنے والوں کی یادیں معدوم نہیں کر سکتا، وہ رشتے کبھی نہیں بھول سکتی جو مجھ سے جدا ہو گئے۔ کچھ اور ایسے ہمنوا جن سے دل کی گہری وابستگی تھی جب نہیں رہے تو یہ رنگوں کا سفر پھیکا سا ہو گیا۔ ابصار عبدالعلی ریڈیو کی ممتاز شخصیت ہیں اور بہت شفیق استاد ہیں جنہوں نے انگلی سے پکڑ کر ادبی پگڈنڈی پر چلنا سکھایا ۔ افضال نقوی کی خوبصورت آواز نے میری شاعری کو سُر دیا اور میرے حوصلے کبھی پست نہیں ہونے دیے۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

